CrazyLatestNida e EmanRomantic

Faqeer e Muhabat by Nida e Eman Episode 5

Faqeer e Muhabat Episode 5 by Nida e Eman – cover
Language
Urdu

About this novel

Faqeer e Muhabat (Urdu: فقیر محبت) Episode 5 by Nida e Eman takes us to a Lahore hotel, where Khan meets his old partner Badar and is offered a contract on a young woman’s life. Meanwhile Sawabia returns from Turkey, Danain comes to invite the family to her wedding, and Hassan Sahib finally agrees to go.

At the mehndi, Dilawar Khan is reunited with his old friend Hassan, while Nayab Baloch slips into the haveli in Dilawar’s absence. At the baraat, Baran comes face to face with Jahanzeb, Rabail meets Jahanzeb’s new wife, and the night ends with a gunshot in the rain.

← Read Episode 4 · Episode 1

ناول: فقیر محبت
ازقلم: ندائے ایمان
میری ماں کے نام
پانچویں قسط

وہ بلند عمارت کے وسیع ہال میں آگے بڑھتا جا رہا تھا شاید وہ کوئی ہوٹل تھا وہ مضبوطی سے سفید فرش پر قدم جماتا جا رہا تھا یہ لاہور کا انتہائی پوش علاقہ تھا کھلی سڑکیں اور بلند وبالا جگمگاتی عمارتیں اس بات کا ثبوت تھیں وہ ہال بلکل سنسان تھا وہ اس سنسان ہال کو نظر انداز کرتا اپنے چہرے کو ایک سیاہ ماسک اور سیاہ پی کیپ سے چھپائے آگے بڑھتا گیا اور ایک لابی کی طرف مڑ گیا

اس لابی میں ترتیب سے لفٹس لگائی گئی تھیں وہ آگے بڑھتا ایک سنہری لفٹ میں داخل ہوگیا اور لفٹ میں موجود چھے نمبر کے بٹن کو دبا دیا

لفٹ کا دروازہ بند ہو گیا اور لفٹ اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگی

ایک ۔۔۔دو۔۔تین۔۔۔چار۔۔۔پانچ ۔۔۔۔۔چھے

لفٹ ٹن کی آواز سے کھل گئی وہ لفٹ سے باہر آگیا اس کے سامنے پھر ایک لابی تھی اس لابی میں ترتیب سے کمرے بنائے گئے وہ اس پتھریلی روش پر آگے بڑھنے لگا احتیاطی طور پر اسنے ایک بار اپنے چہرے کو پی کیپ سے مزید چھپا لیا اور لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ایک کمرے کے سامنے رک گیا دروازے پر مخصوص طریقے سے تین بار دستک دینے پر ایک درمیانے قد کے آدمی نے دروازہ کھولا اور اسے دیکھ کر اسے اندر آنے کے لیئے رستہ دیا

وہ آگے بڑھا اور پی کیپ کو اتار کر پھر ماسک کو بھی اتار دیا

وہ ایک بہت بڑا کمرا تھا ایک طرف جہازی سائز کا بیڈ رکھا گیا تھا اور اسکے سامنے تھوڑی دور سفید صوفہ سیٹ نفاست سے رکھا ہوا تھا وہ نپے تلے قدم اٹھاتا صوفوں کے قریب پہنچا وہاں پر پہلے ہی ایک شخص صوفے پر براجمان تھا اسے آتا دیکھ کر اس شخص کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی تھی جسے صاف دیکھا جا سکتا تھا

“یقین مانو خان مجھے سچ میں لگا تھا کہ تم اب یہاں نہیں آؤ گے لیکن کہیں نا کہیں مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ تم اپنے وعدوں سے نہیں مکرو گے”

وہ شخص گرمجوشی سے آنے والے کے ساتھ بغلگیر ہوا جبکہ وہ سیاہ جینز کے اوپر سیاہ جیکٹ زیب تن کیئے سنجیدہ تاثرات کے ساتھ اس سے مل رہا تھا جبکہ پی کیپ اور ماسک ابھی تک اسکے دائیں ہاتھ میں تھے

“وعدوں سے زیادہ مجھے کچھ عزیز نہیں اور رہی یہاں آنے کی بات تو اس بابت تم بخوبی جانتے ہو کہ باران خان مر سکتا ہے لیکن یہ کام نہیں چھوڑ سکتا”

وہ ایک صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ ماسک اور پی کیپ وہ سامنے میز پر رکھ چکا تھا

پہلے اسکے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری لیکن پھر وہ اپنے آخری جملے پر سنجیدہ ہو گیا

“مگر پھر بھی خان ایک سردار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ یہ کام کرے”

اس دراز قد آدمی نے میز پر رکھی بوتل سے حرام مشروب گلاس میں انڈیلنے کے لیئے ہاتھ آگے بڑھائے مگر اگلے ہی پل وہ رک گیا

باران خان اسے ہی دیکھ رہا تھا

“یار میں تو اسے نیچے رکھ رہا تھا”

اس شخص نے جلدی سے بوتل میز کے نیچے چھپا دی کیوںکہ وہ جانتا تھا کہ باران خان کو سخت نفرت تھی شراب سے اس لیئے اس نے سختی سے اسے بہت عرصہ پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ وہ اسکے سامنے کبھی شراب نہیں پیئے گا اور دو تین بار ٹوکنے کے بعد اور باران خان کی دھمکیوں کے بعد اس شخص نے کبھی باران کے سامنے شراب نہیں پی تھی ہاں البتہ وہ باران کی غیر موجودگی میں شراب کو پانی کی طرح استعمال کرتا تھا

باران کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا

اسنے یہاں وہاں دیکھا مگر اسے وہ درمیانے قد کا آدمی نظر نہیں آیا

اسنے سوالیہ بھوری آنکھیں اپنے سے پندرہ سال بڑے آدمی پر ڈالیں

“اسے رقم وصول کرنے جانا تھا اصفند انصاری نے کام کروا لیا اب رقم دینے میں اتنی پس و پیش کر رہا کہ میں نے تو صاف اکرم سے کہہ دیا ہے اگر وہ آج رقم نہ دے تو اسکو جہنم واصل کیئے بغیر وہ آئے مت ورنہ میں اسے جہنم واصل کر دونگا”

باران اسکی بات سن کر اسکو دیکھے گئے اور صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر آرام دہ سا بیٹھ گیا

“کیا ہوا” ؟

اس شخص نے خود کو اسے یوں دیکھتے پا کر استفسار کیا

“نہیں بس سوچ رہا تھا کہ تم جنت میں جاؤ گے کہ جہنم میں”

اسنے انتہائی سنجیدگی سے کہا جبکہ اسکا چہرا بلکل سپاٹ تھا

ہاہاہاہا

باران کی بات پر اس شخص کے بلند قہقہے نے اس ویران ہوٹل کی دیواروں تک کو ہلا دیا

“خان یہ وہ پہلا سوال ہے یا یوں کہوں کہ پہلا جملہ ہے جو تم نے مجھ سے کہا تھا

گیارہ سال پہلے جب تم پندرہ سال کے تھے جب تم نے پہلی بار اس کام میں قدم رکھا تھا”

وہ قہقہے کے درمیان بول رہا تھا

“ہاں مگر آج تک تم نے مجھے اس بات کا جواب نہیں دیا “

وہ ابھی بھی سنجیدہ رہا

بدر بھی سنجیدہ ہوا

“کیونکہ مجھے خود نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے گناہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں جہنم میں جاؤں گا مگر میرا دل مجھ سے کہتا ہے کہ میں جنت میں بھی جا سکتا ہوں ۔ مختصر یہ کہ میں خود کبھی اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکا بس دل و دماغ کے مابین گھوم رہا ہوں”

بدر نے خلا میں کچھ ڈھونڈنا چاہا مگر وہ اسے نہیں ملا

“یہ بات بلکل غلط ہے بدر۔۔۔۔۔ ہر انسان بخوبی جانتا ہوتا ہے کہ وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں کیونکہ انسان کو اسکے گناہوں اور نیکیوں کا علم ہوتا ہے”

اسکا انداز بلکل اٹل تھا

“توتم بتاؤ تم کہا جاؤ گے”؟

بدر محظوظ ہوا

میں بہت کمزور انسان ہوں بدر ۔۔۔۔ اگر میں جو جانتا ہوں وہ زبان پر لے آیا تو کہیں فرشتے اس پر مہر نا لگا دیں ؟

اسنے سوالیہ نظروں سے بدر کو دیکھا کہ کیا ایسا واقع ہو جائے گا

بدر نے کندھے اچکا کر اپنی لاعلمی کا اظہار کر دیا

” مجھے بتاؤ کوئی نیا کام ہے تو میں جلدی سے کام شروع کروں”

وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا پھر صوفے کی پشت سے سر ٹکاتے ہوئے بولا

” ہاں ایک کام ہے”

بدر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

” کیا ” ؟

اسنے اپنی آنکھیں موند لیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن قبل

وہ کچن میں مصروف تھی جب دروازے کی گھنٹی بجی تو وہ اپنا کام چھوڑ کر باہر کی طرف بڑھ گئی

“کون” ؟

میں ہوں رابیل

رابیل کے پوچھنے پر ثوابیہ کی بھرائی ہوئی آواز نے ایک پل کو رابیل کو اپنی جگہ پر ساکت کر دیا

مگر اسنے خود کو سنبھالتے ہوئے ایک لمبا سانس اندر کھینچا اور دروازہ کھول دیا

رابیل کو سب سے پہلے جو نظر آیا وہ تھا ثوابیہ کی آنکھوں میں بھرا وہ پانی جو یہ بتا رہا تھا کہ وہ سب جان چکی ہے

ثوابیہ نے آگے بڑھ کے رابیل کو گلے لگا لیا

اب اس کی ہلکی ہلکی سسکیاں سارے میں سنائی دے رہی تھیں جبکہ رابیل کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسا برتاؤ کرے

آپی آپ آ رہیں تھیں آپ نے بتایا ہی نہیں آپ تو ترکی جا کر ہمیں بھول ہی گئیں

رابیل ثوابیہ سے الگ ہوتے ہوئے

بولی تو صرف اتنا ہی وہ اب ثوابیہ کا ہاتھ تھامے اسے اندر لا رہی تھی

“رابیل مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے”

ثوابیہ رک گئی مجبوراً رابیل کو بھی رکنا پڑا جبکہ ابھی تک اسنے ثوابیہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا

“میں یہاں دانین کی شادی اٹینڈ کرنے آئی تھی مگر جب گھر گئی تو”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بولتے بولتے رک گئی

حسن صاحب اپنے کمرے سے چلے آ رہے تھے

“ثوابیہ ہمارے گھر میں اب اس بارے میں بات نہیں ہو گی”

انہوں نے ثوابیہ کے لیئے اپنی بانہیں پھیلاتے ہوئے کہا

وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے گلے جا لگی

“مجھے تو آپ نے بلکل ہی پرایا کردیا بابا کتنی بار ہماری بات ہوئی مگر کسی نے مجھے اس بات کی بھنک تک نہیں لگنے دی بابا کیا اب میں آپکی بیٹی نہیں رہی”

ثوابیہ روتی جاتی اور کہتی جاتی مگر حسن صاحب اور رابیل بس اسے دیکھے گئے وہ نہیں روئے شاید انہوں نے رونا چھوڑ دیا تھا

“ایسی کوئی بات نہیں ہے ثوابیہ کوئی بات ہوتی تو بتاتے”

وہ ابھی تک اپنے باپ کے سینے سے لگی ہوئی تھی

“میں نے بھی انسے یہی کہا مگر یہ تو روئے جا رہی ہیں “

یکدم کسی کی آواز پر وہ تینوں پلٹے

داخلی دروازے کے بیچو بیچ دانین کھڑی تھی شاید وہ ثوابیہ کے ساتھ ہی آئی تھی مگر کسی نے اس پر غور نہیں کیا تھا

وہ قدم قدم چلتی حسن صاحب کے سامنے آ کھڑی ہوئی نا جانے کیوں گلا شدید درد کرنے لگا اور آنکھوں میں گرم سیال بھرنے لگا

“چچا رابیل کو لے کر آ گئے اپنی اس بیٹی کا نہیں سوچا”

وہ بمشکل خود کو رونے سے روک سکی

“دانین میرا بچہ” حسن صاحب نے دانین کو بے اختیار گلے سے لگا لیا

اسی پل رابیل کی آنکھوں میں کچھ چمکا

جبکہ ثوابیہ حسن صاحب اور دانین کے ساتھ ہی کھڑی تھی

“چچا مجھے معاف کر۔۔۔۔۔”

“شششششش بس اب کوئی اس بارے میں کچھ نہیں بولے گا”

حسن صاحب نے دانین کو روک دیا وہ جو آنسو روکے کھڑی تھی دانین کو معافی مانگتے دیکھ روپڑی

رابیل!

دانین بھاگ کر اسکے گلے لگ گئی پھر چند سے زیادہ لمحیں وہ دونوں ایک دوسرے کو گلے لگا کر بے آواز روتی رہیں

رابیل دلہن کو کیوں رلا رہی ہو

حسن صاحب صوفے پر آ بیٹھے جبکہ رابیل دانین اور ثوابیہ انکی بات پر مسکرا دیں

“کب ہے شادی” ؟

وہ تینوں بھی صوفوں پر آ بیٹھیں

“کل مہندی ہے پرسوں شادی اور پھر ترسوں ولیمہ” دانین رابیل کو دیکھ کر بتا رہی تھی پھر اسنے اپنے چچا کی طرف دیکھا

“میں آپ سب کو لینے آئی ہوں چچا”

اسکی بات سن کر حسن صاحب اس سے نظریں پھیر گئے

“چچا اب آپ ایسے نہیں کر سکتے ثوابیہ آپی کی شادی پر آپ نے مجھ سے اور رابیل سے وعدہ کیا تھا کہ آپ ابھی تو یہ سفید کرتا پہن رہے ہیں مگر ہماری شادیوں پر آپ گہرے رنگ کے کرتے پہنتیں گے آپ نے وعدہ کیا تھا”

دانین نے انہیں انکا وعدہ یاد کرایا

” دانین بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مجھے نہیں پتہ اگر اپ لوگ نہیں آئے تو میں شادی نہیں کروں گی بس”

دانین منہ پھلائے بیٹھ گئی

اس لمحیں باقی تینوں افراد کو وہ بہت معصوم لگی وہی چھوٹی سی بچی جو گھر میں سب سے چھوٹے ہونے کے وجہ سے بات بات پر روٹھ جانا اپنا فرض سمجھتی تھی مگر پھر اس نے وقت کے ساتھ ساتھ ایسا کرنا چھوڑ دیا اور آج پھر وہ وہی بچی بن گئی تھی

“تم لڑکیوں کو کیا ہے جب تم سے بات کرو تو تم شادی سے انکار کر دیتی ہو”

حسن صاحب کو تعجب ہوا

“پہلے ثوابیہ پھر رابیل اور اب تم”

حسن صاحب سمیت سب انکی بات پر ہنس دیئے مگر رابیل سے ہنسا نہیں گیا کچھ تلخ یادیں ماحول میں گھٹن پیدا کرنے لگیں

پھر وہ سب لوگ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے رابیل انکی بات کا ہاں یا نا میں جواب دے دیتی بس اسکا دل یکدم ہر شے سے اچاٹ ہو گیا تھا

کوئی شخص ایک لمحے کو لہرا گیا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے کیا جتنی محبت اس نے کی تھی اس شخص سے کوئی کر سکتا تھا نہیں بلکل نہیں اسکے دل نے فوراً انکار کر دیا مگر قدرت کی ستم ظریفی تو دیکھیئے وہ شخص ریت کی طرح پھسل گیا تھا رابیل کے ہاتھ سے پتہ ہے جب جان نکلتی ہے تو کیسا لگتا ہے جیسے باریک کپڑے کو یکلخت کھینچ لیا گیا ہو خاردار جھاڑی سے شاید اس سے بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے جب کوئی بہت پیارا آپکا ہوتے ہوتے رہ گیا ہو وہ اس درد کو سمجھتی تھی بہت اچھے سے تو اسکے دل پر لازم تھا ہر شے سے اکتا جانا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“حسین جاوید کو جانتے ہو نا ” ۔۔۔۔؟

بدر اسکا جواب سننے کو رکا

ہمم!

اسنے محض یہی کہا

“وہ پہلے بھی ہم سے بہت کام کروا چکا ہے اچھا آدمی ہے پیسے بھی وقت پر دے دیتا ہے الطاف لغاری والا کیس یاد ہے نا جب ہم نے اسے کڈنیپ کر کے ٹینڈر حسین جاوید کو دلوایا تھا تو وہ کتنا خوش ہوا تھا ہم سے اور ۔۔۔۔۔”

کام کی بات کرو بدر

بدر ابھی کچھ اور بولتا کہ وہ بول پڑا

“اسنے ایک لڑکی کو غائب کروانے کا کانٹریکٹ دیا ہے منہ مانگی قیمت پر۔۔۔۔۔۔۔۔ بس وہ یہ کام جلد از جلد چاہتا ہے “

بدر نے آنکھیں بند کر کے تقریباً صوفے پر لیٹے اس شخص کو دیکھا جو پتہ نہیں اسکی بات سن بھی رہا تھا کہ نہیں

“غائب کروانا چاہتا ہے یا مروانا چاہتا ہے” ؟

اسنے آنکھیں کھولیں اور بدر کو دیکھا

“اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا “

دروازہ کھولا اور وہ درمیانے قد کا شخص کمرے میں داخل ہوا بدر بات کرتے کرتے رک کر اسے دیکھنے لگا اس درمیانے قد کے آدمی کے ہاتھ میں ایک بریف کیس تھا جسے وہ بدر کے سامنے میز پر رکھ چکا تھا

باران نے بھی اس درمیانے قد کے آدمی کو دیکھا

بدر نے آنکھوں کے اشارے سے اس آدمی سے کچھ پوچھا جس کا جواب وہ سر ہاں میں ہلا کر دے گیا

پھر بدر نے بھی اسی بریف کیس سے نوٹوں کی ایک گڈھی اٹھائی اور اس آدمی کی طرف اچھالی جو اس آدمی نے وقت رہتے پکڑ لی “سر وہ جو نیا ڈی سی آیا ہے وہ بہت مسلہ کر رہا آپ کچھ کریں” وہ شخص جاتے جاتے رک گیا

” ہاں میں دیکھ لوں گا”

بدر کی بات سن کر وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا

“مسلہ کیوں کر رہا ہے نیا ڈی سی اسے دعوت پر نہیں بلایا تم نے”

باران مسکرایا

“دو بار بلایا مگر وہ نہیں آیا اور تو اور دھمکی دی ہے اسنے کہ وہ ہم سب کو پھانسی کے تختے پر ضرور لٹکائے گا۔۔۔۔۔۔یہ جو نئے نئے لڑکے آتے ہیں نا انکو لگتا ہے وہ اب ملک کو بدل دیں گے پر ان بچوں کو بہت جلد اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ سب صرف خوابوں میں ہی ہو سکتا ہے خیر تم اسے چھوڑو میں اسے سنبھال لوں گا”

” ہاں تو کس کی بات کر رہا تھا میں “

” کسی لڑکی کو مارنے کی”

وہ اب سیدھا ہو بیٹھا

” مارنے کی یا غائب کروانے کی “

بدر نے ایک ابرو اٹھا کر سوال کیا

“لڑکی کو غائب کروانے کا مطلب میں اچھے سے جانتا ہوں بدر ۔۔۔ تمہیں صرف تمہارا دہرا فائدہ نظر آ رہا ہے کہ تم کانٹریکٹر سے بھی پیسے وصول کرو گے اور لڑکی کو بیچ کر بھی ۔۔۔۔۔ مگر میں کسی کو پل پل موت دینے کی بجائے ایک بار میں مارنے کا قائل ہوں اسی لیئے ۔۔۔۔۔ میں اس لڑکی کو قتل کروں گا I will kill her”

اسنے ماسک لگایا اور پی کیپ ہاتھ میں پکڑے اٹھ کھڑا ہوا

” ڈیٹیلز مجھے بھجوا دینا بدر اوکے “

وہ اسے آخری ہدایت دیتا پی کیپ سر پر رکھتا باہر کی طرف بڑھ گیا

” کتنے دن کے لیئے ہو یہاں” ؟

بدر نے تھوڑی اونچی آواز میں کیا

“ابھی ہوں چند دن یہ کام کر کے ہی جاؤں گا”

وہ بنا پلٹے بولا اور بنا روکے کمرے سے نکل گیا

لمبی لابی عبور کر کے وہ لفٹ تک آ پہنچا اور لفٹ کا ایک مخصوص بٹن دبا دیا اگلے ہی لمحے وہ لفٹ میں سوار ہو چکا تھا لفٹ کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ اس لابی کی دیوار کی مانند ہموار ہو گئی مانو کبھی کوئی اسکے اندر داخل ہوا ہی نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن رابیل مدرسے نہیں گئی کیونکہ ثوابیہ آئی ہوئی تھی تو اسے یوں اکیلے چھوڑ کر جانا رابیل کو مناسب نہیں لگا اور پھر ثوابیہ آئی بھی اکیلے تھی کام کی مصروفیت کی وجہ سے احمد نہیں آ سکا تھا

سارا دن باتیں کرنے میں کب گزر گیا کسی کو علم ہی نا ہوسکا اور شام ہوتے ہی ایک نئی آ فت سر پر آ پڑی تھی حسن صاحب نے دونوں کو تیار ہونے کا حکم سنا دیا تھا کیونکہ آج دانین کی مہندی تھی

حسن صاحب سادہ سا کرتا شلوار پہن کر تیار بھی ہو چکے تھے

رابیل بھی بے دلی سے تیار ہونے لگی جب بابا جا رہے ہیں تو وہ بھلا انکار کیسے کر دے کاش کہ بابا صرف ثوابیہ آپی کو جانے کا کہتے کتنا اچھا ہوتا وہ شیشے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی جو ڈارک گرین لانگ فراک میں دمک رہا تھا وہ فراک تھا بھی بہت خوبصورت بھاری کام والا فراک کیونکہ وہ ثوابیہ کے دہیج کا فراک تھا جو وہ شادی میں پہننے کے لیئے لائی تھی اور جب اسے پتہ لگا کہ رابیل کے پاس تو شادی میں پہننے کے لائق کوئی جوڑا ہی نہیں تو ثوابیہ نے وہ اسے دے دیا ویسے بھی ثوابیہ دو سوٹ کیس بھر کر کپڑے لائی تھی

کانوں میں لٹکتے آویزے اسے مزید دلکش بنا رہے تھے اور وہ بے دلی سے اب اپنے بال بنانے میں مصروف تھی جب ثوابیہ پیلے رنگ کا خوبصورت جوڑا پہنے واشروم سے برآمد ہوئی

” کیا ہوا منہ کیوں اترا ہوا ہے “

ثوابیہ نے شیشے میں نظر آتے اسکے عکس سے پوچھا

رابیل نے بس اسے ایک نظر دیکھا

“رابیل کسی کو اتنی اجازت مت دو کہ کوئی تمہاری زندگی پر اتنا اثر انداز ہو تم اس طرح جی نہیں سکو گی”

ثوابیہ نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور اسے دونوں کندھوں سے تھام گئی

“آپی یہ بات نہیں ہے لیکن اگر وہاں کسی کو اس بارے میں علم ہوا تو میں اسے کیسے فیس کرونگی”

وہ نظریں جھکا گئی

“اوپر دیکھو”

ثوابیہ نے اسکا چہرا تھوڑا اوپر کیا

“کسی کو کچھ نہیں پتہ رابیل بابا تایا ابو اور جہانزیب نے ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ رک گئی

“کسی کو کچھ پتہ نہیں چلنے دیا “

رابیل پھیکا سا مسکراتی ہوئی واپس شیشے میں اپنا عکس دیکھنے لگی

“مگر کیا رابیل ۔۔۔۔۔ میں تم سے پوچھوں کہ کیا ہوا تھا اس دن”

رابیل کے بالوں میں چلتے ہاتھ رک گئے

اسنے آئینے میں اپنی بہن کا عکس دیکھا کچھ لمحوں میں ہی اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگیں وہ روتے ہوئے اپنی بہن کے گلے سے جا لگی اور اتنے دنوں سے دل میں چھپا وہ راز کسی کے سامنے عیاں ہونے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور کے ایک پوش علاقے کی گلیوں میں آؤ تو شام ہوتے ہی زرد بتیوں نے گلیوں کو زردی مائل کر دیا تھا

بلند وبالا عمارتیں مضبوطی سے کھڑی ہر آنے جانے والے کو حیرت میں مبتلا کر رہی تھیں

انہیں میں سے ایک عمارت کا ایک عدد فلیٹ سردار باران خان کے نام تھا بقول اسکے اسکی محنت کی کمائی کا فلیٹ اس سفید فلیٹ کے اندر آؤ تو پورا فلیٹ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا دو کمروں کہ اس فلیٹ میں صرف اتنا دکھتا تھا کہ ایک کمرے کی بتی روشن تھی جبکہ دوسرے کی گل تھی مگرباران خان اس اندھیرے کمرے میں موجود تھا تو دوسرے کمرے میں کون تھا خدا جانے

نام:ـ۔ رابیل حسن

عمر:ـ۔ اکیس سال آٹھ ماہ

خان کے موبائل کی اسکرین روشن تھی جس کی وجہ سے اسکا چہرا بھی روشن ہو گیا تھا جبکہ باقی پورے کمرے میں اندھیرے کا راج تھا

وہ بیڈ پر ٹیک لگائے ٹانگوں کو سیدھا کیئے موبائل سے کچھ پڑھ رہا تھا اور زیر لب دہرا بھی رہا تھا

پھر اسکے ایک کلک پر رابیل کی تصویر موبائل پر جگمگانے لگی یہ ثوابیہ کی مہندی کی رات کی تصویر تھی جس میں رابیل ہرے رنگ کے لانگ فراک کے ساتھ گلابی رنگ کا نفیس دوپٹہ کندھے پر سجائے کھڑی تھی

خان نے دو انگلیوں کو موبائل اسکرین پر رکھ کر ان کے مابین فاصلہ بڑھایا تو رابیل کی تصویر زوم ہوتی گئی اور اسکا چہرا مزید واضح ہوتا گیا

وہ کچھ دیر ایسے ہی اسکی تصویر دیکھتا رہا اسکی بھوری آنکھوں میں رابیل کا عکس موبائل کی روشنی میں واضح نظر آ رہا تھا

اسنے تصویر کو زوم آؤٹ تب کیا جب اسے بدر کا میسج رسیو ہوا جو اسکرین پر اوپر کی جانب دکھنے لگا

“خان اس لڑکی کے کیس کے سلسلے میں کانٹریکٹر خود تم سے ملنا چاہتا ہے”

باران نے سکرین پر انگلیوں کو حرکت دی تو بدر کا میسج اسکرین پر جگمگانے لگا

“تم جانتے ہو بدر میں کسی کانٹریکٹر سے نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔ کیا تم میرے اصولوں کے بارے میں سب بھول چکے ہو۔۔۔۔۔مجھے ہر شے تمہیں دوبارہ سمجھانی پڑے گی کیا”

اسکے چہرے پر ناگواری ابھری اسنے غصے سے کلک کیا تو میسج بدر کو سینڈ ہو گیا

تھوڑی دیر بعد دوسری طرف سے ٹائپنگ شو ہونے لگی

“خان پلیز صرف حسین جاوید سے ایک بار مل لو وہ صرف ہمارا ریگولر کانٹریکٹر ہی نہیں بلکہ میرا دوست بھی ہے”

بدر کی طرف کا میسج پڑھ کر خان کے ماتھے پر بل پڑ گئے

“نہیں کا مطلب نہیں ہے بدر ۔۔۔۔۔۔ میں کسی سے نہیں ملوں گا چاہے وہ کوئی بھی ہو”

خان نے میسج کر کے فون بند کر دیا کمرے میں روشنی کا واحد ذریعہ بھی غرق ہو گیا تو خان کا چہرا بھی اندھیرے میں ڈوب گیا

تھوڑی دیر کے بعد ایک بار پھر موبائل روشن ہوا تو خان کا چہرا واضح ہو گیا

اسکرین پر بدر کے دو چار میسج نظر آ رہے تھے

ہففف ۔۔

خان نے گرم سانس خارج کی

“اوکے”

اسنے بدر کے میسج پڑھے تک نہیں مگر وہ جانتا تھا کہ ان میسجز میں کیا ہوگا

تو اسنے نا چاہتے ہوئے بھی کانٹریکٹر سے ملنے کی ہامی بھر لی

وہ کسی سے اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی چڑ چکا تھا اس شخص سے جو دوسرے کمرے میں موجود تھا

اسنے موبائل ایک بار پھر بند کیا تو سارا کمرا ایک بار پھر تاریک ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی ایک جھٹکے سے اس چھوٹی چھوٹی بتیوں سے سجے گھر کے سامنے رکی تو رابیل نے اپنا سر اٹھا کے اس گھر کو دیکھا جو آج بھی بلکل ویسا ہی تھا کچھ لمحیں وہ اس گھر کو دیکھتی رہی

پھر وہ گاڑی سے اتر کر حسن صاحب اور ثوابیہ کے ساتھ آگے بڑھی اور گھر کے اندر داخل ہو گئی سامنے ہی حسین صاحب اور طاہرہ بیگم مہمانوں کے استقبال کے لیئے کھڑے تھے

ان لوگوں کو دیکھ کر طاہرہ بیگم تقریباً دوڑ کر ان تک پہنچی تھیں اور رابیل اور ثوابیہ سے گلی ملی تھیں انکے انداز میں آج بھی وہی ممتا تھی جو پہلے تھی رابیل نے چاہا کہ وہ اپنی اس ماں سے گلے مل کر خوب روئے مگر وہ ایسا نہیں کر سکی طاہرہ بیگم اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ آگے لائیں جبکہ حسن صاحب سے انہوں نے سلام کے بعد کوئی بات نہیں کی آخر وہ کیا بات کرتیں

حسن صاحب نے حسین صاحب کو دیکھا تک نہیں حسین صاحب نے انہیں ایک نظر دیکھا مگر انکا پھیکا رویہ دیکھ کر وہ بھی دوسرے مہمانوں کے ساتھ مصروف ہوگئے

اس وقت گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا اور کوئی بھی ان کے سامنے کسی قسم تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا

حسن صاحب کو ایک رشتہِ دار سے خبر ملی کہ حسین صاحب نے حسن صاحب کے گھر چھوڑنے کی وجہ جائیداد کے مسائل بتائی ہے پہلے تو وہ اس شخص کی بات کو نا سمجھے مگر پھر بات کو سنبھال گئے

رابیل اور ثوابیہ تائی جان کو چھوڑ کر اب دانین کی کمرے کی طرف بڑھ گئی تھیں تائی جان بھی اپنے آنسو چھپاتیں مہمانوں کی میزبانی میں لگ گیئں

” ارے دلاور تم “

حسن صاحب نے دلاور خان کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا

“حسن میرے دوست تم کہاں تھے حسین نے بتایا کہ تم دونوں کا جائیداد کا کوئی جھگڑا ہو گیا اور تم گھر چھوڑ کر چلے گئے”

دلاورخان انسے بغلگیر ہوتے ہوئے پوچھ رہے تھے

“بس یار چھوڑو اس بات کو تم بتاؤ تم کیسے ہو اور باران کیسا ہے”

وہ دونوں ایک ساتھ کرسیوں پر آ بیٹھے

“سب ٹھیک ہے اب تو باران گھر آگیا ہے میں نے اسے دستار بھی سونپ دی اب سب ٹھیک ہے”

دلاور خان واقع خوش تھے

“چلو اچھی بات ہے” حسن صاحب کو بھی انکی بات پر خوشی ہوئی

“تم بتاؤ بچیاں کیسی ہیں ؟ ملواؤ گے نہیں “

“ہمم نہیں ملواؤں گا ثوابیہ کی شادی پر جب میں نے تمہیں بلایا تھا تب تم نہیں آئے اور آب آگئے ہو بھائی صاحب کے بلانے پر مجھے یہاں بیٹھنا ہی نہیں چاہیئے میں جا رہا ہوں”

حسن صاحب کو جو یہ بات یاد آئی وہ تو غصہ ہی ہوگئے

” ارے ارے حسن رکو”

دلاور خان نے انہیں کرسی سے اٹھتے دیکھ کر انکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا

“یار مجھے معاف کر دو میں باران کی وجہ سے بہت پریشان تھا انہیں دنوں باران نے گھر آنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور میری طبیعت بھی اسی وجہ سے خراب رہنے لگی۔۔۔۔۔۔ تو تو سب جانتا ہے ناراض مت ہو”

دلاور خان اپنے دوست کو منانے لگے

“مجھے پتہ ہے تو جھوٹ بول رہا ہے پر چل معاف کیا”

حسن صاحب نے ان پر احسان جتاتے ہوئے کہا

” نہیں میں سچ بول رہا ہوں “

دلاور خان نے اپنی ہنسی دبائی حالانکہ وہ سچ بول رہے تھے پھر بھی اور انکا دوست جانتا تھا وہ سچ بول رہے ہیں پر دوستی بھی کسی شے کا نام ہوتی ہے بھلا اب دوست کو کیسے کہہ دیا جائے کہ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے

حسن صاحب حسین صاحب اور دلاور خان ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے حسن صاحب اور دلاور خان ایک ہی کلاس میں تھے جبکہ حسین صاحب انسے سینیئر تھے حسن صاحب کی دلاور خان سے دوستی کی وجہ سے حسین صاحب کی بھی انسے اچھی خاصی بات چیت تھی اور پھر جب حسین صاحب نے بزنس سنبھالا تو دلاور خان نے انہیں مکمل سپورٹ کی جسکی وجہ سے انکی دوستی مزید گہری ہو گئی تھی مگر حسن صاحب سے انکی دوستی کچھ خاص تھی وہ دونوں ایک دوسرے کے ماضی اور حال کو اچھے سے جانتے تھے

” باران نہیں آیا” ؟

حسن صاحب نے پوچھا

“لاہور آیا ہے بلکہ اسی کے فلیٹ میں ہم رکے ہیں مگر شاید شادی میں نا آ سکے اسے کچھ کام تھا شاید اپنے دوستوں سے ملنے چلا گیا ہوگا آخر یہیں رہا ہے ساری عمر”

دلاور خان انہیں بتانے لگے اور وہ سننے لگے

اسی طرح سارے مہمان خوشگپوں میں مصروف تھے کچھ مہمان آ چکے تھے اور کچھ مہمان ابھی رہتے تھے

پھر کچھ دیر بعد دانین کو سٹیج پر بٹھا دیا گیا اور رسم شروع کر دی گئی وہ معصوم مہندی رنگ کے فراک میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی

حسن صاحب نے رابیل اور ثوابیہ کو بھی اپنے دوست سے ملوا تھا دلاور خان ان سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے

جبکہ ان دونوں کو اپنے باپ کے اس دوست سے مل کر کافی حیرت ہوئی تھی وہ ہمیشہ اپنے باپ سے ان کے بارے میں سنتی تھیں مگر دیکھ آج پہلی بار رہی تھیں

انکا وہ تھوڑا تھوڑا الگ سا لہجہ انہیں بہت اچھا لگا تھا

پھر فنکشن کے ختم ہونے کے بعد حسن صاحب واپس جانے کے لیئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے تائی جان نے بہت کہا کہ وہ رک جائیں مگر رابیل انسے کل آنے کا وعدہ کرتی وہاں سے آگئی

آہ یہ سب بہت مشکل تھا بہت زیادہ مشکل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن کا سورج اپنی روشنی سے پوری دنیا کی رات بھر کی سیاہ کاریوں پر پردہ ڈالنے پر کامیاب ہو گیا

جس طرح اندھیرا چیزوں کو چھپا لیتا ہے اسی طرح تیز روشنی میں کچھ نظر نہیں آتا

قضا ہوتی فجر کے ساتھ ہی پرندے اپنے رزق کی تلاش میں نکل چکے تھے

اور وہ ابھی تک جائے نماز پر بیٹھی تھی

خالی خالی نظروں سے وہ بس جائے نماز کو دیکھتی رہی

پھر چند لمحیں بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور جائے نماز کو ایک طرف رکھ کر نماز کے سٹائل میں بندھا دوپٹا اب وہ کھول چکی تھی

جب ثوابیہ دروازہ ناک کرتی کمرے میں داخل ہوئی

” رابیل آج جلدی آ جانا مدرسے سے”

ثوابیہ دروازے میں ہی ایستادہ رہی

” کیوں” ؟

رابیل نے اپنے بالوں کو کیچر سے آزاد کرتے ہوئے پوچھا

“آج دانین کی بارات ہے ہمیں جلدی جانا ہوگا مہندی کی نسبت بارات میں سب جلدی ہوتا ہے”

رابیل کے بالوں میں چلتے ہاتھ ایک لمحے کو روکے مگر پھر دوبارہ بال سنوارنے لگے

“ٹھیک ہے آپی”

اسنے بس اتنا ہی کہا اور اپنے کام میں مصروف رہی

” یا ایسا کرو آج مت جاؤ “

ثوابیہ واپس جاتے جاتے پلٹ آئی

“نہیں آپی۔۔۔۔۔۔ جانا ضروری ہے میں جلدی آ جاؤں گی”

وہ الماری کی طرف بڑھی اور الماری کھول دی

” تم اور جلدی آؤ گی یقین کرنے والی بات کرو”

رابیل نے الماری کے کھلے پٹ سے اسے جھانک کر دیکھا

” نہیں آپی میں جلدی آجاؤں گی “

اسکے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ نے جگہ بنا لی

” ٹھیک ہے مگر یاد سے جلدی آنا “

ثوابیہ اسے ہدایت دیتی دروازہ بند کرتی نکل گئی جبکہ رابیل الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی جو اسنے رات ہی پریس کر دیئے تھے اور پھر عبایا نکالا عبائےکو بیڈ پر رکھتے کپڑے ساتھ لیئے وہ واشروم میں بند ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفٹ ٹن کی اوازسے کھلی تو وہ لفٹ سے نکلتا اس لمبی لابی میں مضبوط قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا

اسکا حلیہ ویسا ہی تھا جیسا پچھلی رات تھا البتہ جیکٹ اس بار گاڑھے نیلے رنگ کی تھی

اسنے مخصوص کمرے کے سامنے پہنچ کر مخصوص طریقے سے ناک کیا تو جلدی ہی دروازہ کھول دیا گیا یہ وہی درمیانے قد کا آدمی تھا

وہ پی کیپ اتارتا اندر بڑھ گیا جبکہ ماسک لگا رہنے دیا

اندر آتے ہی اسکے سامنے صوفوں پر بدر کے ساتھ ایک پچاس پچپن سال کا آدمی بیٹھا تھا

وہ نپے تلے قدم اٹھاتا ایک سنگل صوفے پر براجمان ہو گیا

“یہ ہے خان ۔۔۔ آپکا کیس یہی سنبھالے گا جو بھی طے کرنا ہے آپکو وہ اسی سے طے کر لیں”

بدر نے گلا کھنگارتے ہوئے بات کا آغاز کیا

” بھروسے کا آدمی تو ہے نا یہ”؟

اس بوڑھے شخص نے بدر سے پوچھا جب کے اسکے سوال پر خان کے ماتھے پر بل پڑ گئے اسنے اکتائی ہوئی نظر اس بوڑھے آدمی پر ڈالی

“ہاں ہاں حسین ۔۔۔۔ یوں سمجھو کہ میرے لیئے سب سے زیادہ بھروسے کے لائق یہی ہے تم آرام سے اس سے جو بات کرنا چاہو کر سکتے ہو”

بدر نے جلدی سے حسین کو کچھ بھی کہنے سے روکا کہ کہیں خان ناراض ہی نا ہو جائے

“دو تین دن کے اندر اندر لڑکی کو غائب کر دو یا مار دو مگر جلدی کرو جو بھی کرو”

حسین صاحب اب خان کی طرف متوجہ ہوئے جو ابھی تک ماتھے پر بل سجائے ناراض لگتا تھا یقیناً اسے انکی بات ناگوار گزری تھی

“ہر کام کا اپنا ایک طریقہ ہوتا حسین”

وہ بولا تو لہجے سے غصہ چھلکتا تھا

حسین صاحب نے بدر کی طرف ملامتی نظروں سے دیکھا کہ چلو بدر تو انکا دوست تھا مگر یہ لڑکا انہیں کیسے مخاطب کر رہا تھا نا آپ نا جناب بس حسین

بدر نے انہیں نارمل رہنے کا اشارہ کیا تو وہ دوبارہ خان کی طرف متوجہ ہو گئے جبکہ اس بار انکے ماتھے پر بھی بل نظر آ رہے تھے

“ایسے کیسے دو تین دن کے اندر مار دوں مجھے پہلے اسکے بارے میں کچھ ضروری انفارمیشن نکالنی ہوگی وہ کب گھر میں ہوتی ہے کب باہر جاتی ہے ،اسکے گھر میں کون کون ہے اور وہ کس وقت گھر میں ہوتے یا کس وقت نہیں ہوتے”

وہ رکا

یہ سب دو تین دن کا کام نہیں ہے

وہ تھوڑا آگے کو جھکا

“کم سے کم مجھے ایک ہفتہ درکار ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اگر تمہں منظور ہو تو کانٹریکٹ دو ورنہ برائے مہربانی تم اسے خود قتل کر لو”

اسکی آنکھیں حسین صاحب پر جمی ہوئی تھیں اسکے لیئے کسی کو مارنا لمحوں کا کھیل تھا مگر وہ اس ناگوار بوڑھے شخص کے لیئے اپنی انرجی ویسٹ نہیں کرے گا

“ٹھیک ہے تم لے لو دو ہفتے لے لو تم مگر۔۔۔۔۔۔ کام بہت صفائی سے ہونا چاہیئے کسی کو اس بارے میں بھنک بھی نہیں لگنی چاہیئے”

حسین صاحب نے ایک بریف کیس کو میز پر کھول کر اسکے سامنے رکھا

مگر اسنے بریف کیس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھا

ہممم!

“مگر مجھے کچھ انفارمیشن تم سے بھی چاہیئے”

وہ ابھی بھی آگے جھک کر بیٹھا تھا

” کیا ” ؟

حسین صاحب نے ایک بار بدر کو دیکھا جو خان کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا

“تم کیوں کرانا چاہتے ہو اس لڑکی کو قتل ۔۔۔۔۔ کیا لگتی ہے یہ تمہاری” ؟

وہ بنا پلک جھپکائے اس بوڑھے شخص کو دیکھ رہا تھا

“وہ میری کچھ بھی لگے ۔۔۔۔ میں اسے چاہے جس وجہ سے قتل کراؤں یہ میرا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔ تمہیں صرف اپنے پیسوں سے سروکار ہونا چاہیئے”

حسین صاحب نے کھلے ہوئے بریف کیس پر زور سے ہاتھ مارا تو وہ بلند آواز کے ساتھ بند ہو گیا ہزار ہزار کے نوٹوں کی گتھیاں بریف کیس میں قید ہو گئیں

“تو اپنے یہ پیسے اٹھاؤ اور جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔ خان اپنے حساب سے کام کرتا ہے لوگوں کے حساب سے نہیں”

وہ اٹھا اور پی کیپ دوبارہ پہن لی یقیناً وہ اب یہاں رکنا نہیں چاہتا تھا

“خان پلیز رکو” بدر نے جلدی سے اٹھ کر سچویشن سنبھالنی چاہی

“حسین تم بتاؤ اسے کیوں مروانا ہے لڑکی کو۔۔۔۔۔ ہمارے کام کرنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ اگر ہم انہیں توڑ دیں گے تو زیادہ دیر تک انڈرولڈ پر راج نہیں کرسکیں گے

ہمیں چند ضروری سوال کرنے ہوتے ہیں تاکہ بعد میں ہمارے لیئے مسئلہ نہ ہو”

وہ حسین صاحب کے سامنے کھڑا انہییں سمجھا رہا تھا جبکہ خان پی کیپ اور ماسک پہنے بہت زیادہ اکتا چکا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا آپکو اس طرح گھر نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا ہم بات کو چھپا ہی لیتے”

ثوابیہ اپنے باپ کے ساتھ ہی انکے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی کہہ رہی تھی

” ہاں بیٹے ہم یہ بات چھپا ہی لیتے مگر “

وہ رکے

“مگر مجھے ڈر تھا کہ کہیں میری رابیل کا ماضی اس پر عیاں نہ ہو جائے”

حسن صاحب نے ثوابیہ کو ایک نظر دیکھا

اسکا چہرا یکدم سپاٹ ہو گیا

“مجھے ڈر تھا اگر اسے کسی نے اسکے ماضی کا طعنہ دے دیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ گھڑھےمردے اکھاڑنے میں وقت نہیں لگاتے ثوابیہ اور پھر ان گڑھے مردوں کے ساتھ ذندہ لوگوں کو بھی دفن کر دیتے ہیں”

انکی آنکھوں میں گلابی سا کچھ تیرنے لگا

“کہنے کو تو وہ میری بھتیجی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ میرے بھائی کی اولاد نہیں ہے “

حسین صاحب نے ایک نظر خان پر ڈالی اور ایک سانس خارج کرتے ہوئے بتانے لگے

بدر اب بیٹھ چکا تھا جبکہ خان قدم قدم چلتا کھڑکی تک آگیا اور دو انگلیوں سے پردہ ایک طرف کر کے باہر اونچی جگمگاتی عمارتوں کو دیکھنے لگا

“وہ میری بھابھی کی بہن کی بیٹی ہے جس نے بھاگ کر کسی آدمی سے شادی کر لی تھی یا کیا معلوم شادی کی بھی تھی یا نہیں۔ وہ آدمی ایک مہینے بعد ہی اسے چھوڑ کر بھاگ گیا اور چھوڑ گیا اسکے پیٹ میں اپنی گندی اولاد ۔ اس عورت کے پاس اب کوئی ٹھکانہ نہیں تھا وہ اپنے باپ کے گھر واپس نہیں جا سکتی تھی کیونکہ اسکے باپ نے اس سے ہر رشتہِ ختم کر لیا تھا تو گھوم پھر کر اسنے اپنی بہن یعنی میری بھابھی سے رابطہ کیا اور حسن صدا کا بیوی کا غلام پہنچ گیا اپنی بیوی کی بد کردار بہن کی مدد کرنے کو۔

انہوں نے اس بات کو خفیہ رکھا انہوں نے اس عورت کا خیال رکھا اسکے لیئے ایک گھر خریدا مگر نو مہینوں کے بعد وہ عورت ایک بیٹی کو جنم دیتے ہی مر گئی اور مرتے مرتے اپنی بیٹی اپنی بہن اور بہنوئی کو سونپ گئی لیکن وہ بچی تھی تو گندا خون ہی سو اسنے اپنی حقیقت دیکھا ہی دی لاہور کے گھٹیا ترین علاقے سے برآمد ہوئی وہ لڑکی دو مہینے پہلے

مگر میرا بھائی مجھے غلط کہہ کر اپنی بیٹی کا ساتھ دے رہا ہے اور تو اور گھر چھوڑ کر اپنی بدکردار بیٹی کو لے کر چلا گیا۔

میں چاہتا ہوں تم اسے غائب کروا دو مار دو کچھ بھی کرو مگر مجھے میرا بھائی واپس چاہیئے بس۔

اگر وہ لڑکی غائب ہو جائے گی تو میں اپنے بھائی سے کہہ سکوں گا کہ وہ بھاگ گئی کسی کے ساتھ اس طرح میرے بھائی کا بھروسہ مجھ پر لوٹ آئے گا اور راستے کا کانٹا بھی ہٹ جائے گا اور تو اور جو وہ خاندان کی عزت ہر روز لٹاتی پھر رہی ہے ہم اس سے ایک ہی بار میں بچ جائیں گے-

حسین صاحب نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بدر کی طرف دیکھا

خان کیا کہتے ہو تم ؟

بدر نے انہیں آنکھوں سے تسلی دیتے ہوئے خان سے استفسار کیا وہ جو ان جگمگاتی عمارتوں کو دیکھنے میں محو تھا اور پتہ نہیں اس نے حسین صاحب کی بات سنی بھی تھی یا نہیں

” ٹھیک ہے کام ہو جائے گا “

خان نے اتنا ہی کہاں اور کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر بدر تک پہنچا گیا

” مجھے اس لڑکی کے گھر کا ایڈرس چاہیئے”

یہ بات وہ حسین صاحب سے بھی پوچھ سکتا تھا مگر اسنے انہیں مخاطب کرنا ضروری نہیں سمجھا

اور بدر کو ہدایت دیتا کمرے سے نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” نایاب تم یہاں کیا کر رہے ہو “

انکی آواز تھوڑی بلند تھی

اپنی قبائلی زبان میں وہ اس سے پوچھ رہی تھی ( ویسے تو بلوچستان میں بلوچی زبان بولی جاتی ہے مگر کچھ حصوں میں پشتو زبان کا راج ہے ہمارے کردار پشتو زبان بولتے ہیں اور ایسا کیوں ہے وہ بعد میں پتہ چلے گا )

“کیوں کیا میں اپنی بہن سے ملنے نہیں آسکتا”

قدم قدم چلتا وہ بختاور کے سامنے کھڑا ہو گیا

“مجھے معلوم ہے تمہارے اور دلاور کے درمیان جو مسائل ہیں تمہں اس سب کے بعد یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا “

انکی آواز اب پہلے سے قدرے آہستہ تھی

“اسی لیئے تو میں آج آیا ہوں یہاں مجھے پتہ ہے آج دونوں باپ بیٹے یہاں نہیں ہے تمہارے بھائی کا تمہارے ہاتھ کا کھانا کھانے کا بہت دل کر رہا تھا سو میں چلا آیا کیا میں نے غلط کیا”؟

وہ انکے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا

“اب آ گئے ہو تو بیٹھو میں کچھ لاتی ہوں مگر وعدہ کرو تم آئندہ ایسا نہیں کرو گے”

وہ اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ رہی تھیں کتنے دنوں بعد انہیں آخر یہ موقع ملا تھا

“آپ اتنا کیوں ڈرتی ہیں کیا لالا نے کبھی آپکو مجھے سے ملنے سے روکا ہے اور نا ہی کبھی مجھے یہاں آنے سے روکا پھر کیوں ڈرتی ہیں آپ”

وہ بختاور کو کندھوں سے تھام چکا تھا

“میں جانتی ہو نایاب مگر جو تم انکے ساتھ کر رہے ہو وہ سب ۔۔۔۔۔۔۔”

“اچھا بس کچھ کھلانا ہے تو کھلاؤ ورنہ میں جا رہا ہوں”

نایاب نے انہیں کچھ بھی کہنے سے روک دیا

” اچھا تم بیٹھو میں لاتی ہوں “

وہ اسے یہ کہتیں کچن کی طرف بڑھ گئیں اور وہ صوفے پر آ بیٹھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اترتی شام میں میں وہ سیاہ عبائے اور سیاہ حجاب میں دمک رہی تھی

لوہے کا چھوٹا گیٹ پار کر کے وہ گھر میں داخل ہوئی تو اشتہا انگیز کھانے کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی

وہ تیزیتی سے لاؤنج سے ہوتی ہوئی کچن تک پہنچی

سامنے ہی ثوابیہ کھانا پکانے میں مصروف تھی

اسنے ایک نظر سنک پر ڈالی وہاں کوئی میلا برتن موجود نہیں تھا

اسے اپنی بہن پر پیار آگیا

“آپ نے کیوں کی اتنی تکلیف میں آ کے کر لیتی آپی اور ویسے بھی کھانا کیوں پکا رہی ہیں ہم تو آج شادی میں جائیں گے نا “

وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھی اور شیلف کے ساتھ ٹک گئ

“بابا کہاں کھاتے ہیں شادیوں والے کھانے اتنے تیز مسالوں والے

میں نے سوچا بابا بیچارے تمہارے ہاتھ کا بد ذائقہ کھانا کھا کھا کر اکتا چکے ہونگے کیوں نا میں آج انہیں بہت مزے کا کھانا کھلاؤں”

اسنے دیگچی میں چمچا گھماتے ہوئے مصروف انداز میں کہا

“تھینکیو آپی “

وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی

“اتنی دیر کہاں ہو گئی” ؟

ثوابیہ نے آنچ آہستہ کرتے ہوئے کہا

“وہ علیزے( یہ وہی لڑکی ہے جس نے مدرسے کے پہلے دن رابیل کو کہا تھا کہ وہ کل اسکے ساتھ بیٹھے اور ایسا ہی ہوا تھا وہ دونواس دن کے بعد سے ایک ساتھ بیٹھتی تھی اور جلد ہی انکی اچھی دوستی ہو گئی تھی ) کا کچھ کام رہتا تھا تو اسنے کہا اسے تھوڑا پڑھا دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو مجھے رکنا پڑا “

اسنے سلاد کی سجی ہوئی پلیٹ سے ایک کھیرا اٹھا کر منہ میں رکا

“جلدی جاؤ فریش ہو کر آؤ میں نے کھانا بنا دیا ہے مگر لگاؤ گی تم ٹھیک ہے آخر میں مہمان ہوں”

اسنے گردن اکڑائی

“اچھا جی مہمان صاحبہ میں لگا دوں گی کھانا آپ جا کر آرام فرمائیں”

رابیل نے ڈرامائی انداز میں کہا تو دونوں ہی ہنس دیں

پھر رابیل کچن سے نکلتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

ابھی اسنے اپنی مہمان بہن کی خدمت بھی کرنی تھی وہ جو سارا دن گھر کے کام کرتی رہی تھی اور اب اچانک سے مہمان بن گئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دور سے کوئی انکے گھر پر نظر رکھے ہوئے تھا

دور سے دیکھنے پر منظر واضح نا ہونے کی وجہ سے اس دیکھنے والے نے دوربین کی مدد سے دیکھنا چاہا تو منظر واضح ہو گیا دو لڑکیاں اور ایک بوڑھا شخص اب گھر سے نکل رہے تھے ان میں سے ایک لڑکی نے سر پر دوپٹہ سجایا ہوا تھا جبکہ دوسری لڑکی نے سفید رنگ کی چادر سے خود کو ڈھانپا ہوا تھا البتہ چہرے دونوں کے واضح تھے

گھر کے گیٹ کے سامنے ایک عدد کیب انکا انتظار کر رہی تھی

دیکھنے والے نے تھوڑا فوکس بڑھایا تو ثوابیہ کی چہرا مزید واضح ہو گیا

” یہ وہ لڑکی نہیں ہے “

سیاہ ماسک سے چھپے لب ہلے

پھر دوسری لڑکی پر فوکس کیا تو کچھ دیر وہ اسے دیکھتا ہی رہا

اسے اسکا شکار مل چکا تھا

اب اسے انکا پیچھا کرنا تھا جو گاڑی میں سوار ہو رہے تھے اور اگر آج ہی اچھا موقع ملا تو وہ اس لڑکی کو آج ہی ختم کر دے گا

وہاں وہ انجان گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ابھی انہیں ایک گھنٹہ لگنا تھا شادی میں پہنچتے پہنچتے رابیل کو اچھی طرح یاد تھا وہ دن جب وہ تقریباً دو گھنٹے کا سفر طے کر کے اس گھر پہنچی تھی اس دن شاید کوئی ہڑتال تھی اسی وجہ سے وہ کیب بک نا کر سکے تھے اور مجبوراً انہیں بس سے آنا پڑا تھا اور بس نے جگہ جگہ رکنے کے سارے ریکارڈ توڑ کر انہیں تقریباً دو گھنٹے میں منزل پر پہنچایا تھا مگر آج اتنا وقت نہیں لگنے والا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” باران تم یہاں “

باران کسی جانی پہچانی آواز پر پلٹا

سامنے ہی دلاور خان کھڑے تھے

“تم نے تو منع کر دیا تھا کہ تم شادی پر نہیں آؤ گے”

دلاور خان کو حیرت ہوئی تھی

“جی ڈیڈ میں نے منع کیا تھا پرمیں فارغ بیٹھا تھا تو میں نے سوچا یہاں آ جاؤں”

آہ اسنے بات سنبھال لی اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہاں پہنچ جائے گا یعنی اسی جگہ جہاں دلاور خان موجود تھے

وہ اس وقت سیاہ جینز اور گہرے نیلے رنگ کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا کھلی جیکٹ کی وجہ سے سیاہ شرٹ صاف نظر آ رہی تھی

“آ رہے تھے تو کچھ ڈھنگ کا پہن لیتے کون شادی پر ایسے کپڑے پہنتا تھا”

دلاور خان نے اسے سر تا پیر دیکھا اسکے بکھرے بال اسکے حلیئے کو مزید لاپرواہ بنا رہے تھے

تو میں چلا جاتا ہوں” “

پل بھر میں ہی اسکا موڈ آف ہو گیا

” دلاور کیا یہ باران ہے “

حسن صاحب کی آواز پر دونوں نے انکی طرف دیکھا جو گہرے نیلے رنگ کا کرتا پہنے دانین سے کیا وعدہ نبھا چکے تھے

” ہاں حسن یہ ہے باران “

دلاور خان نے ایک بار پھر اسے سر تا پیر دیکھا جو لا پرواہ سا کھڑا تھا

حسن صاحب آگے بڑھے اور باران سے بغلگیر ہوئے اور اسے چاہتے نہ چاہتے ان سے ملنا پڑا

“ایک بات ماننی پڑے گی دلاور تمہارا بیٹا بلکل تم پر نہیں گیا دیکھو کتنا خوبرو نوجوان ہے”

وہی دوست کو چھیڑنے والی عادت یہ تو کوئی اندھا بھی بتا سکتا تھا کہ باران خان بلکل اپنے باپ کا عکس ہے

“ہاں جیسے تمہاری بیٹیاں تم پر نہیں گئیں”

دلاور خان کہاں پیچھے رہنے والے تھے

“بابا آپ یہ دوائی اپنے ساتھ رکھیں کھانے کے بعد فوراً لینی ہے آپ نے”

وہ جو دور سے اپنے باپ کو دیکھ کر انکی طرف بڑھی تھی ان تک پہنچ کر اسنے ایک چھوٹی ڈبیا حسن صاحب کی طرف بڑھائی سب ایک ساتھ ہی اسکی طرف متوجہ ہوئے اور وہ سب کی توجہ یکدم پا کر خجل سی ہوگئی

“ہاں میں لے لوں گا” حسن صاحب نے وہ ڈبیا اس سے لے کر اپنی جیب میں رکھ لی

“رابیل تم اپنے بابا کا کتنا خیال رکھتی ہو اور ایک یہ ہے اسے بلکل اپنے باپ کی فکر نہیں” دلاورخان نے اسے مخاطب کیا تو اسنے انکی طرف دیکھا پھر ان کے اشارے پر اسنے اپنے باپ کے ساتھ کھڑے اس نوجوان کو پہلی بار دیکھا اسی پل باران نے بھی اسے دیکھا تو دونوں کی نظریں آپس میں ملیں وہ کچھ لمحے تھے قیمتی لمحے مگر وہ دونوں اس بات سے انجان ان لمحوں کو ضائع کر رہے تھے رابیل نے دوبارہ نظریں دلاور خان کی طرف پھیر لیں اور وہ جس نے اسکے آنے پر سب کی طرح اسے دیکھا تھا اور پھر نظریں پھیر گیا تھا اسکے خود کو دیکھنے پر دوبارہ اسکو دیکھا تھا اور ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا جو اب کسی بات پر مسکرا رہی تھی اسکا شکار اسکی آنکھوں کے سامنے تھا

” کاش میری بھی تم جیسی ایک بیٹی ہوتی “

دلاور خان نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا رابیل صرف مسکرا ہی سکی

“ارے دلاور اب ہر کوئی میری طرح خوش قسمت تھوڑی ہوتا ہے”

حسن صاحب نے جوش سے کہا

باران نے ان تینوں کو اکتاہٹ سے ایک نظر دیکھا اور نظریں پھر گیا اسکا دل چاہا وہ یہاں سے بھاگ جائے

” ہاں یہ تو ہے”

دلاور خان نے حسن صاحب کی بات کی ہامی بھری

پھر کچھ دیر وہ باتیں کرتے رہے اور باران انہیں اکتاہٹ سے دیکھتا رہا

“رابیل سٹڈی میں جاؤ بیٹا اور وہاں دیکھنا میز کی دائیں دراز میں کچھ کتابیں رکھی ہیں وہ ہم ساتھ لے جائے گے نکال لو ہمم”

اچانک حسن صاحب کو کچھ یاد آیا تو انہوں نے رابیل سے کہا

” جی بابا میں نکال لیتی ہوں “

رابیل یہ کہتی اندر کی طرف بڑھ گئی

شاید یہ صحیح موقع تھا سب لوگ لان میں تھے وہ آسانی سے اپنا کام کر سکتا تھا باران یہ سوچتا ہوا سب سے نظریں بچاتا رابیل کے پیچھے ہی گھر کے اندر جا پہنچا

اسے سامنے ہی وہ سیڑھیوں پر چھڑتی نظر آگئی یہ اتنا آسان کام بھی نہیں تھا کیونکہ تھوڑے بہت لوگ ابھی بھی اندر باہر آ جا رہے تھے جن میں سے اکثر گھر کے ملازمین تھے وہ دبے پاؤں اسکے پیچھے سیڑھیوں پر چڑھنے لگا

” کیا چاہیئے آپکو” ؟

وہ کسی کی آواز پر رکا اور پیچھے پلٹا وہاں سیڑھیوں سے نیچے ایک شخص سفید کرتا شلوار پہنے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا

“آپ اس گھر کے آدمی ہیں” ؟

باران نے صرف اتنا پوچھا

“جی یہ میری خالہ کا گھر ہے آپ کو کچھ چاہیئے” ؟

جہانزیب اب بھی سنجیدہ رہا

“میں واشروم ڈھونڈ رہا تھا آپ شاید میری مدد کر سکتے ہیں”

باران وہیں سیڑھیوں پر کھڑا پوچھ رہا تھا

“مہمانوں کے لیئے واشروم نیچے ہے دائیں طرف”

جہانزیب نے ہاتھ کے اشارے سے اسے راستہ بتایا

” اوو سوری مجھے معلوم نہیں تھا”

باران سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا

” ویسے آپکا نام کیا ہے “

باران سیڑھیوں سے اتر کر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا

” جہانزیب سلیم ڈی سی لاہور “

جہانزیب نے ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا تعارف کروایا

” اوو آپ ہیں نئے ڈی سی “

باران کو بدر کی بات یاد آئی تو یہ ہے جو ہمیں پھانسی کے تختے پر لٹکائے گا باران دل ہی دل میں ہنسا تھا اس نادان شخص پر وہ جانتا نہیں تھا کہ وہ کتنے خطرناک شخص سے مل رہا ہے

اسنے اسکے ہاتھ کو تھام لیا

” سردار باران خان “

” تو سردار باران خان کہاں کے سردار ہیں آپ” ؟

جہانزیب کو تجسس ہوا

” جہاں کے ڈی سی ہیں آپ “

بنا دیر کیئے جواب دیا گیا

” لاہور کے سردار ہیں آپ “

جہانزیب محظوظ ہوا

” ہمم لاہور کا بھی اور بلوچستان کا بھی “

باران نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور دونوں ہاتھ کو جینز کی جیبوں میں ڈال لیا

“جہاں تک مجھے علم ہے بلوچستان میں قبائلی نظام ہے آپ کسی ایک قبیلے کے سردار ہو سکتے ہیں پورے بلوچستان کے نہیں”

جہانزیب نے سینے پر ہاتھ باندھ لیئے

“بلکل صحیح کہہ رہے ہیں آپ مگر کیا ہے نا سرداری کا مطلب نہیں سمجھتے آپ۔۔۔۔۔ سردار چاہے میں ایک قبیلے کا ہوں مگر سرداری پورے بلوچستان پر کرتا ہوں”

“آپ کافی دلچسپ انسان ہیں آپ سے مل کر خوشی ہوئی”

جہانزیب اس کی پرسنیلٹی سے واقع متاثر ہوا تھا

“کیا میں آپکا نمبر لے سکتا ہوا”

جی بلکل کیوں نہیں باران نے اپنا موبائل جیکٹ کی اندرونی جیب سے نکال کر روشن کر لیا جہانزیب نے بھی اپنا موبائل نکلا لیا اور دونوں نے نمبرز ایکسچینج کر لیئے

“بات ہوتی رہے گی انشاللہ” باران نے ایک آخری بار اس سے ہاتھ ملایا

” ہمم انشاللہ “

” ہٹیں راستہ دیں “

وہ دونوں اسکی آواز پر پلٹے جو آسمانی رنگ کا ڈریس پہنے بہت معصوم لگ رہی تھی اور اس وقت ہاتھ میں کچھ کتابیں پکڑے نظریں جھکائے کھڑی تھی اسنے اوپر سے ہی جہانزیب کو دیکھ لیا تھا کچھ لمحے وہ ہر شے سے بے نیاز اسے دیکھے گئی یہ اسکی عادت تھی اور عادتیں آسانی سے نہیں چھوٹتیں اسنے پہلے سوچا وہ کہیں چھپ جائے ہاں اگر وہ پہلے والی رابیل ہوتی تو ضرور ایسا ہی کرتی مگر اب والی رابیل نے سوچا کہ وہ ہر شے کا سامنا کرے گی تو بس اسنے لڑکھڑاتے قدم مضبوطی سے سیڑھیوں پر رکھ دیئے وہ ہر زینے پر سے اترتے ہوئے بہت سی یادوں کو پیچھے چھوڑ رہی تھی اور سب سے مشکل کام تھا اسکا سامنا کرنا کیونکہ وہ دونوں بلکل سیڑھیوں کے سامنے کھڑے تھے پر آخر اسنے وہ مرحلہ بھی پار کر لیا

” رابیل کیسی ہو تم “

جہانزیب نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

اسکے سوال پر رابیل نے ایک شکوہ بھری نگاہ اس پر ڈالی

” ٹھیک ہوں “

اسنے اتنا کہا اور قدم باہر کی طرف بڑھا دیئے

پیچھے جہانزیب اسکے انداز کو دیکھتا ہی رہ گیا وہ رابیل جو اسکے آگے پیچھے پھرتی تھی اسکا یہ انداز اسکے لیئے عجیب تھا

باران نے ایک چھبھتی نظر جہانزیب پر ڈالی جو اب تک دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے رابیل گئی تھی اس شخص نے اسکا اتنا اچھا موقع ضائع کروا دیا ورنہ وہ اب تک اپنا کام کر کے جا بھی چکا ہوتا

وہ سر نفی میں ہلاتا وہاں سے ہٹ گیا

پر خیر آج رات رابیل کی موت طے تھی آج رات رابیل اپنے گھر زندہ نہیں پہنچے گی

جہانزیب بھی اسکے پیچھے پیچھے ہی باہر کی طرف بڑھ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو نایاب، اوو اب مجھے سمجھ آئی کہ تم یہاں کیا کرنے آئے تھے تم جانتے تھے کہ آج دلاور اور باران گھر پر نہیں ہیں اس لئے تم یہاں آئے تھے کہ تم یہاں پر کچھ معلومات اکٹھی کر سکو ہے نا”؟

بختاور نایاب کے لیئے کھانا ٹرے میں سجا کر لاؤنج میں آئی تو وہ وہاں نہیں تھا

لا شعوری طور پر وہ سیدھا دلاور خان کے کمرے میں ہی آئی تھی اور نایاب واقع وہاں الماری کھولے کھڑا تھا

” نہیں تم غلط سمجھ رہی ہو “

نایاب نے الماری بند کر دی اور اسکی طرف بڑھا

“میں جو بھی سمجھ رہی ہوں تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ بس”

اسکی آواز اونچی تھی

” جا رہا ہوں لیکن لالا کو کچھ مت بتانا “

نایاب نے اپنی غلطی مان لی اسے کسی کا ڈر نہیں تھا سوائے دلاور کے

“کیوں کر رہے ہو تم ایسا “

بختاور نے ایک ملامتی نظر اپنے چھوٹے بھائی پر ڈالی

” میں جا رہا ہوں “

وہ بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گیا

“اگر اگلی بار تم یہاں آئے تو میں دلاور کو سب بتا دوںگی”

بختاور تقریباً چلائی تھی

نایاب اسکی بات کو انسنی کرتا نکل گیا

کاش بختاور نا آتی تو وہ آج بہت سی معلومات اور زمینوں کے کاغذات حاصل کر لیتا

وہ یہ سوچتا سوچتا حویلی سے نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کہاں سے آرہی ہو تم اور یہ کیا ہے”

رابیل ثوابیہ کے پاس آئی جو سٹیج کے قریب ہی کرسی پر بیٹھی تھی اسنے غصے سے ہاتھ میں پکڑیں تین عدد کتابیں خالی کرسی پر دھر دیں

ثوابیہ نے پہلے اسکے انداز اور پھر کتابوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا

” کتابیں ہیں “

رابیل تھوڑا غصے سے ہی بولی

“وہ مجھے بھی نظر آ رہا ہے کتابیں ہیں پر تم اتنے غصے میں کیوں ہو “

” کچھ نہیں ہوا “

وہ اب کرسی پر بیٹھ گئی

” اچھا “

ثوابیہ نے اتنا ہی کہا

“رابیل وہ دیکھو وہ جو لڑکی ہے وہ جہانزیب کی بیوی ہے “

کچھ دیر بعد ثوابیہ نے رابیل کو مخاطب کیا تو لاشعوری طور پر بناکچھ سوچے سمجھے رابیل ایک طرف کو دیکھنے لگی جس طرف ثوابیہ نے اشارہ کیا تھا مگر جب اسنے اس کی بات سنی تو وہ تھم گئی عین اسکی نظروں کے سامنے ایک بے حد خوبصورت لڑکی سرخ جوڑے میں کھڑی کسی سے بات کر رہی تھی

پھر کوئی آدمی اس لڑکی کے ساتھ آ کھڑا ہوا ہاں وہ جہانزیب تھا وہ سلینہ کے ساتھ آ کھڑا ہوا

سارے منظر غائب ہوگئے بس رابیل دیکھ رہی تھی تو جہانزیب اور اسکی بیوی کو کون بیوی؟ رابیل نہیں سلینہ ۔ جس جگہ کو وہ ہمیشہ اپنا مانتی آئی تھی آج اس جگہ کوئی اور پورے اختیار کے ساتھ کھڑا تھا قدرت بھی کتنی ظالم شے ہے نا جس چیز کو آپ شدت سے چاہو وہ اسے تھالی میں سجا کر کسی اور نواز کو دیتی ہے۔ کیا دنیا ایسی نہیں ہو سکتی تھی کہ جس سے محبت ہو وہ آپکو مل جائے کوئی جس شے کی خواہش کرے وہ اسی لمحے اسے میسر ہو جائے کیا دنیا ایسی نہیں ہو سکتی تھی

وہ جہانزیب اور سلینہ کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہی تھی

سلینہ کی جگہ وہ ہوتی تو کیا ہو جاتا کیا آسمان پھٹ جاتا کیا پہاڑ پارہ پارہ ہوجاتے کیا چاند ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا کیا سورج آگ برسانے لگ جاتا جو ساری قدرت اسکے خلاف کھڑی ہوگئی کہ کچھ بھی ہو جائے مگر رابیل کو جہانزیب نہیں ملنا چاہیئے ورنہ قیامت آ جائے گی

رابیل کو ہر شے سے نفرت محسوس ہوئی اگر قدرت کی ہر شے اس سے خار نکال سکتی تھی تو کیا رابیل قدرت سے نفرت بھی نہیں کر سکتی تھی

“کیسی ہو تم دونوں اس سے ملویہ ہے سلینہ میری بیوی “

جہانزیب بلکل ثوابیہ اور رابیل کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا

ثوابیہ اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی

” ہاں مجھے دانین نے بتایا تھا تمہاری شادی کا” ثوابیہ نے زبر دستی کی مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پہ سجائی مگر رابیل اپنی جگہ پر بیٹھی ان دونوں کو دیکھتی رہی

“اسلام علیکم کیسی ہیں آپ دونوں مجھے جہانزیب اکثر آپ لوگوں کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں آپ غالباً ثوابیہ ہیں اور آپ رابیل ہے نا” ؟

چاشنی سے تر آواز رابیل کے کانوں میں گرم سیسے کی طرح ابلنے لگی

“جی بلکل صحیح پہچانا آپ نے میں رابیل ہی ہوں”

وہ اٹھی عین جہانزیب کے سامنے کھڑی ہوئی

” آپ تو مجھے بہت اچھے سے جانتی ہونگی” ؟

رابیل صرف سلینہ کو دیکھ رہی تھی البتہ کھڑی وہ جہانزیب کے عین سامنے تھی

“جی یہی میں کہہ رہی تھی آپ سب لوگوں کو میں جانتی ہوں جہانزیب اکثر بتاتے ہیں مجھے”

سلینہ کے ہونٹوں سے ایک لمحے کے لیئے بھی مسکراہٹ جدا نہیں ہوئی

“جہانزیب خالہ نہیں آئیں”

ثوابیہ نے جہانزیب سے پوچھا

“نہیں امی کی طبیعت تھوڑی خراب تھی تو وہ نہیں آسکیں ورنہ جو ہوا اسکے بعد وہ مجھے یہاں بھیجنا نہیں چاہتی تھیں”

رابیل نے ایک جھٹکے سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا

” اور معلوم نہیں شاید لوگ باتیں نا کریں اس لیئے تمہارے تایا نے ناچاہتے ہوئے ہمیں بلا لیا شادی میں ورنہ وہ کبھی میری شکل بھی نہ دیکھتے”

جہانزیب کہتا رہا وہ سنتی رہی وہ زخم جو بھرے ہی نہیں تھے پھٹ پڑے اور انسے خون رسنے لگا

کیا جہانزیب اس وقت صرف اسے اپنی بیوی کے سامنے شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اسنے ضرور سب اپنی بیوی کو بتایا ہوگا کہ کیسے میں اسکے پیار میں پاگل تھی کیسے اسکے بلانے پر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ایکسکیوزمی”

وہ منظر سے ہٹ گئی وہ مزید اپنی تذلیل برداشت نہ کر سکی وہ یہ نہیں کر سکتی تھی

اسکا دم گھٹنے لگا اس شور شرابے سے ان خوشگپوں سے اسے الجھن ہونے لگی اسنے ایک نظر اس مجمے پر ڈالی اسے لگا سب اس پر ہنس رہے ہیں وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی اور اس نے یہی کیا وہ اس گھر سے نکل گئی گھر کا گیٹ پار کر کے اسنے ایک لمبا سانس لیا سینے میں یکدم بہت درد اٹھا اسنے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا مانو دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سہارا دیا ہو آنسو ایک قطار کی صورت آنکھوں سے متواتر بہنے لگے گہرے سیاہ بادل اسکی حالت دیکھ کر رو دیئے آہستہ آہستہ ٹپ ٹپ پانی خشک مٹی پر گرتے ہی جذب ہونے لگا پر کوئی غور کرے تو لکھوں کہ جب قطرہ خشک مٹی پر پڑتا ہے تو وہ اپنا وجود کھو دیتا ہے اس مٹی میں گھل جاتا ہم سمجھتے اس قطرے کی کہانی ختم ہوگئی مگر کیا میں آپ کو بتاؤں کہ ایسا نہیں ہوتا یہاں سے تو اس قطرے کی کہانی شروع ہوتی ہے اسکے مقصد کی کہانی۔۔۔۔ شروعات ہوتی ہے خوشبو سے بھینی بھینی مٹی کی خوشبو جو ماحول کو اسکے مرنے کے بعد پھر زندہ کر دیتی ہے اور پھر ایک ننھا سا پودا اتنی بڑی زمین کو چیرتا ہوا نکل آتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ ننھا پودا ایک تناور درخت بن جاتا ہے بہت مضبوط اور ساتھ ہی ساتھ سایہ دار جو بہت سے جلتے لوگوں کو سایہ فراہم کرتا ہے سکون فراہم کرتا ہے اسی طرح بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی کہانی ختم ہو گئی مگر وہاں سے انکی کہانی شروع ہوتی ہے

وہ آہستہ آہستہ ایک جانب کو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگی

کچھ دیر میں ہی وہ زرد بتیوں سے سجا گھر دور رہ گیا دور سے وہ گھر بہت چھوٹا دیکھائی دے رہا تھا اسی پل کوئی اس گھر سے نکلا اور دور سے رابیل کو دیکھ کر اسکے پیچھے تیزی سے چلنے لگا چند قدموں میں وہ اس کے کافی نزدیک پہنچ چکا تھا

بارش اب تیز ہو رہی تھی

اسنے اپنی جینز کی پچھلی طرف سے اپنا ریوالور نکال لیا

وہ آنسو بہاتی ہوئی ہر شے سے انجان سڑک پر چلتی جا رہی تھی یہ ایک رہائشی علاقہ تھا اس لیئے رات کے اس وقت سنسان تھا

وہ لمبا ہاتھ کر کے اس پر نشانہ باندھ چکا تھا

ایک دو تین اور اسنے گولی چلا دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

← Episode 4

Advertisement

More by Nida e Eman