Faqeer e Muhabat by Nida e Eman Episode 1

- Writer
- Nida e Eman
- Genre
- Romantic
- Language
- Urdu
About this novel
Faqeer e Muhabat (Urdu: فقیر محبت) by Nida e Eman is a romantic Urdu novel about one-sided love, regret and revenge. Episode 1 opens in the present, with a girl in a black hijab telling an older woman that she wasted eight years of her life loving a man who never loved her back, and that now, when she no longer loves him, he finally loves her.
The story then goes back in time. Rabail Hassan, a gentle Quran student who lost her mother as a little girl, has quietly loved her cousin Jahanzeb for years. When her khala comes to ask for Rabail’s hand for Jahanzeb, the whole family celebrates, but Jahanzeb tells his mother he loves a girl he met at university and will marry no one else. Running alongside is the dark thread of Baran Khan, a man shaped by past trauma and burning for revenge for his mother’s death.
یہ کہانی ہے یکطرفہ عشق کی، محبت میں رسوائی کی۔ ایک ایسی لڑکی کی جو نا محرم سے محبت کر بیٹھی۔ ایسا نوجوان جسے وقت نے سفاک بنا دیا، جو بدلے کی آگ میں جل رہا تھا، جسے اپنی ماں کی موت کا بدلہ لینا تھا۔
ناول: فقیر محبت
ازقلم: ندائے ایمان
میری ماں کے نام
پہلی قسط
حال
“میں نے اپنی زندگی کے آٹھ سال ایک نامحرم کی محبت میں ضائع کر دیئے اور آپ جانتی ہیں مجھے ان آٹھ سالوں کے بعد کیا ملا “
وہ پل بھر کو رکی
“صرف پچھتاوا اور کچھ نہیں”
وہ آسمان پر گہرے سیاہ بادلوں کو دیکھتے ہوئے ٹرانس کی کیفیت میں کہہ رہی تھی
“وہ مجھ میں خون کی طرح دوڑتا تھا میں نے اسے اپنے اندر محسوس کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لیئے میں ہر حد پار کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس سے بہت محبت کی تھی”
وہ مسلسل گہرے بادلوں کو دیکھ رہی تھی
“کیا اب تم اس سے محبت نہیں کرتی” ؟
اسکے ساتھ کھڑی عورت بھی اب آسمان کی طرف دیکھنے لگی
“نہیں میں اب اس سے محبت نہیں کرتی”
ایک پل کے لیئے اس سیاہ حجاب والی لڑکی نے ساتھ کھڑی عورت کو دیکھا اور پھر دوبارہ اپنی نظریں گہرے بادلوں کی جانب مرکوز کر گئی
“آٹھ سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے اسے سوچنا میری عادت بن گئی تھی اور عادتیں تو آسانی سے نہیں چھوٹتیں
خود پر بہت قابو کرنے کے باوجود بھی میں اسے سوچ بیٹھتی ہوں ہاں مگر میں اب اس سے محبت نہیں کرتی”
ساتھ والی عورت اب اسے دیکھ رہی تھی
“کیا وہ بھی تم سے محبت کرتا تھا” ؟
اسکا سوال سن کر وہ لڑکی اب اس عورت کو دیکھنے لگی
“نہیں اسنے ان آٹھ سالوں میں مجھ سے کبھی محبت نہیں کی ہاں مگر”
وہ رکی
“مگر کیا؟”
عورت سے رہا نہ گیا
“ہاں مگر وہ اب مجھ سے محبت ضرور کرتا ہے”
اسکے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری
“کیا مطلب اب جب تم اس سے محبت نہیں کرتی اب وہ تم سے محبت کرتا ہے”
عورت کو صدمہ ہوا تھا شاید مگر وہ لڑکی ایک نظر اسے دیکھ کر پھر گہرے سیاہ بادلوں کو دیکھنے لگی
ادھر وہ جس نے کبھی اپنے باپ سے محبت کا اظہارتک نہیں کیا تھا انکو اس حالت میں دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا تھا
( “بابا ستاسو حال څه دی”)
بابا آپ کیسے ہیں
( “زما ستاسو لپاره ډیر پریشان یم”)
میں آپکے لیئے بہت پریشان ہو
وہ اس وقت اپنے باپ کے سرہانے بیٹھا اپنے باپ کو مختلف مشینوں میں گھرا دیکھ رہا تھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے باپ کا دایاں ہاتھ بہت ادب سےتھام چکا تھا
جبکہ وہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ کمزور نہ پڑے مگر وہ کمزور پڑ رہا تھا
( “زما اوه پریشان نه یو زما جان”)
میں ٹھیک ہوں پریشان مت ہو میری جان
( “مرګ تولانو دی نا”)
مرنا تو سب نے ہے نا
وہ اپنے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے جو دنیا والوں کے لیئے ہوگا دلاور احمد خان کا اکلوتا وارث جو اپنے علاقے کا بادشاہ تھا جس کی بادشاہت کے چرچے دور دور تک ہوتے تھے جس نے دلاور احمد خان کے بعد انکی دستار کا مان بڑھایا تھا ہاں وہ بلوچستان کی جان تھا مگر اسکی جان اس کے بابا میں تھی جن کو یوں بیماری نے ڈھا دیا تھا
(“بابا زه دي ستاسو پري بلکل یوځای یم
زما دي ښکاری چي د چا لاسونه مي پري کړی دی”)
بابا میں آپ کے بغیر بلکل اکیلا ہوں مجھے لگتا ہے کسی نے میرے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں
اس کی انکھوں میں کچھ گلابی سا تیرنے لگا
( “زما جان زه ہم ستاسو لپاره پریشان یم چي تاسو يوازې ياست”)
میری جان میں بھی تمہارے لیئے پریشان ہوں کہ تم اکیلے ہو
وہ بوڑھا شخص فکر مندی سے بولا
( “نو تاسو ښه کئ”)
تو آپ ٹھیک ہو جائیں
اس کی آواز آہستہ تھی بہت آہستہ
( “تاسو واده کړئ زه غواړم” )
میں چاہتا ہوں تم شادی کر لو
بوڑھے شخص کی بات میں التجا تھی شاید
کچھ دیر ماحول میں خاموشی چھائی رہی وہ نوجوان اپنے باپ کے ہاتھ کو تھام کر خاموش نظریں جھکائے بیٹھا رہا
(” دا زما آخري غوښتنه دی”)
یہ میری آخری خواہش ہے
باپ نے سارے تیر ایک ہی وقت میں بیٹے پر داغ دیئے
اس نے تڑپ کر اپنے باپ کو دیکھا تھا
وہ اب تک سیاہ بادلوں کو دیکھ رہی تھی جو برسنے کو تیار لگتے تھے
ماضی کی کتاب کے اڑتے اوراق دھندلاتے منظر دکھانے کی سعی کر رہے تھے
وہ کچھ لمحیں بنا پلک جھپکائے گہرے بادلوں کو دیکھتی رہی
پھر جب اسنے پلک جھپکی تو ایک ننھا سا شکوہ آنکھ سے ادا ہو گیا
مگر پھر اس نے آنکھیں کھول لیں اور بنا پلک جھپکائے سیاہ بادلوں کو دیکھنے لگی
ساتھ کھڑی عورت کبھی اسے دیکھتی تو کبھی ان سیاہ بادلوں کو کہ آخر ان سیاہ بادلوں میں ایسا کیا ہے جو وہ یوں انہیں دیکھ رہی ہے مگر اس عورت کو ان سیاہ بادلوں میں کوئی غور طلب چیز نہیں ملی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رابیل یار آٹھ بھی جاؤ گیارہ بج رہے ہیں آج گھر میں مہندی ہے اتنے مہمان آئے ہوئے ہیں اور تم یہاں سو رہی ہو
اور ذرا دیکھو میری شادی ہے اور میں تمہاری منتیں کرنے میں لگی ہوں چھوٹی بہنیں تو اتنی ایکسائٹڈ ہوتی ہیں بڑی بہنوں کی شادی میں اور خود کو دیکھو”
ثوابیہ ( جس کی شادی ہونے والی تھی اور آج مہندی تھی ) کمرے میں آئی تو اپنی چھوٹی بہن کو اٹھانے تھی مگر کمرے کی حالت دیکھ کر تو اسکا سر ہی چکرا گیا تھا وہ کمرہ سمیٹنے کے ساتھ ساتھ رابیل کو اٹھانے کی کوشش بھی کر رہی تھی مگر وہ رابیل ہی کیا جو اتنی جلدی اٹھ جائے
“یار اٹھ بھی جاؤ اب”
ثوابیہ نے اب آگے بڑھ کر رابیل کے چہرے سے کمبل ہٹا دیا
“کیا ہے آپی ساری رات آپ کی ڈھولکی میں رونق لگائی ہے اب آپ سونے نہیں دے رہیں یہ تو ناانصافی ہے”
وہ نیند میں ہی منمنائی تھی اور کروٹ بدل کر پھر سونے کی تیاری میں تھی
“خالہ بھی تمہارا پوچھ رہی تھیں”
ثوابیہ نے اسے پھر سوتے ہوئے دیکھ کر سر جھٹکتے ہوئے کہا
“کونسی خالہ” ؟
وہ یکدم اٹھ بیٹھی
“ہماری ایک ہی خالہ ہیں رابیل”
ثوابیہ کو اسکی کم عقلی پر افسوس ہوا
“اچھا مجھے لگا دو ہیں”
وہ ڈھٹائی سے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولی
“جلدی نیچے آنا”
ثوابیہ اسکی ڈھٹائی کو اگنور کرتے ہوئے ہدایت دیتی کمرے سے نکل گئی
“ہممممم خالہ میرے بارے میں پوچھ رہی ہیں اسکا مطلب ہے اتنے دنوں کی محنت ضائع نہیں ہوئی میں آپی کی شادی کے دوران خالہ کو پٹا ہی لوں گی اور پھر میری شادی ہوگی”
وہ اپنے دماغ کے لنگڑے گھوڑے دوڑاتی بیڈ سے اٹھی اور واشروم میں بند ہو گئی
بھلا شادیاں کوئی ایسے ہوتی ہیں کہ ساس کو پٹا لو لڑکے کو پٹا لو تو شادی ہو جائے گی ۔۔۔ کم عقل لڑکی
کھڑکی سے آتی ہوا اسکی کم عقلی پر تبصرہ کرتے گزر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ام عبد الرحمن!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ام عبد الرحمن !
وہ اپنا نام سن کر پلٹی تھی
“کیا ہوا” ؟
چونکہ پکارنے والی لڑکی فاصلے پر موجود تھی تو اس نے بلند آواز میں پوچھا
آپکو استاذہ بلا رہی ہیں انہیں کچھ کام ہے شاید آپسے ؟
پکارنے والی بھی بلند آواز میں بول رہی تھی
“اچھا تمہارا شکریہ میں مل لوں گی انسے کلاس کے بعد”
اسکا جواب سن کر لڑکی چلی گئی اور وہ بھی تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی وہ کلاس کے لیئے لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی کیونکہ اسکے سٹوڈنٹ اسکا انتظار کر رہے تھے اور اسے پسند نہیں تھا کسی کو انتظار کرانا
“اسلام علیکم”!
“کیسے ہیں آپ سب “
وہ جلدی جلدی کلاس میں داخل ہوئی اور ایک چھوٹی میز پر اپنے ہاتھ میں پکڑا ہینڈ بیگ اور کچھ کاغزات رکھنے لگی
“میں امید کرتی ہوں آپ سب خیریت سے ہونگے تو آج کا سبق شروع کرتے ہیں”
وہ پہلے اسی مدرسے میں پڑھتی تھی اور اب وہیں پڑھاتی تھی اسکی تعلیم مکمل ہو چکی تھی وہ ایک عالمہ تھی اور ایک حافظہ بھی
“اچھا تو آج ہم پڑھیں گے منافقت کے بارے میں کیا آپ میں سے کوئی مجھے آسان الفاظ میں بتا سکتا ہے کہ منافقت کیا ہوتی ہے”
اس سیاہ عبائے اور سیاہ حجاب والی لڑکی نے سیاہ عبائے اور سیاہ حجابوں سے چھپی چالیس لڑکیوں سے سوال کیا
“منافقت یہ ہے کہ آپ اندر سے کچھ ہوں اور باہر سے کچھ اور”
ان میں سے ایک لڑکی نے ہاتھ کھڑا کیا اور بتانے لگی
“بلکل ٹھیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی اور بتانا چاہے گا”
ام عبد الرحمن نے ایک بار پھر پوچھا
“جی آپ بتائیں”
ایک اور لڑکی نے ہاتھ کھڑا کیا تو وہ اس سے پوچھنے لگی
“اگر آپکا قول و فعل ایک جیسا نہیں ہے تو آپ منافق کہلاتے ہیں”
وہ لڑکی کھڑے ہو کر بتانے لگی جب ام عبدالرحمن نے اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا تو وہ بیٹھے بیٹھے ہی بتانے لگی
“شاباش بہت اچھا بتایا آپ نے”
اسے اس لڑکی کا جواب واقع بہت پسند آیا تھا
“منافقت دراصل دل ، دماغ اور عمل کے مابین ٹوٹے ہوئے تعلق کا نام ہے”
اب ام عبد الرحمن بول رہی تھی اور سب خاموشی سے سن رہے تھے اسکے الفاظ جھیل سے گرتے پانی کی طرح ادا ہو رہے تھے
“حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بتائی ہیں
پہلی جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے
دوسری کہ جب وہ وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
تیسری یہ کہ جب اسکے پاس کوئی امانت رکھوائی جائے تو وہ امانت میں خیانت کرے
اور چوتھی یہ کہ بات کے دوران غصہ کرے برے الفاظ کا استعمال کرنا شروع کر دے
ان چار باتوں میں ایک چیز مشترکہ ہے وہ کیا ہے” ؟
“جی آپ بتائیں”
وہ ایک لڑکی سے پوچھنے لگی
“یہ چاروں عمل برے ہیں یہ ان میں مشترکہ چیز ہے”
“بلکل ٹھیک”
وہ اس لڑکی کا جواب سن کر بہت خوش ہوئی تھی
“آپ نے بلکل ٹھیک کہا یہ سب برے عمل ہیں جب ہمیں اندازہ ہو کہ یہ عمل برا ہے اور پھر بھی ہم وہ عمل ڈھٹائی کے ساتھ کریں تو یہ منافقت ہے جھوٹ بولنا غلط ہے یہ ہم سب جانتے ہیں مگر پھر بھی ہم جھوٹ بولیں تو یہ منافقت ہے
ہم منافقت کو ایک اور طرح سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب ایک انسان زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللّہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اور مصیبت میں ہمت ہار کر مایوسی کے کلمات منہ سے نکالیں تو یہ بھی منافقت ہے
منافقت دھوکہ ہے…………… آپ اپنے دل میں کسی کے لیئے نفرت رکھتے ہوئے اس سے محبت کا دعویٰ کروگے تو آپ منافقین کی فہرست میں آجاتے ہو
منافقت جھوٹ اور دھوکے کے علاؤہ اور کچھ نہیں اور یہ دونوں عمل اسلام میں کبیرہ گناہ ہیں اسی لیئے منافقین کو دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے کی وعید سنائی گئی”
مگر آج کل تو جھوٹ اور دھوکہ یہ دونوں ہی بہت عام ہو گئے ہیں
ایک لڑکی نے سوال کیا
“جی اسی لیئے تو آج کے دور میں جنت حاصل کرنا زیادہ آسان ہو گیا ہے”
سب اسکی بات سن کر حیران ہو گئے تھے
‘جب آج کل اتنے گناہ ہو رہے ہیں تو جنت حاصل کرنا آسان کیسے ہو گیا ہے”
ایک اور لڑکی نے الجھتے ہوئے سوال کیا
“جی میں ٹھیک کہہ رہی ہوں”
اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری وہ ایک پل کو سانس لینے کے لیئے رکی اور بہت سی ہوا اندر کھینچ لی
“دیکھو اسے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرو اگر ہم سب ایک گیم کا حصہ ہیں اور پہلے چند راؤنڈ بہت آسان ہیں لیکن اگر وہ لوگ جن سے ہمارا مقابلہ ہے پہلے ہی راؤنڈ میں ہار جاتے ہیں تو ہم صرف پہلا ہی راؤنڈ جیت کر مقابلہ جیت سکتے ہیں ہمیں مشکل راؤنڈ کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اگر ساری دنیا جھوٹ بولتی ہے تو ہم جھوٹ کو مکمل طور پر چھوڑ کر سب سے آگے نکل سکتے ہیں پر یاد رکھیئے گا ہمیں پھر جھوٹ کو مکمل طور پر چھوڑنا ہوگا یہاں تک کہ مزاق میں بھی نہیں ہممم”
وہ پوری کلاس میں میں نظریں گھماتے ہوئے بتا رہی تھی اسکی بات مکمل ہوتے ہی سب کے چہروں پر اطمینان سا نظر آیا جسکا کا مطلب تھا سب کو اسکی بات سمجھ آگئی ہے
اسنے اپنی بات مکمل کر دی
” مجھے کچھ کام ہے اسی لیئے آج کلاس جلدی ختم کر رہی ہوں
کسی کو کچھ پوچھنا ہے”
وہ جلدی جلدی اپنا سامان جس میں کچھ کاغزات تھے اور اپنا موبائل وغیرہ اٹھاتے ہوئے پوچھ رہی تھی مگر کلاس میں خاموشی چھائی رہی جسکا مطلب تھا کسی کو کچھ نہیں پوچھنا
پھر وہ الوداعی کلمات کہتی کلاس سے باہر آگئی اب اسے استاذہ کی بات سننی تھی تو وہ ان کے آفس کی جانب بڑھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم خالہ!
وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو سب نے مڑ کر اسے دیکھا تھا اس وقت گھر کا ماحول ویسا ہی تھا جیسا شادی والے گھر کا ہوتا ہے
“وعلیکم السلام بیٹا
تم اتنی دیر تک سوتی رہی طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری”
خالہ نے تھوڑی فکر مندی سے پوچھا اب ان کو کون بتائے دو بجے اٹھنے والی گیارہ بجے اٹھی ہے شاید اس کی طبیعت واقع خراب ہو گئی تھی
“نہیں خالہ میں اٹھی ہوئی تھی کافی دیر سے پھر میں نے سوچا رات کے فنکشن کی تیاری کر لوں کپڑے وغیرہ استری کر لوں…….. آپ بھی مجھے اپنے کپڑے دے دیں میں استری کر دوں گی”
وہ خالہ کے قریب صوفے پر بیٹھ چکی تھی کسی سے جھجھکتی ہوئی تھوڑا گھبراتی ہوئی۔ ہاں وہ اپنے خالہ زاد سے نظریں نہ ملا سکی اسے دیکھ تک نہ سکی جسے ہر وقت دیکھنے کی تمنا کرتی تھی اب وہ سامنے بیٹھا تھا تو اسے دیکھ ہی نہ سکی اتنی شرمیلی ہماری رابیل پتہ نہیں کب سے ہو گئی
“نہیں بیٹا میں کروا لوں گی اپنے کپڑے استری تم بتاؤ آج فنکشن میں رونق کونسے گانے پر لگاؤ گی”
خالہ نے مزے سے پوچھا
سب رابیل کے جواب کے منتظر نظر آتے تھے اس وقت لاونج میں بڑی امی ( رابیل کی تائی جان جو ڈوپٹے پر کڑھائی کرنے میں مصروف تھیں ) دانین ( تائی جان کی بیٹی رابیل کی کزن ) خالہ اور خالہ کا ایک عدد بیٹا جہانزیب موجود تھے
“یہ تو آپ سب کے لیئے سرپرائز ہے فنکشن میں پتہ چلے گا”
رابیل یکدم اکسائیٹڈ ہوئی
“لو بھئی اسکا مطلب ہے آج رات بھی ہمارے گھر کے لان کی خیر نہیں ہے”
جہانزیب نے اسے چھیڑتے ہوئے تبصرہ کیا
رابیل کی تو مانو سانسیں ہی بند ہو گئی ہوں
سب جہانزیب کی بات پر ہنس دیئے مگر وہ تو تھم گئی تھی اس شخص کو ہنستے ہوئے دیکھ کر اسے لگا اسکی دھڑکنیں جو ہمیشہ اسے دیکھ کر بڑھ جاتی تھیں اس وقت رک گئی تھیں مانو دل پہلے کبھی دھڑکا ہی نہ ہو اسے اس وقت علم ہوا کہ سامنے بیٹھا وہ شخص اسکی دھڑکنے روکنے کی بھی صلاحیت رکھتا تھا
“رابیل کیا ہوا” ؟
دانین جو اسکے ساتھ بیٹھی تھی اسے یوں کہیں کھوئے ہوئے دیکھ کر بولی
“ہاں ۔۔۔۔۔۔ نہیں کچھ نہیں”
وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی
“رابیل بیٹا جاؤ ذرا خالہ اور میرے لیئے چائے تو بنا لاؤ ڈوپٹہ کڑھائی کرتے کرتے میرے سر میں اب درد ہونےلگا ہے”
تائی جان نے نظر کی عینک سر پر جماتے ہوئے اسے مخاطب کیا جبکہ ثوابیہ کے نکاح کا دوپٹہ جسے وہ تیار کر رہی تھیں اب انہوں نے ایک طرف رکھ دیا
“جھی بڑی امی میں ابھی بنا کر لاتی ہوں چائے”
وہ اپنی جگہ سے اٹھی دانین بھی اسکے ساتھ اٹھی
“آپ چائے پیئں گے جہانزیب بھائی”
دانین نے اس سے پوچھنا ضروری سمجھا
“نہیں نہیں میں چائے نہیں پیتا مجھے چائے اچھی نہیں لگتی”
جہانزیب دانین کو بتا رہا تھا کہ اسے چائے نہیں پسند اسی لمحے رابیل حسن کو چائے سے نفرت محسوس ہونے لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیئے چائے چھوڑ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیاہ پی کیپ اور سیاہ ماسک سے اپنا چہرا چھپائے تارکول کی صاف ستھری سڑک پر آگے بڑھتا گیا
سیاہ جیکٹ کی زپ کو گردن تک بند کیئے سیاہ جینز پہنے وہ انتہائی مضبوطی سے آگے بڑھ رہا تھا
نپے تلے قدم اٹھاتا جیسے ہی وہ تارکول کی سڑک پر مڑا تو سامنے ہی اسے لاہور کا ایک گم نام کلب نظر آ گیا جو تھا تو گم نام مگر اس وقت رات کے اس اندھیرے میں اس کلب میں وہ ہر شخص پایا جاتا تھا جو خود کو عوام کا خیر خواہ کہتا تھا یعنی سیاستدان
اسنے پی کیپ کو مزید جھکا کر اپنا چہرہ مزید چھپایا اور صرف چند قدموں میں لمبہ فاصلہ طے کرتا کلب کے دروازے تک پہنچ گیا
شیشے کا انتہائی بھاری دروازہ دھکیل کر اندر آؤ تو ماحول ویسا ہی تھا جیسا کہ کلبز کا ہوتا ہے ہر طرف سیگریٹ کے دھوئیں اورشراب کی ملی جلی گند پھیلی ہوئی تھی اور لوگ مختلف ٹولیوں کی صورتوں میں کرسیوں پر براجمان تھے
وہ لوگوں اور اس ناقابل برداشت گند کو نظر انداز کرتا آگے بڑھتا گیا اسکے انداز سے لگتا تھا کہ وہ اس کلب کے چپے چپے سے واقف ہے
وہ اب بیسمنٹ کی سیڑھیاں اتر رہا تھا نیچے اترنے کے بعد اسکے سامنے ایک چھوٹی لابی تھی جس میں چند کمرے بنائے گئے تھے اور ان میں سے ایک کمرے میں ہی اسکا شکار موجود تھا
وہ چند قدم اٹھاتا ایک دروازے کے سامنے رکا اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا
دروازہ کھولتے ہی اس کے سامنے نفاست سے سیٹ کیئے گئے کمرے کے وست میں ایک جہازی سائز کا بیڈ تھا جس پر وہ نشے میں دھت بے ہوش پڑا تھا اسنے محتاط انداز میں دروازہ بند کیا اور قدم قدم چلتا بیڈ تک آگیا
کمرے پر غور کرو تو وہ کوئی بہت بڑا کمرہ نہیں تھا جہازی سائز بیڈ کے داہنی طرف دو چھوٹے صوفے رکھے گئے تھے جن کے درمیان شیشے کی چھوٹی میز پر حرام مشروب کی خالی کانچ کی تین عدد بوتلیں موجود تھیں
گھوم کر بیڈ کی طرف آؤ تو بیڈ پر ایک شخص بے ہوش پڑا تھا
آنے والے کو اس شخص کی حالت سے گھن محسوس ہوئی تھی شاید اسی لیئے اسنے
ساتھ رکھی میز پر سے پانی کا بھرا ہوا جگ اٹھایا اور ایک ہی بار میں اسنے وہ سارا پانی اسماعیل حمدانی پر انڈیل دیا
اسماعیل حمدانی ایک جانا مانا سیاستدان پنجاب حکومت میں ابھرتا ہوا نام جو اس وقت اپنی موت کو سامنے دیکھنے والا تھا
اسماعیل حمدانی ایک جھٹکے سے ہربڑا کر اٹھ بیٹھا
اسے کچھ وقت سچویشن کو سمجھنے میں لگا مگر اگلے ہی پل سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اسکا سارا نشہ ہوا گیا
“خا۔۔۔۔۔۔خان میری بات سنو۔۔۔۔۔۔م۔۔۔ میں تمہارے پا۔۔۔۔۔پاس آنے والا تھا میں”۔۔۔۔۔
وہ انتہائی خوف میں بولنے کی کوشش کر رہا تھا تبھی اسکے الفاظ ٹوٹ رہے تھے
“کب” ؟
خان انتہائی غصے میں دھاڑا اور ایک پاؤں بیڈ پر ٹکا کر اس پر جھک گیا وہ آدمی جو خود پر پانی پڑنے کی وجہ سے ہڑبڑا کر اٹھا تھا اسکے جھکنے کی وجہ سے دوبارہ بیڈ پر تقریباً لیٹ گیا خوف سے اسکی آنکھیں خان کی آنکھوں میں جامد ہو گئی تھیں
“کب آنے والے تھے تم ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی موت کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں صاف صاف بتایا تھا کہ مجھے دھوکا دینے کی کوشش مت کرنا مگر تمہاری اس موٹی عقل میں بات نہیں آئی مگر تمہاری اس موٹی چمڑی میں میرے ریوالور کی گولی ضرور داخل ہو جائے گی”
خان اس پر جھکا ہوا پھنکار رہا تھا
“خان۔۔۔مجھے مع۔۔۔معاف کردومجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی خان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں تمہارے کام کے پیسے کل ہی آ کر دے جاؤں گا۔ مجھے کچھ مت کرنا خان پلیز”
اسماعیل حمدانی اب باقائدہ منتوں پر اتر آیا تھا خوف کی وجہ سے وہ تھر تھر کانپ رہا تھا
“اگر جو میں میڈیا کو بتا دوں کہ اسماعیل حمدانی نے اپنے بھائی قاسم حمدانی کو مروا کر پارٹی کا ٹکٹ حاصل کیا ہے تو کیا تمہارا یہ نام باقی رہ سکے گا” ؟
وہ ابھی بھی اس پر جھکا ہوا تھا
“تم ایسا نہیں کر سکتے خان کیونکہ تم مجبور ہو ۔۔۔۔۔۔ تم بھول رہے ہو کہ تمہارے گروپ کو ہم جیسے سیاست دان ہی سپورٹ کرتے ہیں اگر میرا راز باہر نکلا تو تم لوگوں پر کون یقین کرے گا اور پھر تمہاری یہ دہشت ختم ہو جائے گی اور تم ایسا ہرگز نہیں چاہو گے ہے نا” ؟
وہ خوفزدہ تھا مگر اب اپنے خوف کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا شاید اگر جو وہ خان کو بتائے کہ اس کے ساتھ کچھ غلط کرنے پر وہ اپنی دہشت اپنا نام کھو دے گا تو خان اسکی جان بخشی کر دے
ہاہاہاہا
مگر اسکی بات پر خان کا ایک بلند قہقہ اس کمرے میں گونجا تھا
وہ بیڈ سے پیچھے کو ہوا اور ہنستا ہی چلا گیا
پی کیپ اور ماسک کی وجہ سے اسکا چہرا دکھتا تو نہیں تھا مگر اسکا قہقہ اس کمرے میں گونج رہا تھا
“تمہیں واقع لگا کہ خان کو ان سب چیزوں کی پروا ہے۔۔۔۔۔۔ تمہیں مر ہی جانا چاہیئے “
ہاہاہاہا
ایک بار پھر کان پھاڑ دینے والا قہقہ گونجا
اسماعیل حمدانی جو موقع پا کر اب دوبارہ بیٹھ چکا تھا اسے ہنستے ہوئے دیکھے گیا
“خان کو تمہاری سپورٹ کی ضرورت نہیں ہے مگر تمہیں تمہاری موت کے لیئے خان کی اشد ضرورت ہے”
خان نے اپنی جینز میں پچھلی طرف آڑھا اور جیکٹ سے چھپا سیاہ ریوالور نکالا اور پھر اسے کھول کر اوپر نیچے سے چیک کرنے لگا
تم یہ کیا کر رہے ہو””
اسماعیل حمدانی اسے ریوالور نکالتے دیکھ کر کانپنے لگا تھا
وہ اسکو نظر انداز کرتے ہوئے اب ایک سفید رومال سے وہ سیاہ ریوالور صاف کر رہا تھا
“اگر تم میڈیا کو بتانا چاہتے ہو تو بتا دو بلکہ میں خود بتا دونگا مگر مجھے مت مارنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے میرے کہنے پر میرے بھائی کو مارا تم مجھ سے ڈبل قیمت لے لو مگر مجھے مت مارنا پلیز خان پلیز”
وہ بیڈ سے اٹھ کر اب کمرے کے ٹھنڈے فرش پر کھڑا تھا
“مگر اس میں میرا کیا فائدہ”
خان نے دایاں ہاتھ لمبا کر کے اسماعیل حمدانی پر نشانہ باندھا
“کلمہ پڑھو”
وہ عام سے انداز میں بول رہا تھا
خان پلیز ۔۔۔۔خان پلیز”
مت بھولو خان سیاست بہت سے لوگوں کو اٹھاتی بھی اور بہت سے لوگوں کو گراتی بھی ہے
اور تم اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہو۔۔۔۔ میری موت کوئی عام موت نہیں ہوگی بہت سے گروپ تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے انڈرولڈ مافیا سے دشمنی بہت مہنگی پڑے گی تمہیں تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو“
اسماعیل حمدانی خان کو دھمکانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اگر اسنے ایسا کیا تو وہ بہت بھاری قیمت چکائے گا
“میں نے کہا کلمہ پڑھو“
مگر خان کی دھاڑ پر اس کمرے کی درودیوار تک ہل کر رہ گئے
خا۔۔خان۔پلیز۔۔۔۔۔
وہ ابھی کچھ بولتا کہ خان نے گولی چلادی وہ ایک سائلنٹ گن تھی بس کلک کی آواز کے ساتھ گولی اسماعیل حمدانی کے سر کے آر پار ہو گئ
اس سیاہ ماسک اور سیاہ پی کیپ سے اپنا چہرہ چھپانے والے کی آنکھیں ایک پل کو عجیب طرح سے مسکرائیں جیسے اسے بہت سکون ملا ہو کسی کی جان لے کر
اسماعیل حمدانی منہ کے بل فرش پر ڈھے گیا اور خان ریوالور کو دوبارہ جینز میں آڑھتے ہوئے کمرے سے نکل گیا وہ جس انداز اور خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے کلب کی ناقابل برداشت گند کو نظر انداز کرتا کلب سے نکل گیا شیشے کے بھاری دروازے کو اپنی طرف کھینچ کرکھولتے ہی جیسے ہی وہ باہر نکلا تو تازی ہوا نے اسکا استقبال کیا
کلب کی نا قابلِ برداشت بدبو کے بعد اس تازی ہوا نے مانو دماغ کو سن ہونے سے بچا لیا ہو
پھر وہ قدم قدم تارکول کی سڑک پر چلنے لگا آہستہ آہستہ رات کی تاریکی اسے اپنے اندر چھپانے لگی اور وہ جلد ہی عنقا ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مہندی تھی جس کے انتظامات لان میں ہی کیئے گئے تھے لان کو خوبصورتی سے ہرے اور گلابی کنٹراس میں سجایا گیا تھا اور یہی ڈریس کوڈ بھی تھا تقریباً سب ہی ہرے اور گلابی کپڑوں میں ملبوس تھے
ثوابیہ چونکہ دلہن تھی تو اسکا ڈریس سب سے منفرد ہونا تھا وہ ہرے اور پہلے رنگ کے خوبصورت لانگ فراک میں دمک رہی تھی
“بیٹا میں آجاؤں “
حسن صاحب نے دروازہ ناک کر کے پوچھا
“بابا آپکو اجازت کی ضرورت نہیں ہے ثوابیہ نے باپ کی آواز سن کر خود جا کر دروازہ کھول دیا تھا
“ارے میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے“
اپنی بیٹی کو دیکھ کر انہوں نے دل سے اسکی تعریف کی تھی
“بلکل اپنی امی کے جیسی لگ رہی ہو“
ان کی آنکھیں گلابی پڑنے لگیں
ثوابیہ انہیں اندر لا کر بیڈ پر بٹھا چکی تھی اور خود وہ گھٹنوں کے بل زمین پر اپنے باپ کے سامنے بیٹھ گئی
“آپ تو کہتے تھے کہ میں آپ کے جیسی ہوں اور رابیل امی کے جیسی ہے“
ثوابیہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں یقیناً اسے اپنی ماں کی یاد آ رہی تھی اور وہ اپنے آنسوچھپا رہی تھی
“نہیں تم دونوں ہی حنا کے جیسی ہو بلکل اسکا عکس ہو تم دونوں“
حسن صاحب خیالوں میں اپنی بیوی کو دیکھ پا رہے تھے
“بابا آج امی ہوتیں تو بہت خوش ہوتیں نا“
ثوابیہ بھی کہیں دور اپنی ماں کے آغوش میں لپٹی ہوئی تھی وہ دس سال کی تھی جب انکی امی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان سے ہمیشہ کے لیئے دور ہو گئی تھیں تب رابیل آٹھ سال کی تھی حسن صاحب نے دونوں بیٹیوں کو سنبھال لیا تھا مگر خود بہت اکیلے ہو گئے تھے ہر چیز سے دلچسپی مانو ختم ہو گئی تھی کاروبار اپنے بڑے بھائی حسین صاحب ( بڑے ابو ) کے حوالے کر کے وہ خود زیادہ تر اپنے کمرے میں رہنے لگے۔ دونوں بچیوں کو انکی بڑی امی نے اپنی بیٹیاں بنا لیا تھا دانین کی طرح جو اس وقت نو سال کی تھی آہستہ آہستہ وقتی ضرورت کے پیشِ نظر حسین صاحب نے سارا کاروبار اپنے نام کرا لیا تھا اور بہت اچھے انداز میں کاروبار کو مزید پھیلا لیا تھا اسی طرح زندگی کے بارہ سال گزر گئے لیکن حسن صاحب اپنی بیوی کو نہ بھول سکے انہوں نے اپنی زندگی اپنی بیٹیوں اور اپنے کمرے تک محدود کر لی تھی
“ہاں وہ یقیناً بہت خوش ہوتی اپنی بیٹی کو جب دیکھتی کہ وہ بلکل اس کے جیسی ہے تو وہ بہت خوش ہوتی اور“
وہ بھیگی آنکھوں کو صاف کر نے کے لیئے رکے
“اور شاید وہ تھوڑی دکھی بھی ہوتی“
وہ اپنی بیٹی کے چہرے پر سے نظریں نہیں ہٹا رہے تھے
“دکھی کیوں ہوتیں“؟
ثوابیہ نے بھیگی نظریں اٹھا کر سوال کیا
“کیونکہ ان کی بیٹی ان کے گھر کو چھوڑ کر جو جا رہی ہے”
انکی آنکھیں پھر بھیگنے لگیں
“بابا اب آپ ایسے روئیں گے تو میں شادی نہیں کروں گی”
وہ یکدم اٹھ کر اپنے باپ کے سینے سے جا لگی
“ارے ارے کیوں نہیں شادی کرنی“
وہ ہنستے ہوئے بولے تھے جبکہ انکی آنکھیں ابھی بھی بھیگی ہوئی تھیں
“آپ کو چھوڑ کر رابیل کو چھوڑ کر میں نہیں جانا چاہتی اور رابیل وہ تو پوری پاگل ہے وہ خود کو کیسے سنبھالے گی ۔۔۔۔۔۔ شادی کے بعد تو مجھے آپ دونوں کی ہی فکر لگی رہے گی اس سے بہتر یہ نہیں ہے کہ میں شادی ہی نہ کروں“
وہ اپنے باپ کے سینے سے لگی کہہ رہی تھی اور وہ ہنستے جا رہے تھے
“ارے میں تمہاری شادی کے بعد اسکی بھی شادی کر دوں گا بس ٹینشن فری ہو کر زندگی گزاروں گا پھر“
حسن صاحب اسے چھیڑ رہے تھے وہ ہنس دی
” یہ باپ بیٹی کی کیا میٹنگ ہو رہی ہے میرے بغیر“
رابیل پھولے سانس کے ساتھ ہرے لانگ فراک پر گلابی دوپٹہ سنبھالتی کمرے میں داخل ہوئی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ یہاں سے”
ثوابیہ نے اسے فرضی غصے سے ڈانٹا
“میں کیوں جاؤں بھلا۔۔۔۔۔ مجھے تو تائی جان نے جب بتایا کہ آپ دونوں یہاں ہیں تو میں تو بھاگ کر آئی ہوں کہیں آپ دونوں میرے خلاف کوئی سازش ہی نا کر رہے ہوں”
رابیل آگے بڑھتے ہو اپنے باپ کے گلے لگ گئ بھلا جب ثوابیہ ان کے گلے لگی ہوئی تھی تو وہ کیوں پیچھے رہتی
“رابیل پاگل ہو کیا سوچ کر تو بولا کرو ہم نے کونسی سازش کرنی ہے”
ثوابیہ خفگی سے بولی لیکن اب تو رابیل پر اسکی ناراضگی کا بھی اثر نہیں ہوتا تھا کیا کرے وہ اس پاگل سی کا
“ہاں تو پھر کیا باتیں کر رہے تھے”
وہ بھی ناک چڑھاتے ہوئے بولی جبکہ حسن صاحب دونو بیٹیوں کو سن رہے تھے یکدم وہ ایک بیس اورایک بائس سال کی لڑکی باپ کی نظروں میں دس اور بارہ سال کی بچیاں بن گئی تھیں
“بابا اسے دیکھ لیں میری شادی ہو رہی ہے اور یہ ایسی باتیں کررہی ہے”
ثوابیہ نے شکایت کی اب وہ روہانسی ہو گئی تھی
“رابیل مت کرو بہن کو تنگ“
حسن صاحب نے رابیل کو چپ کر وانا چاہا
“اچھا اچھا نہیں کرتی میں تنگ کیا یاد کرو گی”
رابیل نے احسان جتانے والے انداز میں کہا
جبکہ حسن صاحب دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہی رہے
حسن صاحب کچھ دیر اور ثوابیہ کے پاس بیٹھے رہے پھر وقت آگیا کہ مہندی کے فنکشن کو شروع کر دیا جائے تو رابیل اور دانین ثوابیہ کو باہر اس خوبصورت سٹیج پر لے آئیں جہاں خاندان کی کچھ عورتوں نے دلہن کو باری باری مہندی لگا کر رسم ادا کی
مہندی کے فنکشن میں رابیل نے چھوٹی بہن ہونےکا ثبوت دے دیا تھا کیوںکہ اس کے بقول چھوٹی بہن وہ ہوتی ہے جو بڑی بہن کی شادی پر رونق لگاتی ہے اور جہانزیب کی کہی گئی بات بلکل سچ ثابت ہوئی تھی لان کی خیر نہیں چھوڑی تھی رابیل نے ہر کوئی اس ہنستی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر ہی خوش ہو رہا تھا مگر کہتے ہیں نا نظر خوشیوں کو کھا جاتی ہے رابیل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جن لوگوں نے مجھ سے میری ماں کو چھین لیا تم چاہتی ہو میں انہیں معاف کر دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید تم نے اپنی ماں کو تڑپتے ہوئے نہیں دیکھا اور اللّہ نہ کرے کوئی اپنی ماں کو تڑپتے ہو دیکھے جب وہ درد سے چلا رہی ہو اور اسکے پاس کوئی مدد کرنے کے لیئے نہ ہو اور آپ اتنے بے بس ہوں کہ بس اپنی ماں کو مرتے ہوئے دیکھ سکتے ہوں اور کچھ نہ کر سکتے ہوں ۔ پوری رات آپ نے اپنی ماں کے مردہ وجود کے ساتھ لپٹ کر گزاری ہو اور کہہ رہے ہوں کہ ماں مجھے ڈر لگ رہا ہے مگر وہ بے جان وجود ٹھنڈا پڑتا جا رہا ہو
میں کچھ بھی کر سکتا ہوں مگر میں اپنی ماں کے قاتلوں کو معاف نہیں کر سکتا”
سرخ آنکھوں سے بہتا گرم سیال اور بکھرا ہوا حلیہ لے کروہ تو وہ تھا ہی نہیں جسے وہ جانتی تھی یہ تو کوئی اور تھا ایک معصوم بچہ جو آج بھی کئی برسوں پہلے لگی آگ میں جل رہا تھا جیسے اسے اس وقت اپنے بےبس ہونے پر دکھ ہو بہت دکھ ایسا دکھ جو دل کو چیر دیتا ہے
“تم انہیں اللّٰہ کی رضا کے لیئے بھی معاف نہیں کر سکتے”
وہ لڑکی اسے اس طرح دیکھ کر رو دی تھی ہاں آخری بار اپنے باپ کے لیئے رونے کے بعد وہ آج پھر روئی تھی ایک مرد کے لیئے جو اسکا محرم تھا اسکا شوہر تھا اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوتا گیا
وہ شخص اسکی بات پر کچھ لمحوں کے لیئے سانس نہیں لے سکا
“نہیں میں انہیں معاف نہیں کر سکتا کسی بھی صورت میں نہیں”
یہ لفظ اسکے منہ سے ادا ہوئے ہی تھے کہ اس شخص کو لگا اس نے کچھ کھو دیا مگر وہ اپنی بات پر قائم رہا اور نظریں پھیر گیا
“تو خود کو معاف کر دو”
لڑکی کی آواز دھیمی تھی بہت دھیمی
وہ چپ رہا بلکل چپ
“جب تک ہم خود کو معاف نہیں کرتے ہم دوسروں کو بھی معاف نہیں کر پاتے اس لیئے ضروری ہے کہ ہم پہلے خود کو معاف کر دیں “
وہ لڑکی اپنا لہجہ مضبوط رکھتے ہوئے کہہ رہی تھی
“آپ اپنے آپ کو قصوروار سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی ماں کو نہیں بچا سکے مگر آپ محض نو سال کے بچے سے کیا توقع کرتے ہیں کہ ایک نو سال کا بچہ رات کی تاریکی میں سنسان سڑک پر اپنی ماں کی مدد کیسے کرتا”
وہ لڑکی اسے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ اس کی باتوں سے اس شخص کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے جو اب تک رخ پھیرے کھڑا تھا
“کیا تم معاف کر سکی ہو خود کو”
یکدم وہ پلٹا اور اس لڑکی پر دھاڑا جس پر وہ لڑکی دو قدم پیچھے ہوئی
“کیا تم معاف کر سکی ہو خود کو کہ تمہاری وجہ سے تمہارا باپ مر گیا آج تک تم اس بات کا الزام خود کو دیتی آئی ہو
خود کو کوستی آئی ہو تم۔۔۔۔۔۔ باتیں کرنی بہت آسان ہوتی ہیں محترمہ لیکن حقیقت اس سے بلکل مختلف ہے۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ سر پر یہ حجاب باندھ لینے سے دوچار کتابیں پڑھ لینے سے تم لوگوں کو لیکچر دیتی پھرو گی اور کوئی تمہیں تمہاری اصلیت نہیں دکھائے گا “
وہ حقارت سے اسکے حجاب کو دیکھ کر کہہ رہا تھا
“ “میں تمہیں بتاؤں حقیقت کیا ہے وہ دو قدم آگے بڑھا جبکہ وہ لڑکی دوم قدم مزید پیچھے ہٹی
“حقیقت یہ ہے کہ تم ایک منافق ہو جو دوسروں کو دین سکھاتی پھرتی ہے اور خود بلکل اس پر عمل نہیں کرتی تم خود کو استاذہ کہلانے پر غرور کرتی ہو اور سمجھتی ہو کہ آتے جاتے لیکچر دینا تمہارا فرض ہے مگر میں بتاؤں تمہیں دین کیا ہوتا ہے”
وہ کچھ پل کو رکا
“ہر وقت کسی کو نصیحت نہ کرنا بھی دین ہے مگر تمہیں اس سے کیا غرض تم بنا لوگوں کے جزبات کو سمجھے انہیں لیچکر دیتی رہنا ساری زندگی”
وہ اسے کندھوں سے تھام چکا تھا اسکی گرفت اس قدر سخت تھی کہ اس لڑکی کو لگا کہ جیسے اس شخص کی انگلیاں اس اسکے وجود میں پیوست ہو گئی ہوں
“تم ایک منافق ہو جسکا عمل لوگوں کو تکلیف دیتا ہے مگر وہ ایسا جتاتی ہے مانو اس سے بڑا ہمدرد تو کوئی ہے ہی نہیں”
اسنے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ بمشکل خود کو گرنے سے بچا سکی وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی اسے گرم سیال اپنے چہرے پر بہتا محسوس ہوا
جبکہ وہ شخص چند لمحے اسے غصے سے دیکھ کر اب کمرے سے جا چکا تھا اور وہ وہیں بیٹھتی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سلینہ کیسی ہو تم میں تمہیں بہت مس کر رہا ہوں چار پانچ دن تک یہ شادی ختم ہو جائے گی تو میں تم سے ملنے آؤں گا”
جہانزیب فون پر کسی سلینہ نامی لڑکی سے بات کر رہا تھا اور دور سے رابیل اسے دیکھ رہی تھی مہندی کا فنکشن ختم ہوچکا تھا اور سب مہمان جا چکے تھے اب صرف گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگا رہے تھے
“ہاں یار جلدی آجاؤ میں بھی تمہیں مس کر رہی ہوں”
فون سے نسوانی آواز ابھری جسے سن کر جہانزیب کے چہرے پر چمک سی آ گئی تھی
“تم کہو تو ابھی آ جاتا ہوں”
وہ محظوظ ہوا
“نہیں نہیں اب اتنی بھی یاد نہیں آ رہی”
وہ لڑکی بھی محظوظ ہوئی
“اچھا جی چلو پھر جب یاد آئے گی تب آؤں گا”
وہ چڑ گیا
مگر فون پر ابھرنے والا زوردار قہقہہ اسے بھی ہنسنے پر مجبور کر گیا
دور سے رابیل اسے ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی اسکے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی ۔۔۔۔ نادان لڑکی
“جاؤ جاؤ انکے پاس جا کر ہنس لو”
دانین نے اسکے کان میں سرگوشی کی جس پر رابیل نے اسے گھوری سے نوازا
“میں نے تمہیں اپنا اتنا بڑا راز بتایا اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم مجھے اس طرح تنگ کرو”
وہ خفا ہوئی
“اچھا اور جس طرح سے تم انہیں دیکھ کر مسکرائے جا رہی ہو سب کو تمہارے اس بڑے راز کے بارے میں پتہ چل جائے گا”
دانین نے تھوڑی اونچی آواز میں کہا
ششششش رابیل نے دانین کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور محتاط انداز میں سب کی طرف دیکھا مگر شکر ہے سب اپنی باتوں میں مصروف تھے
“ہاتھ ہٹاؤ”
دانین نے اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا
“پاگل ہو رابیل تم “
وہ سر جھٹک کر بولی
جبکہ رابیل اب اسے نہیں دیکھ رہی تھی وہ جہانزیب کو دیکھ رہی تھی جو اسی طرف چلا آ رہا تھا
“جی جہانزیب بھائی”
دانین نے اسے اپنے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے دیکھ کر پوچھا
“تم دونوں میں سے مجھے کوئی کافی بنا دے گا میرے سر میں درد ہو رہا ہے میں امی سے کہہ دیتا مگر امی ذرا مصروف ہیں”
اسنے اپنی امی کو دیکھا جو رابیل کی تائی جان کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں
“جی بھائی میں بنا دیتی ہوں”
دانین اپنی جگہ سے اٹھی
“تھینکیو دانین اور پلیز کسی کے ہاتھ میرے کمرے میں بھجوا دیجیئے گا کافی”
“ٹھیک ہے بھائی”
دانین کا جواب سن کر لاشعوری طور پر رابیل کو ایک نظر دیکھتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جو اسے عارضی طور پر آلاٹ کیا گیا تھا
“چلیں رابیل بھائی کے لیئے کافی بنانے”
دانین نے رابیل کی طرف دیکھا
یکدم وہ ٹھٹھکی رابیل اسے انتہائی غصے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی
“ک۔۔کیا ہوا رابیل “
وہ تھوڑا جھجھکی
“کیا ہوا میں بتاؤں کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔ تم انکے سامنے اتنی اچھی کیوں بن رہی ہو”
وہ غصے سے بولی جبکہ آواز قدرے آہستہ تھی
“کیا مطلب ہے تمہارا کیا کہنا چاہتی ہو وہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں”
دانین کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
“جانتی ہوں وہ بھائیوں کی طرح ہے تمہارے لیئے تو تمہیں بھابھی نہیں چاہیئے کیا ؟ تم مجھے انکے سامنے اچھا بننے دو بجائے خود اچھی بنو”
وہ روہانسی ہوئی
“تم انکے سامنے کچھ بول لو یہی بہت بڑی بات ہے اچھا بننا تو دور کی بات ہے”
دانین نے اس پاگل کے سر پر چت رسید کی
“اتنا ہی اچھے بننے کا شوق ہے تو جاؤ خود کافی بنا لو اپنے کچھ لگتے کے لیئے”
دانین کو اسکی عقل پر افسوس ہوا وہ دوبارہ اپنی نشست پر براجمان ہو گئی
“ٹھیک ہے میں خود بنا لوں گی کافی آپ یہاں ہی بیٹھیں”
رابیل یہ کہتی وہاں سے اٹھ گئی جبکہ دانین اسے جاتے دیکھتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجائیں !
جہانزیب نے دروازہ ناک کرنے والے کو اندر آنے کی اجازت دی
وہ ٹرے سنبھالتی کمرے میں داخل ہوئی جس میں کافی کے ساتھ کچھ لوازمات بھی تھے
“ارے تم کیوں آگئی کسی ملازمہ کے ہاتھ بھجوا دیتی”
وہ واقع شرمندہ ہوا
اب بھلا کیا رابیل کسی ملازمہ کے ہاتھ جہانزیب کے لیئے کافی بھیجتی مگر یہ بات جہانزیب کو کون سمجھائے
“ارے اتنا سب کچھ کیوں لے آئی”
رابیل نے ٹرے اسکے سانےصوفے پر رکھی تو وہ لوازمات دیکھ کر بولا
“میں نے دیکھا تھا آپ نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا اسی لیئے”
رابیل کی زبان پھسلی آہ اگر جو وہ اس سے پوچھ لے کہ وہ اسے کیوں دیکھ رہی تھی تو وہ کیا جواب دے گی
اسے پچھتاوا ہوا
“تھینکیو رابیل “
وہ واقع مشکور نظر آ رہا تھا شاید وہ سچ میں بھوکا تھا
“کافی تم نے بنائی ہے یا دانین نے”
جہانزیب نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا
اور رابیل تو غش کھانے کو تھی تقریباً تین سال بعد وہ اس سے اتنی لمبی گفتگو کر رہا تھا تین سال پہلے جب رابیل نے دسویں جماعت میں ٹاپ کیا تھا تب جہانزیب نے اس سے تفصیلی بات کی تھی کہ اب آگے کیا ارادہ ہے کونسے کالج میں ایڈمیشن لو گی کیا سبجیکٹس رکھو گی وغیرہ
“میں نے بنائی ہے کافی بڑی امی نے دانین سے کوئی کام کہہ دیا تھا تو وہ نہیں بنا پائی”
وہ جھوٹ بولنے پر شرمندہ ہوئی پر وہ کیا کرے خودبخود جھوٹ پھسل گیا تھا اسکی زبان سے اسنے جان بوجھ کر تو نہیں بولا۔۔۔۔۔۔۔ وہ پاگل سی ایسی ہی دلیلیں دیا کرتی تھی خود کو شرمندگی سے بچانے کے لیئے
“ہممم بہت اچھی بنی ہے کافی”
جہانزیب نے دل سے اسکی تعریف کی کافی واقع بہت اچھی بنی تھی
تھینکیو!
رابیل بس اتنا ہی کہہ سکی اب اس سے اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا وہ تھر تھر کانپ جو رہی تھی اب بھلا اس میں کانپنے کی کیا بات ہے جہانزیب انسان ہے بھوت تو نہیں ہے پاگل ہے رابیل بلکل
بس پھر رابیل جلدی جلدی اسکے کمرے سے نکل گئی ابھی اسے دانین کو بھی منانا تھا اسے پتہ تھا دانین کو اسکی بات بری لگی ہے ہاں اسنے ظاہر نہیں کیا مگر شاید اسے برا لگا ہے لیکن خیر دانین تو ایک چاکلیٹ کی مار ہے جھٹ سے مان جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا آپ ناشتہ تھوڑا لائٹ کریں میں نے آپکے لیئے سوپ بنایا ہے اور ساتھ میں چاہیں تو آملیٹ لے لیں پراٹھا وغیرہ نہیں لیں ابھی”
وہ انہیں پراٹھا اپنی پلیٹ میں سجاتے ہوئے دیکھ کر بولی کیونکہ ان کی طبیعت خراب تھی کچھ دنوں سے
“ہاں شاید آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں”
وہ پیار سے اپنی بہو کی طرف دیکھ کر بولے اور پراٹھا واپس رکھ دیا
“کتنے پیار سے بات کرتے ہیں بابا اور ان کا بیٹا اف منہ سے آگ نکالتا ہے”
وہ بس سامنے بیٹھے اس کھڑوس انسان کو دیکھ کر سوچ ہی سکی جبکہ سامنے بیٹھا شخص یہ جتانے کی پوری کوشش کر رہا تھا کہ وہ وہاں موجود لوگوں کو جانتا ہی نہیں وہ بس ظاہری طور پر ناشتہ کرنے میں مصروف تھا
“اتنی مجھ سے نفرت ہے تو میرے ہاتھ کا بنا کھانا کیوں کھا رہا نہ کھائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے مطلب کے لیئے دیکھو کیسے جنگلیوں کی طرح کھا رہا ہے”
وہ اسے غصے سے دیکھتی ہوئی مسلسل خود سے من ہی من میں باتیں کر رہی تھی
“بیٹا آپ نے تو اس بد مزہ سوپ کو بھی اتنا اچھا بنایا ہے کہ میں اسے ہر روز پی سکتا ہوں آپ کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے”
اس بوڑھے شخص نے سوپ پیتے ہوئے کھل کر اپنی بہو کی تعریف کی
“تھینکیو بابا”
اس نے دل سے داد وصول کی
“کھائے جا رہا ہے ہاتھ اور منہ رکنے کا نام نہیں لے رہے مگر مجال ہے کوئی تعریف کر دے”
اسے پھر سامنے بیٹھے شخص پر غصہ آیا
“کل رات مجھ پر اپنا سارا غصہ نکالا میں نے اس کے حلیئے پر کبھی بات کی ہے جو اس نے میرے حجاب پر بات کی اور مجھے دھکا بھی دیا اب دیکھو کتنے اطمینان سے بیٹھا ہے “
اسے اس شخص کے سکون سے چڑ ہوئی
“بابا آپ مجھے کل انکے بچپن کے قصے سنا رہے تھے کچھ اور بتائیں نا”
یقیناً وہ اپنے شوہر کا سکون برباد کرنا چاہتی تھی جو مزے سے ناشتہ کر رہا تھا
وہ یکدم اپنے سسر کی طرف متوجہ ہوئی اورباران خان کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی اسے یقین تھا کہ اب وہ ضرور چڑے گا
“ہاں کیا یاد کرا دیا تم نے ایک دفع ہمارا بیٹا یہ جو آج باران خان بنا پھرتا ہے لوگ اس سے ڈرتے ہیں جب یہ چھے سال کا تھا تو ہمارے گھرمیں دعوت تھی چھوٹی سی سب آئے ہوئے تھے
تو نہاتے ہوئے جناب کو چھپکلی نظر آگئی روتا ہوا بنا کپڑوں کے باتھ روم سے باہر آگیا سب کے سامنے اور چلاکر کہنے لگا مجھے بچاؤ مجھے بچاؤ”
دلاور خان نے ڈرامائی انداز میں باران کی نکل کی
یہ سننا تھا کہ وہ جو پانی پی رہا تھا یکدم پانی اسکے منہ سے فوارے کی صورت میں باہر آگیا سسر اور بہو کے بلند قہقہے فضا میں گونجنے لگے
باران خان کا چہرہ شرمندگی کی وجہ سے لال ہو چکا تھا اور وہیں اسکی بیوی کی آنکھوں سے ہنسنے کی وجہ سے اب پانی نکلنے لگا تھا
“اور بتاؤں میں ایک دفع یہ۔۔۔۔۔۔
“بس کریں آپ”
وہ اپنے باپ کو ایک اور قصہ سناتے ہوئے دیکھ کر یکدم بول اٹھا “
کوئ اور قصہ نہیں ملا آپکو اپنی بہورانی کو سنانے کے لیئے”
وہ یکدم کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ سسر اور بہو اسکی حالت کو سمجھتے ہوئے اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے
“ٹھیک ہے ہنسیں آپ اور ہنسیں میں ہی چلا جاتا ہوں”
اسے ان دونوں کا ہنسنا زہر لگا اس وقت وہ اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کرتا باہر کی جانب غصے میں بڑھ گیا جبکہ اسے اپنے پیچھے پھر بلند قہقہوں کی آواز آتی رہی جب تک کے وہ لاؤنج کا گیٹ پار نہیں کر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم اس سے محبت کرنے لگے ہو یار”
“کیا” ؟
“ہاں یار تمہاری باتوں سے صاف لگ رہا ہے کہ تم اس سے یعنی اپنی بیوی سے محبت کرنے لگے ہو”
وہ اپنی بیوی اور اسکے سسر سے تنگ آ کر اپنے اس اکلوتے دوست کے پاس پناہ لینے آیا تھا مگر اسے یہاں بھی امان نصیب نہیں ہوا
سامنے والے شخص کی بات اس کے سر پر ہتھوڑے کی صورت میں لگی تھی
“کیا بکواس کر رہے ہو ابھی کے ابھی اپنے الفاظ واپس لو ورنہ تمہاری خیر نہیں ہے”
وہ تقریباً دھاڑا تھا
وہ دونوں اس وقت ایک ڈھابے نما ہوٹل کے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ صرف باران کھڑا تھا جبکہ علی یار تو گاڑی کے بونٹ پر براجمان تھا یہ ان کا مستقل کا ٹھکانہ تھا اکثر وہ دونوں یہاں ہی پائے جاتے تھے
“ارے بھئی غصہ کیوں ہو رہے ہو تمہاری باتیں سن کر تو یہی لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔ تمہیں ایک گھنٹہ ہو گیا یہاں آئے اور تم نے پچپن منٹ صرف اپنی بیوی کی باتیں کی ہیں اور وہ بھی مسکرا مسکرا کر کبھی کہتے ہو وہ بلکل بچی ہے کبھی کہتے ہو وہ بہت سمجھدار ہے کبھی کہتے ہو وہ قرآن بہت اچھا پڑھتی ہے اسکے علاؤہ اور کوئی بات ہے ہی نہیں تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔۔ اب میں اس سب سے کیا اخذ کروں”
اپنے اکلوتے دوست کی بات سن کر وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا اسے احساس ہوا کہ واقع وہ صرف اس لڑکی کی باتیں کر رہا تھا جسے کل تک وہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا آج کیوں دل اسے دیکھنے کی خواہش کر رہا تھا کیا اسے واقع میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے
اسکے اندر مانو دل اور دماغ کی جنگ چھڑ چکی تھی اور وقتی طور شاید اسکا دماغ جیت چکا تھا
“اپنی بکواس بند کرو اور جاؤ کچھ کھانے کو لاؤ بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔ اس لڑکی اور اسکے سسر نے سکون سے کھانا بھی نہیں کھانے دیا”
علی یار نے ایک ملامتی نظر اس عجیب شخص پر ڈالی جیسے کہہ رہا ہو دیکھ تو نے پھر اپنی بیوی کا ذکر کیا لیکن تو مانتا ہی نہیں کہ تو اس سے پیار کرتا ہے
“اب جاؤ بھی”
وہ تھوڑا غصے سے بولا جیسے اسے علم ہو کہ سامنے والا شخص کیا سوچ رہا ہے
اے نوجوان تم کب تک اپنے دل کو خاموش کرواؤ گے تمہیں ایک نا ایک دن اس دل سے ہارنا ہوگا
گزرتی ہوا اسے دیکھ کر کہہ رہی تھی بلکہ یوں کہا جائے کہ اس نوجوان کے سینے میں محبت کی چنگاری کو بھڑکا رہی تھی تو غلط نہ ہو گا
علی یار گردن نفی میں ہلاتا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے دور کسی مرئ نقطے پر غور کرتا کھڑا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بارات تھی اور بارات کے انتظامات میرج ہال میں کیئے گئے تھے بارات آ چکی تھی اور لڑکی والے میزبان بنے اپنی زمہ داریاں نبھانے میں مصروف تھے
“رابیل جاؤ بیٹا بہن کو لے آؤ “
تائی جان نے رابیل کو دیکھ کر دھیرے سے کہا
نکاح ہو چکا تھا اب باری تھی کہ دلہن اور دلہے کو ایک ساتھ سٹیج پر بٹھا دیا جائے اور سالیوں کی جیب بھاری کی جائے
“جی میں لے آتی ہوں”
وہ جو نیلے رنک کی میکسی سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی تائی جان کی آواز پر انکی طرف متوجہ ہوئی
وہ دانین کو اشارہ کرتی تائی جان کی بات پر عمل کرتے ہوئے میرج ہال کے ایک کونے کی طرف بڑھ گئی جہاں ریسٹ رومز بنائے گئے تھے
رابیل !!!!
“جی تائی جائی جان “
رابیل تائی جان کی آواز پر پلٹی دانین جو گلابی فراک میں معصوم لگ رہی تھی نے بھی اپنی ماں کو مڑ کر دیکھا
“بیٹا جہانزیب کو بھی ساتھ لے جاؤ آخر وہ بھائی ہے ثوابیہ کا”
تائی جان نے تھوڑا بلند آواز میں کہا
“جی امی لے جائیں گے”
رابیل کی بجائے دانین نے جواب دیا
اب رابیل کیا بولتی اسکی تو بولتی ہی بند ہو جاتی تھی جہانزیب کی بات پر ۔۔۔ بلکل پاگل ہے رابیل بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات گھر دیر سے آیا
ساری خان حویلی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی
لاؤنج کا گیٹ پار کر کے اندر آؤ تو وسیع لاونج میں گھپ اندھیرے کا راج تھا
وہ قدم قدم لاؤنج پار کرتا اوپری منزل کے زینے چڑھنے لگا جب اسے کچن سے برتنوں کی آواز آئی
وہ لاشعوری طور پر کچن کی طرف بڑھ گیا
کچن کے دروازے کے سامنے رک کر اسنے اندر جھانکا تو سامنے وہ کھڑی تھی اسکی بیوی اسکی محرم وہ جسکا ہر وقت اسے نصیحت کرنا اسے بلکل پسند نہیں تھا وہ جسکے حجاب سے اسکو چڑ تھی شکر کہ اسنے اس وقت حجاب نہیں باندھ رکھا تھا
وہ جو برتن اکھٹے کر کے سنک میں رکھ رہی تھی مسلسل کسی کی نظریں خود پر محسوس کر کے چونکی
مگر اسے سامنے ہی وہ نظر آ گیا
وہ بھی کچھ پل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی
“آپ کھانا کھائیں گے” ؟
اور جب وہ بولی تو بس اتنا ہی
باران نے صرف گردن کو نفی میں ہلا کر اسکی بات کا جواب دے دیا
وہ اسکے اشارے کو سمجھتی ہوئی اپنے کام میں مصروف ہو گئی
کچھ دیر تک اسے خود پر اسکی نظریں محسوس ہوتیں رہیں مگر پھر باران وہاں سے چلا گیا تو اسنے بھی سکھ کا سانس لیا
وہ اسے کچن میں کام کرتا دیکھ کر اک لمحے کو کہیں کھو گیا تھا اسے اس لڑکی سے اپنائیت محسوس ہوئی جو اسکے گھر کو مکمل طور پر اپنا چکی تھی
مگر پھر وہ وہاں سے اپنے کمرے میں چلا آیا
کمرے میں قدم رکھتے ہی فی میل پرفیوم کی خوشبو محسوس کرتے ہی اسے پھر اس لڑکی کا خیال آ گیا جو اب تک کچن میں موجود کام کر رہی تھی
وہ کام کیوں کر رہی ہے گھر میں اتنے ملازمین ہیں تو پھر وہ کیوں کام کر رہی ہے اسے الجھن ہوئی
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا صوفے تک آیا اور تقریباً صوفے پر لیٹ ہی گیا اور آنکھیں موند گیا
کیا مجھے اسکی بات مان لینی چاہیئے
کیا مجھے اپنا بدلہ نہیں لینا چاہیئے
مگر کیوں میں ان لوگوں کو کیوں معاف کروں جنہوں نے مجھ سے میری ماں کو چھین لیا
اسکے دماغ میں ہر گزرتے پل کے ساتھ نئے سوال امنڈنے لگے
مگر ان سب سوالوں کے جواب اسے کہاں ملیں گے وہ نہیں جانتا تھا
کیا معاف کرنے سے اسے اسکی ماں مل جائے گی
کیا وہ سب جو وہ اس آگ میں جل کر کر بیٹھا ہے کیا صرف معافی سے اسکی تلافی ہو سکتی ہے
اگر وہ خود پر ہوئے ظلم کو معاف کر دے تو کیا اسکو اسے کیئے گئے مظالم پر بھی معافی ملے گی
کچھ دیر وہ انہیں سوالوں کے گرداب میں پھنسا رہا اسنے آنکھیں تب کھولیں
جب اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی
سامنے ہی وہ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے آ رہی تھی
اسکے سر میں جس قدر درد ہو رہا تھا اسے واقع چائے کی سخت ضرورت تھی
وہ مندی مندی آنکھوں سے اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا جو اسکے سامنے میز پر چائے کا کپ رکھ کر اب بیڈ کی طرف بڑھ رہی تھی
وہ بیڈ پر بیٹھتے ہی کمفرٹر منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی جبکہ کمرے کی لائٹ بند کرنا وہ نہیں بھولی تھی
کمرے میں اندھیرا ہوتے ہی اسنے اپنی آنکھیں پوری کھول لیں اور سیدھا ہو بیٹھا
سامنے ہی بھاپ اڑاتی چائے کا کپ رکھا تھا
اسنے ایک نظر اسے دیکھا جو کمفرٹر میں چھپی ہوئی تھی
پھر چائے کا کپ اٹھا لیا اور چائے پینے لگا
گرم سیال ہلک سے اترتے ہی اسے سکون دینے لگا
کیا میں اب اس راستے سے پیچھے ہٹ سکتا ہوں جس پر میں بہت آگے نکل گیا ہوں
ایک بار پھر سوالوں نے اسے اپنا شکار بنا لیا
کیا اب اس تباہی کو کوئی روک سکتا ہے جو ہونے والی ہے
اسنے پل بھر کو اپنی آنکھیں بند کر کے کھولیں
نہیں اب اس تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا جو ہونے والی ہے اورجو ہو کر رہنی ہے
اسنے چائے کا کپ میز پر رکھا اور پھر صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر تقریباً لیٹ گیا
البتہ اس بار اسکی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ چھت کو گھور رہا تھا
مگر شاید اگر اس وقت اس سے پوچھا جاتا کہ چھت کا رنگ کیا ہے تو وہ نہیں بتا پاتا
کیونکہ اسکی آنکھیں تو کھلی تھیں مگر وہ کچھ دیکھ نہیں رہا تھا
کھڑکی سے داخل ہوتی چاند کی روشنی اس نوجوان پر افسوس کرتی رہی جو چھت کو گھور رہا تھا
جبکہ اسکی بیوی تو نا جانے کب سے سو چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جہانزیب بھائی آپ اس چادر کو ایک طرف سے پکڑ لیں اور دوسری طرف سے رابیل تم پکڑ لو
جلدی کرو پیچھے سے میں اور ثانیہ پکڑ لیتے ہیں”
دانین نے جلدی جلدی ایک بہت پیاری چادر پھیلاتے ہوئے کہا جسے دلہن کے اوپر اس طرح سے کیا جائے گا کہ ہر کونہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہوگا اور دلہن اس کے سائے میں ہوگی
دانین کی ہدایت کے مطابق جہانزیب اس چادر کا ایک سرا پکڑ چکا تھا
“رابیل جلدی کرو”
جہانزیب نے اسے یونہی کھڑا دیکھ کر کہا
ہاں ۔۔۔۔جی ۔۔۔!۔
وہ بوکھلاتی ہو چادر کا دوسرا سرا پکڑنے لگی اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے دل نے مانو دوسوبیس کی سپیڈ پکڑ لی تھی
اب منظر یہ تھا کہ رابیل اور جہانزیب نے چادر کو آگے سے اور دانین اور ثانیہ (جو دانین کی دوست تھی) نے چادر کو پیچھے سے پکڑ رکھا تھا اتنے میں حسن صاحب بھی وہاں آگئے اور ثوابیہ کے ساتھ اس چادر کے نیچے کھڑے ہو گئے پھر سب آہستہ آہستہ ثوابیہ کو سٹیج تک لائے کیونکہ ثوابیہ کی میرون رنگ کی میکسی بہت زیادہ بھاری تھی اور وہ تیز نہیں چل سکتی تھی رابیل کانپتی ٹانگوں کے ساتھ ثوابیہ سے بھی آہستہ چل رہی تھی شکر ہے گر نہیں پڑی
سٹیج کے قریب پہنچ کر حسن صاحب نے احمد کے ہاتھ میں ثوابیہ کا ہاتھ تھاما دیا یہ لمحہ بیک وقت باپ کے لیئے خوشی اور غم کا تھا حسن صاحب کی آنکھوں میں اترتا گلابی پانی انکی کیفیت کا اندازہ دے رہا تھا
رابیل بھی اس منظر کو دیکھ رہی تھی یکدم اسکے لیئے منظر بدل گیا ثوابیہ کی جگہ وہ خود تھی اور احمد کی جگہ جہازیب تھا اور حسن صاحب اسکا ہاتھ جہانزیب کے ہاتھ میں تھما رہے تھے جہازیب کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کو محسوس کرتے ہی اسکی روح تک سرد ہو گئی تھی اسکی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اسکا سارا جسم ٹھنڈا پڑ گیا دل میں دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں ایک عجیب سا درد دل میں ہوا جو تھا تو صرف چند لمحوں کے لیئے مگر ایسا لگا کے روح نکال لے جائے گا
اتنا درد وہ برداشت نہیں کر پائی اور ہوش کی دنیا میں واپس آ گئی
ثوابیہ اب سٹیج پر بیٹھ چکی تھی
ہر ایک کی نظریں اس معصوم پیاری دلہن پر جمی تھیں
مگر ایک عورت کی نظریں رابیل پر تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں ؟ ایک جوان بیٹے کی ماں ایک لڑکی کو کیوں دیکھتی ہے بھلا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آج آپ سب اتنی تھکی ہوئی کیوں لگ رہیں ہیں”
ام عبد الرحمن کلاس میں داخل ہوئی تو اسے سب تھکے تھکے سے لگے
“بس استاذہ آج حفظ کی کلاس میں تین تین سپارے سنائے ہیں تھک گئے ہم”
ایک لڑکی نے تھکی ہوئی آواز میں کہا
“ہممممم تو آج پڑھنے کا ارادہ نہیں ہے”
ام عبد الرحمن نے آنکھیں چھوٹی کر کے اندازہ لگانا چاہا
“جی آج پڑھنے کا ارادہ نہیں ہے آج ہم باتیں کریں گے”
ایک لڑکی کی آواز ابھری
“ایک تو سب کے ایک جیسے سیاہ حجاب ہیں اور سیاہ ہی نقاب پتہ ہی نہیں چلتا کون بول رہا ہے”
ام عبد الرحمن اپنی ہی بات پر ہنس دی ساری کلاس بھی ہنسنے لگی
“استاذہ آپ بتائیں آپ کا نام ام عبد الرحمن کس نے رکھا”
ایک لڑکی نے ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے پوچھا تاکہ نشاندہی ہو سکے کہ سوال پوچھنے والی کون ہے اور استاذہ کو جواب دینے میں آسانی ہو
“کس نے کہا کہ میرا نام ام عبد الرحمن ہے” ؟
اس نے کندھے اچکائے
ساری کلاس بیک وقت حیران نظر آنے لگی
“آپ کا نام ام عبد الرحمن نہیں ہے کیا” ؟
ایک لڑکی نے حیرانی سے سوال کیا
“جی میرا نام ام عبد الرحمن نہیں ہے
یہ تو میری کنیت ہے “
اسنے کلاس کو مزید حیران کیا
“کنیت کیا ہوتی ہے” ؟
ایک اور سوال ابھرا
وہ ایک لمحے کو سانس لینے کے لیئے رکی
“آپ سمجھ لیں کہ کنیت یعنی آپکا نک نیم
عرب میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اگر آپکو کسی کا نام نہیں پتہ تو آپ اسے ایک فرضی نام سے بلاتے ہو یا اگر آپ کو کسی کا نام پتہ بھی ہے اور آپ محبت اور پیار میں کسی کو ایک نام دے دیتے ہو تو وہ اسکی کنیت بن جاتی ہے”
“ہم نے تو پہلے اس بارے میں سنا ہی نہیں”
ایک لڑکی نے افسوس سے کہا
“ارے ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ آپ لوگوں نے کسی کی کنیت کے بارے میں نا سنا ہو”
وہ کندھے آچکا کر بولی
“استاذہ مگر ہم نے واقع میں کنیت کے بارے میں نہیں سنا اور ہمیں کسی کی کنیت کا نہیں پتہ”
“کیوں نہیں پتہ کسی کی کنیت کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپکو بتاؤں ایک کنیت جو آپ سب جانتی ہیں دنیا کا ہر مسلمان جانتا ہے”
وہ ایک لمحے کو رکی
ساری کلاس سانس روکے اسے سن رہی تھی ماحول بھی تھم کر اس لڑکی کو سننے لگا
“حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
کیا آپ نے ان کے بارے میں نہیں سنا کیا آپکو ان کے بارے میں نہیں پتہ” ؟
“ہم یقیناً انہیں جانتے ہے مگر اس سے کنیت کا کیا تعلق”
ایک لڑکی نے پھر حیرانی سے سوال کیا
“کنیت کا تعلق کیوں نہیں ابو بکر نام نہیں بلکہ کنیت ہے ان کا نام تو کچھ اور تھا اور وہ آپ مجھے کل بتائیں گی کہ ان کا نام کیا تھا
کنیت آپ کسی کو کسی بھی وقت دے سکتے ہو جیسے کے حدیث سے بھی ثابت ہے جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے سے اسکے پرندے کے بارے میں دریافت فرمانا چاہا تو اسی لمحے اسے ابو عمیر یعنی عمیر کا باپ کہہ کر اسکی کنیت رکھ دی حالانکہ وہ خود ایک بچہ تھا
آپ وہ حدیث اور حضرت ابوبکر کا نام کل اسائمنٹ کے طور پرلکھ کے آئیں گی”( ٹیچر سارے ہی ایک جیسے ہوتے ہیں ہوم ورک دینا نہیں بھولتے )
“تو حضرت ابوبکر کی کنیت میں ابو اور آپ کی کنیت میں ام یہ کیوں ہے”
ایک لڑکی نے اتنی حیرانی سے سوال کیا مانو ام عبد الرحمن سے کنیت رکھنے میں غلطی ہو گئی ہو اور وہ ابو عبد الرحمن کی بجائے ام عبد الرحمن رکھ بیٹھی ہو
“نہیں۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔”
وو یکدم امنڈ آنے والی ہنسی کو روکتے ہوئے بولنے کی کوشش کرنے لگی
” ام عورتوں لیئے استعمال ہوتا ہے اور ابومردوں کے لیئے استعمال ہوتا ہے”
وہ ہنسی روکنے کے چکر میں گلابی پڑ چکی تھی
“تو آپکی کنیت کس نے رکھی” ؟
ایک اور سوال ابھرا
“میری کنیت میں نے خود رکھی میری استاذہ نے مجھے یہ کنیت دی تو میں نے اسے ختم نہیں کیا یہ سوچ کر کہ یہ صحابیوں کی سنت ہے حضرت عائشہ کی کنیت کیا ہے بھلا” ؟
اسنے سوال کیا مگر کلاس میں خاموشی چھائی رہی
” حضرت عائشہ کی کنیت ام عبداللہ ہے یعنی عورتوں اور مردوں دونوں کی کنیت ہوا کرتی تھی مجھے ام عبد الرحمن کنیت اچھی لگی تو بس میں نے یہ کنیت رکھ لی اور میں آپ سب کو بھی یہی کہوں گی کہ آپ سب بھی اپنی کنیت رکھ لیں اسکے بہت فائدے بھی ہیں
ہم جو ایک دوسرے کا نام مزاق مزاق میں یا غصے میں الٹا لے لیتے ہیں کنیت سے اس چیز سے بچا جا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لوگوں کی کنیت رکھی ہے اس سے بڑھ کر اور کیا بات آپکو کنیت رکھنے پر آمادہ کر سکتی ہے”
وہ اپنی بات مکمل کر چکی تھی
“تو آپ بتائیں میں اپنی کیا کنیت رکھوں” ؟
ایک لڑکی نے اس سے سوال کیا
“ام سعد آپ سے کل ملاقات ہوگی میری کلاس کا ٹائم ختم ہو چکا ہے”
وہ یہ کہتی کلاس سے باہر آگئی آج اس نے استاذ ہونے کا ثبوت دیا تھا کہ جب آپ کے سٹوڈنٹ کا پڑھنے کو دل نہ بھی ہو تو آپ ان کا اور اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے ان کو کچھ اچھا سکھا دیں اور اس نے بھی یہی کیا تھا
(عربی: أبو بكر) ایک صحابی، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور پہلے خلیفہ اسلام۔ آپ کا اصل نام عبد اللہ یا ابو الکعبہ اور ابوبکر آپ کی کنیت ہے۔ آپ کا لقب، صدیق ہے، جس کا مطلب ہے۔ تصدیق کرنے والا، آپ نے سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبی و رسول ہونے کی تصدیق کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی صاحب میں اپنی بہن کی نشانی رابیل کو اپنے جہانزیب کے لیئے مانگنے آئی ہوں مجھے انکار نہ کیجیئے گا”
اس وقت صدف بیگم اپنے بہنوئی کے سامنے صوفے پر بیٹھی تھیں اور رابیل کی تائی جان ( طاہرہ بیگم ) اور تایا جان ( حسین صاحب ) حسن صاحب کے برابر صوفے پر بیٹھے تھے
صدف بیگم کی ہمیشہ سے یہی خواہش تھی کہ رابیل انکے جہانزیب کی دلہن بنے مگر ثوابیہ کی بارات والی رات رابیل اور جہانزیب کو ایک ساتھ دیکھ کر تو صدف بیگم سے رہا ہی نہیں گیا کہ وہ کب جا کر رابیل کو اپنے بیٹے کے لیئے مانگ لیں اور وہ محض تین دنوں بعد ہی حسن صاحب کے گھر آ پہنچی تھیں
“بھائی صاحب میرے لیئے رابیل بلکل میری ہی بیٹی ہے اور مجھے میری جان سے بھی عزیز ہے آپ مجھے جہانزیب کے لیئے رابیل دے دیں”
صدف بیگم نے اپنے آنے کی وجہ حسن صاحب سمیت سب گھر والوں کو بتائی تو مانو سب کے چہرے کھل اٹھے ہوں
“بھائی صاحب آپکو کوئی اعتراض تو نہیں ہے” ؟
صدف بیگم نے حسن صاحب کو خاموش پا کر پھر سوال کیا
“نہیں نہیں صدف اعتراض کیسا رابیل بہت چھوٹی تھی جب حنا اس دنیا سے گئی اسے شاید اپنے ماں کا چہرہ بھی نہیں یاد یہ تو اسکی خوش قسمتی ہے کہ اسے اپنی ماں دوبارہ مل گئی”
صدف بیگم اپنی بہن کا ذکر سن کر تھوڑا اداس ہوگئی تھیں مگر حسن صاحب کی آخری بات سن کر ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی
“بھائی صاحب آپکا بہت بہت شکریہ اپنا منہ میٹھا کریں”
انہوں نے مٹھائی سے بھری پلیٹ حسن صاحب کی طرف بڑھائی اور پھر باقی گھر والوں نے بھی منہ میٹھا کیا صدف بیگم کی خوشی کی تو انتہا ہی نہیں رہی تھی آخر انکی رابیل ہمیشہ کے لیئے انکی ہونے جا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔
گولی کی آواز آنے کی دیر تھی کہ وہ شخص جس کا منہ سیاہ کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا بے جان ہو کر گر گیا
یہ ملائشیا میں ایک
Charter private cruise
کا منظر تھا جس میں تقریباً دس آدمی سوار تھے اور ایک آدمی نے جو ان سب سے منفرد تھا غالباً وہ ان کا بوس تھا ایک شخص کو موقع پر ہی قتل کر دیا
“سمندر میں پھینک دو اس کی لاش کو”
مارنے والے کے حکم پر دو آدمیوں نے لاش کو کروز سے ہی سمندر میں پھینک دیا
“خان مجھے کل پاکستان جانا ہے تم یہاں کا کام ختم کر کے واپس آجانا ٹھیک ہے”
ایک دراز قد آدمی نے خان کو ہدایت دی تو خان نے سر ہلا کر جواب دیا جبکہ وہ اپنی سیاہ ریوالور کو سفید رومال سے ساف کر رہا تھا جو ابھی ابھی ایک آدمی کو سمندر میں مچھلیوں کی خوراک بنا کر اب گرم ہو چکی تھا
“بدر تم بھی یہاں کیوں نہیں رک جاتے کیا کروگے واپس جا کر”
خان نے ایک تنقیدی نظر اس پر ڈالی اور پھر دوبارہ اپنا ریوالور صاف کرنے لگا
“نہیں یار وہاں دو تین کانٹریکٹرز سے بات چل رہی ہے اور تم جانتے ہو میرے لیئے کام سب سے اوپر ہے”
بدر نے آرامدہ سا بیٹھتے ہوئے کہا جبکہ وہ پہلے خان کے ساتھ کھڑا تھا اب خان بھی بیٹھ چکا تھا اور وہ بھی
ہممم۔۔۔۔۔۔۔۔!
خان نے ایک بار پھر سر کے اشارے سے جواب دیا اور دور تک پھیلے سمندر کو دیکھنے لگا
اسماعیل حمدانی کا کیا بنا “؟”
بدر نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا
“جیسے تمہیں خبر پہنچی نہیں”
خان نے ایک جتاتی نظر سے اسے دیکھا اور پھر سمندر کو دیکھنے لگا اسی پل ہوا کےایک تیز جھونکے نے خان کے بال بکھیر دیئے مگر وہ اس سے بے نیاز سمندر کو دیکھتا رہا
“ہاں پتہ تو مجھے ہے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہ بات تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم نے اسے کیوں مارا اگر وہ ڈبل قیمت دینے پر راضی تھا تو وہ لے لیتے”
بدر جوس سے بھرا گلاس لبوں سے لگا گیا
“کچھ کام میں اپنی مرضی سے بھی کر سکتا ہوں یا نہیں۔۔۔ مجھے ہر وقت ایک جیسا کام کرنا پسند نہیں ہے جو پیسے نہ دے اسے ڈراؤ اور ڈبل قیمت وصول کرو میں بہت بور ہو جاتا ہوں”
وہ مسلسل سمندر کو گھورتا رہا
اسکے لہجے میں ایک چڑچڑاپن سا تھا جس پر بدر نے بخوبی غور کیا تھا
“کوئی پریشانی ہے ؟ اگر ہے تو مجھے بتاؤ تمہیں پتہ ہے میں بہت جلدی پریشانی سے نکالنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہوں”
بدر نے فخر سے کندھے اچکاتے
“مگر میری پریشانی میرا اپنا خون ہے میں لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتا ہوں مگر کسی کو اپنے خون کی بو تک سونگنے نہیں دیتا چاہے۔۔۔۔۔”
اس بار اسکا لہجا انتہائی سفاک تھا وہ اب بدر کو دیکھ رہا تھا اسنے اپنی بات کو ادھورا چھوڑا
“چاہے”؟
بدر نے سوال کیا جبکہ جوس کا خالی گلاس وہ میز پر رکھ چکا تھا
دوپہر کی دھوپ ان دونوں کے چہروں کو روشن کیئے ہوئے تھی
“چاہے میں اپنے خون سے کتنی ہی نفرت کیوں نا کرتا ہوں مگر اس پر سارا اختیار صرف میرا ہے۔۔۔۔۔ محبت مجھے ہے نہیں”
وہ رکا
“تو باقی بچے نفرت اور بدلے کے سارے اختیار صرف مجھے ہیں”
اسنے ایک نظر بدر کو دیکھا اور پھر سمندر کو مگر سمندر کی نرمی اسکے جزبات کی عکاسی نہیں کر رہی تھی
پھر وہ اپنی نظریں اس چمکتے سورج کی طرف مرکوز کر گیا جو بیک وقت آدھی دنیا کو روشن کیئے ہوئے تھا ہاں اب اسے لگا کہ اسکے آس پاس اسکے جزبات سے ملتی جلتی کوئی شے موجود ہے
“کوئی فرار کی راہ نہیں اسکے لیئے ۔۔۔۔یعنی تمہارے خون کے لیئے”
بدر نے اسے سورج کو بنا پلک جھپکائے دیکھتے ہوئے پوچھا
اسنے اپنی نظریں سورج سے ہٹا کر اسے دیکھا مگر وہ اسے دھندلا دکھائی دیا یہ اس تیز روشنی اور حدت کا اثر تھا
“ہے ۔۔۔۔۔ مگر وہ سورج پر نظریں جمانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے یوں سمجھو کہ تقسیر معاف کرانے کا اکلوتا راہ جو انتہائی کٹھن ہے”
وہ بدر کو ہی دیکھ رہا تھا جو اس سے پندرہ سال بڑا تھا
“کیا”؟
بدر صرف اتنا ہی پوچھ سکا
” اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا گلا گھونٹ لینا”
اپنی ہی زبان سے ادا ہوئے جملے نے اسکا ہلک تک کڑوا کر دیا تھا
خان نے ایک بار پھر سورج کو دیکھا مگر پھر وہ نظریں اس پر سے ہٹا گیا یہ واقع مشکل تھا
اسکی سفاکی نے ایک لمحیں کو بدر کو بھی شل کر دیا اب اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی اور سوال کرتا
سورج کی گرمی اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی تھی ماحول میں ایک عجیب سی گھٹن پیدا ہونے لگی جس کی وجہ سے ہوا کے تیز جھونکوں کو سانس لینے میں مشکل ہونے لگی اور وہ اپنا دم توڑنے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کہاں گئی تھیں آپ امی”؟
“تمہیں پتہ نہیں ہے میں آج کتنی خوش ہوں دانین”
“بیٹا منہ میٹھا کرو میں نے رابیل کو تمہارے لیئے مانگ لیا ہے”
صدف بیگم گھر آئیں تو جہانزیب سامنے ہی صوفے پر بیٹھا تھا اپنی ماں کو دیکھ کر وہ کھڑا ہو گیا
“رابیل اگر خالہ خود تمہارا رشتہ لے کر آئی ہیں تو ہو سکتا ہے جہانزیب بھائی کی طرف سے بھی کچھ ہو”
“کس سے پوچھ کر آپ نے میرا رشتہ طے کیا میں رابیل سے شادی نہیں کروں گا”
“ہاں دانین مجھے بھی ایسا لگتا ہے اور اگر ایسا ہے تو میں اس دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی ہوں میں بہت خوش ہو دانین میری خوشی کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا جہانزیب سے میں نے چھے سال محبت کی ہے دیکھو میری محبت میں اتنی طاقت ہے کہ وہ جہانزیب کو میرے پاس کھینچ لائی“
“میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی کروں گا کسی رابیل سے نہیں”
جہانزیب انتہائی غصے میں تھا
“یہ کیا کہہ رہے ہو جہانزیب”
“میں ٹھیک کہہ رہا ہوں میں سلینہ سے محبت کرتا ہوں ہم دونوں ساتھ یونورسٹی میں پڑھتے تھے اور میں سلینہ سے ہی شادی کروں گا”
“ارے مٹھائی تو لاؤ میں نے منہ ہی میٹھا نہیں کیا۔ دانین مجھے اتنی مٹھائی کھلاؤ اتنی مٹھائی کھلاؤ کہ مجھے یقین ہو جائے کہ جہانزیب اب صرف میرا ہے”
“امی آپ یہ مٹھائی کوڑے میں پھکوا دیں کیونکہ میں صرف سلینہ کا ہوں میں رابیل سے ہرگز شادی نہیں کروں گا”
وہ یہ کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کے صدف بیگم آنکھوں میں پانی لیئے وہیں کھڑی رہیں انہیں تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے
“رابیل تم تو بلکل پاگل ہو گئی ہو “
دانین نے اسے سارے کمرے میں گول چکر لگاتے ہوئے دیکھ کر کہا
“پاگل تو بہت چھوٹا لفظ ہے دانین کچھ اور لفظ ضرور ہوگا ہم جیسے دیوانوں کے لیئے”
وہ دھڑام سے اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی
“رابیل اپنی خوشی کو کنٹرول کرو اس طرح خوشیوں کو نظر لگ جاتی ہے”
دانین نے یونہی مزاق میں کہہ دیا مگر رابیل یکدم بجھ گئی
“نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میری خوشیوں کو کسی کی نظر نہیں لگ سکتی۔ دانین تم نے ایسا کیوں کہا”
وہ پوری طرح دانین کی طرف متوجہ ہوگئی
“ارے میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا”
“نہیں دانین ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالتے یہ اچھا نہیں ہوتا”
اسکی آنکھوں میں ڈر خوف درد کیا کیا نہیں تھا
“اچھا رابیل میں مزاق کر رہی تھی سوری اپنا موڈ ٹھیک کرو اور بتاؤ شادی پر کونسے ڈزائنر سے کپڑے بنوانے ہیں”
دانین کو لگا شاید اسے واقع یہ بات نہیں کرنی چاہیئے تھی
“ہاں میں بتاتی ہوں”
وہ اپنا موبائل کھولنے لگی اور اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر دل میں ایک خوف بیٹھ چکا تھا شاید جسے سچ ہونا ہی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سلینہ میں اسلام آباد آرہا ہوں آج ہی تم اپنے گھر والوں سے بات کر لو ہم جلدی ہی شادی کر لیں گے”
اپنی ماں سے سخت کلامی کرنے کے بعد وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا اور پیکنگ کرنے لگ گیا تھا اسکے دماغ نے اسے جو کام پہلے کرنے کو کہا وہ وہی کرنے لگا
جہانزیب بڑے سے سوٹکیس میں اپنے کپڑے بے ترتیبی سے پھینکتے ہوئے کال پر سلینہ سے بات کر رہا تھا
“وہ تو ٹھیک ہے مگر کیا کچھ ہوا ہے”
سلینہ کو وہ کچھ پریشان لگا
“یار امی کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے صبح صبح خالہ کے گھر چلی گئیں اور رابیل کا رشتہ مانگ لیا میرے لیئے”
وہ بیڈ پر بیٹھ کر سلینہ کو سب بتانے لگا
“یہ کیا کہہ رہے ہو تم جہانزیب تم ایسا نہیں کرسکتے میرا کیا ہو گا جہانزیب تم۔۔۔تم”
سلینہ اسکی بات سن کر بہت بے چین ہو گئی تھی
“سلینہ۔۔۔ سلینہ ریلیکس میں اس سے شادی نہیں کروں گا سلینہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میں تم سے ہی شادی کروں گا تمہں مجھ پر یقین نہیں ہے”
سلینہ کو یکدم گھبراتے ہوئے محسوس کر کے وہ آرام سے تسلی سے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا
“مگر جہانزیب تم نے کہا تھا نا کہ رابیل تم سے پیار کرتی ہے”
سلینہ نے اسے یاد کرانا چاہا
“ہاں دو تین سال سے مجھے یہی لگ رہا ہے جب بھی میں اسکے آس پاس ہوتا ہوں وہ بوکھلا سی جاتی ہے میرے سارے کام بھاگ بھاگ کر کرتی ہے ……. امی کی تو جان نہیں چھوڑتی خالہ یہ کر دوں خالہ وہ کر دوں۔۔۔۔
بلکل بچوں جیسی ہے وہ”
جہانزیب نے ہنستے ہوئے کہا
“اب تم رابیل نامہ بند کرو گے پلیز”
وہ جو ابھی اور کچھ بولنے والا تھا رک گیا
“میں تو صرف بتا رہا ہوں”
وہ دھیرے سے بولا
“کیوں بتا رہے ہو میں نے پوچھا ہے کیا”
وہ چڑ کر بولی
“ارے ابھی تو تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا اچھا میری غلطی ہے”
وہ اسکی حالت کو سمجھتے ہوئے بولا اسے پتہ تھا وہ رابیل سے جیلس ہو رہی ہے
“تم انکل آنٹی سے بات کرو میں بھی امی کو منا ہی لوں گا”
اسنے تحمل سے کہا
“ہممممم میں بات کرتی ہوں “
سلینہ نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا اور وہ بھی دوبارہ اپنے سوٹ کیس میں بے ترتیبی سے کپڑے پھینکنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رابیل میں اندر آ جاؤں”
حسن صاحب نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ جو بیڈ پر بیٹھی موبائل پر سکرولنگ کر رہی تھی سیدھی ہو بیٹھی
“جی بابا آ جائیں”
رابیل نے تھوڑا اونچی آواز میں کہا
“باہر بھی آ جایا کرو سارا دن کمرے میں بند رہتی ہو اور کمرے کی حالت دیکھو زرا”
حسن صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہی شکایت کی
رابیل تھوڑا شرمندہ ہوئی
حسن صاحب قدم قدم چلتے بیڈ تک آئے اور اپنی بیٹی کے برابر براجمان ہوگئے
کچھ دیر کسی نے کچھ نہیں بولا
“بیٹا تمہیں پتہ تو ہے کہ تمہاری خالہ کیوں آئیں تھی”
رابیل نے اپنی نظریں جھکا لیں پہلے وہ اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی
رابیل نے کچھ نہیں بولا
“انکی بات سن کر میں اتنا خوش ہو گیا تھا کہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا لیکن مجھے اب خیال آیا کہ مجھے تم سے پوچھ کر ہاں کرنی چاہیئے تھی”
وہ رکے
رابیل یونہی نظریں جھکائے بیٹھی رہی
“رابیل یہ سراسر تمہارا فیصلہ ہوگا تم ہاں کرو گی تو تمہاری شادی جہانزیب سے ہی ہو گی اور اگر تم انکار کرو گی تو میں تمہارے ساتھ ہوں”
حسن صاحب نے رابیل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
“بابا آپ نے میرے لیئے جو بھی فیصلہ کیا ہے ٹھیک ہی کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔اگر آپ خالہ کو انکار کر دیتے تو میں پھر بھی آپ کے فیصلے سے راضی ہوتی”
رابیل کے دل کو کچھ ہوا
“اگر آپ نے اس رشتے کو قبول کر لیا ہے تو یہ مجھے بھی قبول ہے”
اب اسکے دل کو چین آیا
“مجھے پتہ تھا تم ضرور میرا مان رکھو گی”
حسن صاحب مسکرائے
رابیل کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی
“تمہیں پتہ ہے رابیل ثوابیہ کی مہندی والی رات میں اور ثوابیہ کیا بات کر رہے تھے”
حسن صاحب کی آنکھوں میں شرارت ابھری
“کیا”؟
رابیل کو تجسس ہوا
“یہی کہ اب جلد ہی تمہاری شادی کر دوں تاکہ تم بھی اپنے گھر کی ہو جاؤ اور میں سکون سے اپنی زندگی گزاروں”
حسن صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے انکی آنکھوں میں واضح شرارت تھی
“اتنا تنگ کرتی ہوں میں آپکو”
لیکن وہ ازل کی پاگل بات کو سمجھے بغیر آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیئے رونے کو تیار ہو گئی
“ارے ارے رابیل تمہارا کوئی حال نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں تو مزاق کر رہا تھا”
وہ جلدی سے اسکے قریب ہوئے اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا
جبکہ وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو دی
“رابیل اب بڑی ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کون کرتا ہے بھلا”
انہوں نے رابیل کے سر پر جھک کر پیار کیا کیونکہ وہ اس وقت کھڑے تھے اور رابیل بیڈ پر بیٹھی تھی
“بابا ۔۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔جھے نہیں جانا آپکو چھوڑ کر”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے کے درمیان کہہ رہی تھی
“رابیل ایسے نہیں کہتے پہلے ثوابیہ نے بھی ایسا ہی کہا اب تم بھی یہی کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھی چاہتا ہوں کہ دونوں بیٹیوں کی شادیوں کے بعد ایک لمبی چھٹی پر چلا جاؤں جلدی جلدی مجھے فری کرو اب تم”
حسن صاحب اپنی ہی بات پر ہنسے
رابیل نے نروٹھے پن سے اپنے باپ کو دیکھا
“رابیل تمہیں نہیں پتہ کہ میں کتنا خوش ہوں”
حسن صاحب نے ایک بار پھر اسکے سر پر پیار کیا
“کیونکہ میں جا رہی ہوں اس لیئے”
اسنے شکایت کی
“ہاں بلکل اسی لیئے”
وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ گئے
رابیل ان کے کندھے پر سر رکھ گئی پھر کچھ دیر تک باپ بیٹی آہستہ آواز میں باتیں کرتے رہے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے اندر کا منظر بہت خوبصورت نظر آ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جہانزیب نارمل انداز میں اپنے کمرے سے باہر آیا اور ایسا ظاہر کرنے لگا کہ کچھ ہوا ہی نہیں
وہ قدم قدم چلتا ڈائنگ ٹبیل تک آگیا اور کرسی کو تھوڑا باہر کی جانب کھینچ کر بیٹھ گیا
صدف بیگم کچن میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں
“بیٹا ایسا مت کرو رابیل سے اچھی لڑکی تمہیں نہیں ملے گی میں خود وہاں رشتہ لے کر گئی تھی اب میں انکار کیسے کر دوں”
جہانزیب ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا جب صدف بیگم نے بھی ایک کرسی سنبھال لی
صدف بیگم اپنے بیٹے کے سامنے بے بس سی نظر آ رہی تھیں
“امی یقیناً رابیل ایک اچھی لڑکی ہے میں نے اس بات سے انکار کب کیا مگر میں اس سے شادی نہیں کرسکتا میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں
اور آپکو کم سے کم مجھ سے پوچھ کر وہاں جانا چاہیئے تھا”
وہ اپنی ماں کی تکلیف کو سمجھ رہا تھا مگر وہ بھی بے بس تھا سلینہ کی محبت میں اسنے شاید اپنی ماں کے بعد سلینہ سے سب سے زیادہ محبت کی تھی اب وہ اسے یوں چھوڑ نہیں سکتا تھا
“پتہ بھی ہے کہ کون ہے وہ سلینہ اسکا خاندان کیا ہے کیسی تربیت ہے اسکی اور تم اسے رابیل پر فوقیت دے رہے ہو”
صدف بیگم اب تھوڑا غصے سے بولیں
“امی میں جانتا ہوں اسے اور اس کے خاندان کو وہ اچھے لوگ ہیں”
اسنے اپنی ماں کو سمجھانا چاہا
“اچھے لوگ کیسے ہوئے بھلا اچھے گھروں کی لڑکیاں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتیں”
صدف بیگم کی آواز قدرے بلند تھی
“امی پلیز میں سلینہ کے بارے میں کچھ غلط نہیں سنوں گا”
اپنی ماں کی بات سن کر اسے لگا اسکا دماغ پھٹ جائے گا
“میں سلینہ سے ہی شادی کروں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
“چاہے تمہیں اپنی ماں کا مرا ہوا منہ ہی کیوں نا دیکھنا پڑے”
وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں
“امی میں کتنی دفعہ آپکو سمجھاؤں کہ میں سلینہ سے محبت کرتا ہوں
اگر میں رابیل سے شادی کر بھی لوں تو اسے کبھی محبت نہیں دے سکوں گا
آپ تو رابیل سے پیار کرتی ہیں نا تو کیوں اسے زبردستی ایسے رشتے میں دھکیل رہی ہیں جہاں اسے صرف دکھ ملے گا”
جہانزیب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح اپنی ماں کو سمجھائے کہ وہ رابیل سے شادی نہیں کرنا چاہتا
اسکا انداز ایسا تھا کہ وہ اپنی ماں کو آنے والے وقت سے ڈرا رہا ہو
“تم اس سے شادی کر لو بس ۔۔۔۔وہ خود تمہارے دل میں جگہ بنا لے گی”
صدف بیگم نے اپنے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا
انکی بات سن کر جہانزیب کو اپنی ماں سے شدید افسوس ہوا کہ وہ ایسی سوچ رکھتی ہیں کہ بس لڑکی کو زبر دستی کے رشتے میں دھکیل دو پھر وہ جانے اور اسکی قسمت
“میں سلینہ سے ہی شادی کروں گا”
وہ یہ کہتا انتہائی غصے میں باہر کی طرف بڑھ گیا
پیچھے صدف بیگم بے بسی سے اسے دیکھتی کھڑی رہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رات جہانزیب گھر دیر سے آیا تقریباً رات کے ایک بج رہے تھے
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ایک سوٹ کیس اٹھائے کمرے سے باہر نکلا
“اپنی ماں کو اکیلے چھوڑ کر جا رہے ہو”
وہ رات کے اندھیرے میں اپنے کمرے سے نکلا اسکا خیال تھا کہ اسکی ماں اب تک سو چکی ہو گی اور وہ با آسانی یہاں سے نکل جائے گا مگر وہ غلط تھا اسکے بڑھتے قدموں کو اسکی ماں کی آواز نے زنجیر لگا دی
“چھوڑ کر نہیں جا رہا واپس آجاؤں گا”
وہ یہ کہتا آگے بڑھا
“اسے لینے جا رہے ہو” ؟
ماں نے ایک اور سوال کیا
جی!
جواب مختصر تھا
“وہ رابیل سے اچھی نہیں ہو سکتی”
ماں اسکے سامنے سے گزر کر لاونج کے صوفے پر آ بیٹھی
“نہ ہو رابیل سے اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جیسی بھی ہے مجھے قبول ہے”
وہ وہیں جم کر کھڑا رہا
“کیا مجھے حق نہیں ہے کہ میں تمہارے لیئے دلہن کا انتخاب کروں”
وہ اداس لگتی تھیں
“بلکل حق ہے آپکو۔۔۔۔۔۔ آپکا یہ حق کوئی نہیں چھین رہا مگر کسی کو بغیر دیکھے بغیر اسکو جانے اسکے بارے میں غلط رائے قائم کر لینا کہاں کا انصاف ہے”
وہ اپنی ماں کے سامنے آ کھڑا ہوا
ماں نے ایک نظر اسے دیکھا وہ اب بڑا ہو گیا تھا وہ اب بلکل بھی انکا وہ چھوٹا سا جہانزیب نہیں تھا جو آنکھیں بند کر کے اپنی ماں کا حکم مانتا تھا
“ٹھیک ہے تو تم اسے یہاں بلا لو کچھ دنوں کے لیئے تاکہ میں اسے دیکھ لوں اگر وہ واقع اچھی ہوئی تو میں تمہاری اس سے شادی کروا دوں گی”
وہ اپنے بیٹے کو مسلسل دیکھ رہی تھیں جس کے چہرے پر اب خوشی نظر آ رہی تھی
“لیکن اگر وہ مجھے پسند نہیں آئی تو”
وہ کچھ لمحوں کے لیئے رکیں
جہانزیب کے چہرے پر سایہ سا لہرایا
“تو کیا تم اس سے شادی نہیں کرو گے کیا میری پسند نا پسند تمہارے لیئے معنی رکھے گی “
وہ مسلسل اپنے بیٹے کے بدلتے تاثرات بھانپ رہی تھیں
جہانزیب کچھ لمحوں کے لیئے ان سے نظریں چراتا رہا پھر ساری ہمت جمع کر کے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا
“میں کل ہی اس سے بات کرتا ہوں وہ اپکوں ضرور پسند آ جائے گی”
اس نے اپنا سوٹ کیس تھاما اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
“ماں وہ رابیل سے بھی اچھی ہے”
ایک لمحے کو رک کر اسنے بغیر مڑے آہستہ آواز میں کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






