Urdu Classics

Namak Ka Daroga: Full Urdu Story, Summary and Themes

Namak Ka Daroga: Full Urdu Story, Summary and Themes – cover
Language
Urdu

About this novel

Namak Ka Daroga (Urdu: نمک کا داروغہ, “The Salt Inspector”) is a famous short story by Munshi Premchand about honesty in a corrupt world. It is a favourite in school syllabuses because its message is simple and powerful: integrity may cost you in the short term, but it earns a respect that money cannot buy.

Full Urdu Text (مکمل اردو متن)

نمک کا داروغہ — منشی پریم چند

(۱)

جب نمک کا محکمہ قائم ہوا اور ایک خداداد نعمت سے فائدہ اٹھانے کی عام ممانعت کر دی گئی تو لوگ دروازۂ صدر بند پا کر روزن و شگاف کی فکریں کرنے لگے۔ چاروں طرف خیانت اور غبن اور تحریص کا بازار گرم تھا۔ پٹوارگری کا معزز اور پُرمنفعت عہدہ چھوڑ چھوڑ کر لوگ صیغۂ نمک کی برقندازی کرتے تھے۔ اور اس محکمے کا داروغہ تو وکیلوں کے لئے بھی رشک کا باعث تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انگریزی تعلیم اور عیسائیت مترادف الفاظ تھے۔ فارسی کی تعلیم سندِ افتخار تھی۔ لوگ حسن اور عشق کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اعلیٰ ترین مدارجِ زندگی کے قابل ہو جاتے تھے۔ منشی بنسی دھر نے بھی زلیخا کی داستان ختم کی اور مجنوں و فرہاد کے قصۂ غم کو دریافتِ امریکہ یا جنگِ نیل سے عظیم تر واقعہ خیال کرتے ہوئے روزگار کی تلاش میں نکلے۔ ان کے باپ ایک جہاں دیدہ بزرگ تھے۔ سمجھانے لگے۔ ”بیٹا! گھر کی حالتِ زار دیکھ رہے ہو۔ قرضے سے گردنیں دبی ہوئی ہیں۔ لڑکیاں ہیں۔ وہ گنگا جمنا کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ میں کگارے کا درخت ہوں۔ نہ معلوم کب گر پڑوں۔ تمہی گھر کے مالک و خود مختار ہو۔ مشاہرے اور عہدے کا مطلق خیال نہ کرنا۔ یہ تو پیر کا مزار ہے۔ نگاہ چڑھاوے اور چادر پر رکھنی چاہیے۔ ایسا کام ڈھونڈنا جہاں کچھ بالائی رقم کی آمد ہو۔ ماہوار مشاہرہ پورنماشی کا چاند ہے جو ایک دن دکھائی دیتا ہے اور پھر گھٹتے گھٹتے غائب ہو جاتا ہے۔ بالائی رقم پانی کا بہتا ہوا سوتا ہے جس سے پیاس ہمیشہ بجھتی رہتی ہے۔ مشاہرہ انسان دیتا ہے اسی لئے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ بالائی رقم غیب سے ملتی ہے اسی لئے اس میں برکت ہوتی ہے۔ اور تم خود عالم و فاضل ہو۔ تمہیں کیا سمجھاؤں۔ یہ معاملہ بہت کچھ ضمیر اور قیافے کی پہچان پر منحصر ہے۔ انسان کو دیکھو۔ اس کی ضرورت کو دیکھو۔ موقع دیکھو۔ اور خوب غور سے کام لو۔ غرض مند کے ساتھ ہمیشہ بے رحمی اور بے رخی کر سکتے ہو۔ لیکن بے غرض سے معاملہ کرنا مشکل کام ہے۔ ان باتوں کو گرہ میں باندھ لو۔ میری ساری زندگی کی کمائی ہیں۔“

بزرگانہ نصیحتوں کے بعد کچھ دعائیہ کلمات کی باری آئی۔ بنسی دھر نے سعادت مند لڑکے کی طرح یہ باتیں بہت توجہ سے سنیں اور تب گھر سے چل کھڑے ہوئے۔ اس وسیع دنیا میں جہاں اپنا استقلال اپنا رفیق، اپنی ہمت اپنا مددگار اور اپنی کوشش اپنا مربی ہے۔ لیکن اچھے شگون سے چلے تھے۔ خوبیِ قسمت ساتھ تھی۔ صیغۂ نمک کے داروغہ مقرر ہو گئے۔ مشاہرہ معقول۔ بالائی رقم کا کچھ ٹھکانا نہ تھا۔ بوڑھے منشی جی نے خط پایا تو باغ باغ ہو گئے۔ کلوار کی تسکین و تشفی کی سند ملی۔ پڑوسیوں کو حسد ہوا اور مہاجنوں کی سخت گیریاں مائل بہ نرمی ہو گئیں۔

(۲)

جاڑے کے دن تھے اور رات کا وقت۔ نمک کے برقنداز اور چوکی دار شراب خانے کے دربان بنے ہوئے تھے۔ منشی بنسی دھر کو یہاں آئے ہوئے چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوئے تھے لیکن اسی عرصے میں ان کی فرض شناسی اور دیانت نے افسروں کا اعتبار اور پبلک کی بے اعتباری حاصل کر لی تھی۔ نمک کے دفتر سے ایک میل پورب کی جانب جمنا ندی بہتی تھی اور اس پر کشتیوں کی ایک گزرگاہ بنی ہوئی تھی۔ داروغہ صاحب کمرہ بند کئے میٹھی نیند سوتے تھے۔ یکایک آنکھ کھلی تو ندی کے میٹھے سہانے راگ کے بجائے گاڑیوں کا شور و غل اور ملاحوں کی بلند آوازیں کان میں آئیں۔ اٹھ بیٹھے۔ اتنی رات گئے گاڑیاں کیوں دریا کے پار جاتی ہیں اگر کچھ دغا نہیں تو اس پردۂ تاریک کی ضرورت کیوں۔ شبہ کو استدلال نے ترقی دی۔ وردی پہنی۔ طمنچہ جیب میں رکھا اور آن کی آن میں گھوڑا بڑھائے ہوئے دریا کے کنارے آ پہنچے۔ دیکھا تو گاڑیوں کی ایک لمبی قطار زلفِ محبوب سے بھی زیادہ طولانی پل سے اتر رہی ہے۔ حاکمانہ انداز سے بولے:

”کس کی گاڑیاں ہیں؟“

تھوڑی دیر تک سناٹا رہا۔ آدمیوں میں کچھ سرگوشیاں ہوئیں۔ تب اگلے گاڑی بان نے جواب دیا۔ ”پنڈت الوپی دین کی۔“

”کون پنڈت الوپی دین؟“

”داتا گنج کے۔“

منشی بنسی دھر چونکے۔ الوپی دین اس علاقے کا سب سے بڑا اور ممتاز زمیندار تھا۔ لاکھوں کی ہنڈیاں چلتی تھیں۔ غلے کا کاروبار الگ۔ بڑا صاحب اثر، بڑا حکام رس، بڑے بڑے انگریز افسر اس کے علاقے میں شکار کھیلنے آتے اور اس کے مہمان ہوتے۔ بارہ مہینے سدابرت چلتا تھا۔ پوچھا۔ ”کہاں جائیں گی؟“ جواب ملا کان پور کو۔ لیکن اس سوال پر کہ ”ان میں کیا ہے؟“ ایک خاموشی کا عالم طاری ہو گیا اور داروغہ صاحب کا شبہ یقین کے درجے تک پہنچ گیا۔ جواب کے ناکام انتظار کے بعد ذرا زور سے بولے ”کیا تم سب گونگے ہو گئے۔ ہم پوچھتے ہیں ان میں کیا لدا ہے؟“

(۳)

جب اب کے بھی کوئی جواب نہ ملا تو انہوں نے گھوڑے کو ایک گاڑی سے ملا دیا اور ایک بورے کو ٹٹولا۔ شبہ یقین سے ہم آغوش تھا۔ یہ نمک کے ڈھیلے تھے۔

پنڈت الوپی دین اپنے سجیلے رتھ پر سوار کچھ سوتے کچھ جاگتے چلے آتے تھے کہ دفعتاً کئی گھبرائے ہوئے گاڑی بانوں نے آ کر جگایا اور بولے۔ ”مہاراج! داروغہ نے گاڑیاں روک دیں اور گھاٹ پر کھڑے آپ کو بلاتے ہیں۔“

پنڈت الوپی دین کو مبلغ علیہ السلام کی طاقت کا پورا اور عملی تجربہ تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ دنیا کا ذکر ہی کیا دولت کا سکہ بہشت میں بھی رائج ہے۔ اور ان کا یہ قول بہت صحیح تھا۔ قانون اور حق و انصاف یہ سب دولت کے کھلونے ہیں جن سے وہ حسبِ ضرورت اپنا جی بہلایا کرتی ہے۔ لیٹے لیٹے امیرانہ بے پروائی سے بولے۔ ”اچھا چلو، ہم آتے ہیں۔“ یہ کہہ کر پنڈت جی بہت اطمینان سے پان کے بیڑے لگائے اور تب لحاف اوڑھے ہوئے داروغہ جی کے پاس آ کر بے تکلفانہ انداز سے بولے۔ ”بابو جی اشیرباد۔ ہم سے ایسی کیا خطا ہوئی کہ گاڑیاں روک دی گئیں۔ ہم برہمنوں پر آپ کی نظرِ عنایت ہی رہنی چاہیے۔“

بنسی دھر نے الوپی دین کو پہچانا۔ بے اعتنائی سے بولے۔ ”سرکاری حکم!“

الوپی دین نے ہنس کر کہا۔ ”ہم سرکاری حکم کو نہیں جانتے اور نہ سرکار کو۔ ہمارے سرکار تو آپ ہی ہیں۔ ہمارا اور آپ کا تو گھر کا معاملہ ہے۔ کبھی آپ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ آپ نے ناحق تکلیف کی۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ادھر سے جائیں اور اس گھاٹ کے دیوتا کو بھینٹ نہ چڑھائیں۔ میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔“

بنسی دھر پر دولت کی اس شیریں زبانیوں کا کچھ اثر نہ ہوا۔ دیانت داری کا تازہ جوش تھا۔ کڑک کر بولے۔ ”ہم ان نمک حراموں میں نہیں ہیں جو کوڑیوں پر اپنا ایمان بیچتے پھرتے ہیں۔ آپ اس وقت حراست میں ہیں۔ صبح کو آپ کا باقاعدہ چالان ہو گا۔ بس مجھے زیادہ باتوں کی فرصت نہیں ہے۔ جمعدار بدلو سنگھ! تم انہیں حراست میں لے لو، میں حکم دیتا ہوں۔“

پنڈت الوپی دین اور اس کے ہواخواہوں اور گاڑی بانوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ یہ شاید زندگی میں پہلا موقع تھا کہ پنڈت جی کو ایسی ناگوار باتوں کے سننے کا اتفاق ہوا۔ بدلو سنگھ آگے بڑھا لیکن فرطِ رعب سے ہمت نہ پڑی کہ ان کا ہاتھ پکڑ سکے۔ الوپی دین نے بھی فرض کو دولت سے ایسا بے نیاز اور ایسا بے غرض کبھی نہیں پایا تھا۔ سکتے میں آ گئے۔ خیال کیا کہ یہ ابھی طفلِ مکتب ہے۔ دولت کے ناز و انداز سے مانوس نہیں ہوا۔ الھڑ ہے، جھجکتا ہے، زیادہ ناز برداری کی ضرورت ہے۔ بہت منکسرانہ انداز سے بولے۔ ”بابو صاحب! ایسا ظلم نہ کیجئے۔ ہم مٹ جائیں گے۔ عزت خاک میں مل جائے گی۔ آخر آپ کو کیا فائدہ ہو گا؟ بہت ہوا تو تھوڑا سا انعام اکرام مل جائے گا۔ ہم کسی طرح آپ سے باہر تھوڑا ہی ہیں۔“

بنسی دھر نے سخت لہجے میں کہا۔ ”ہم ایسی باتیں سننا نہیں چاہتے۔“

الوپی دین نے جس سہارے کو چٹان سمجھ رکھا تھا وہ پاؤں کے نیچے سے کھسکتا ہوا معلوم ہوا۔ اعتمادِ نفس اور غرورِ دولت کو سخت صدمہ پہنچا لیکن ابھی تک دولت کی تعدادی قوت کا پورا بھروسہ تھا۔ اپنے مختار سے بولے۔ ”لالہ جی! ایک ہزار روپیہ کا نوٹ بابو صاحب کی نذر کرو۔ آپ اس وقت بھوکے شیر ہو رہے ہیں۔“

بنسی دھر نے گرم ہو کر کہا۔ ”ایک ہزار نہیں، مجھے ایک لاکھ بھی فرض کے راستے سے نہیں ہٹا سکتا۔“ دولت فرض کی اس خام کارانہ جسارت اور اس زاہدانہ نفس کشی پر جھنجھلائی۔ اور اب ان دونوں طاقتوں کے درمیان بڑے معرکے کی کشمکش شروع ہوئی۔ دولت نے پیچ و تاب کھا کھا کر مایوسانہ جوش کے ساتھ کئی حملے کئے۔ ایک ہزار سے پانچ ہزار تک۔ پانچ سے دس۔ دس سے پندرہ اور پندرہ سے بیس ہزار تک نوبت پہنچی۔ لیکن فرض مردانہ ہمت کے ساتھ اس سپاہِ عظیم کے مقابلہ میں یکہ و تنہا پہاڑ کی طرح اٹل کھڑا تھا۔

الوپی دین مایوسانہ انداز سے بولے۔ ”اس سے زیادہ میری ہمت نہیں۔ آئندہ آپ کو اختیار ہے۔“ بنسی دھر نے اپنے جمعدار کو للکارا۔ بدلو سنگھ دل میں داروغہ جی کو گالیاں دیتا ہوا الوپی دین کی طرف بڑھا۔ پنڈت جی گھبرا کر دو تین قدم پیچھے ہٹ گئے اور نہایت منت آمیز بے کسی کے ساتھ بولے۔ ”بابو صاحب! ایشور کے لئے مجھ پر رحم کیجئے۔ میں پچیس ہزار پر معاملہ کرنے کو تیار ہوں۔“

”غیر ممکن۔“

”تیس ہزار پر؟“

”غیر ممکن۔“

”کیا چالیس ہزار بھی ممکن نہیں؟“

”چالیس ہزار نہیں چالیس لاکھ پر بھی غیر ممکن۔ بدلو سنگھ! اس شخص کو فوراً حراست میں لے لو۔ اب میں ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتا۔“

فرض نے دولت کو پاؤں تلے کچل ڈالا۔ الوپی دین نے ایک قوی ہیکل جوان کو ہتھکڑیاں لئے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھا۔ چاروں طرف مایوسانہ نگاہیں ڈالیں اور تب غش کھا کر زمین پر گر پڑے۔

(۴)

دنیا سوتی تھی مگر دنیا کی زبان جاگتی تھی۔ صبح ہوئی تو یہ واقعہ بچے بچے کی زبان پر تھا اور ہر گلی کوچے سے ملامت اور تحقیر کی صدائیں آتی تھیں۔ گویا دنیا میں اب گناہ کا وجود نہیں رہا۔ پانی کو دودھ کے نام سے بیچنے والا گوالا، فرضی روزنامچے بھرنے والے حکامِ سرکار، ٹکٹ کے بغیر ریل پر سفر کرنے والے بابو صاحبان اور جعلی دستاویزیں بنانے والے سیٹھ اور ساہوکار، یہ سب اس وقت پارساؤں کی طرح گردنیں ہلاتے تھے۔ اور جب دوسرے دن پنڈت الوپی دین کا مواخذہ ہوا اور وہ کانسٹیبلوں کے ساتھ شرم سے گردن جھکائے ہوئے عدالت کی طرف چلے۔ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، دل میں غصہ و غم تو سارے شہر میں ہلچل سی مچ گئی۔ میلوں میں بھی شاید شوقِ نظارہ ایسی امنگ پر نہ آتا ہو۔ کثرتِ ہجوم سے سقف و دیوار میں تمیز کرنا مشکل تھا۔

مگر عدالت میں پہنچنے کی دیر تھی۔ پنڈت الوپی دین اس قلزمِ ناپیدا کنار کے نہنگ تھے۔ حکام ان کے قدر شناس، عملے ان کے نیاز مند، وکیل اور مختار ان کے ناز بردار اور اردلی کے چپراسی اور چوکیدار تو ان کے درم خریدہ غلام تھے۔ انہیں دیکھتے ہی چاروں طرف سے لوگ دوڑے۔ ہر شخص حیرت سے انگشت بدنداں تھا۔ اس لئے نہیں کہ الوپی دین نے کیوں ایسا فعل کیا۔ بلکہ وہ کیوں قانون کے پنجے میں آئے۔ ایسا شخص جس کے پاس محال کو ممکن کرنے والی دولت اور دیوتاؤں پر جادو ڈالنے والی چرب زبانی ہو کیوں قانون کے شکار بنے۔ حیرت کے بعد ہمدردی کے اظہار ہونے لگے۔ فوراً اس حملے کو روکنے کے لئے وکیلوں کا ایک دستہ تیار کیا گیا اور انصاف کے میدان میں فرض اور دولت کی باقاعدہ جنگ شروع ہوئی۔ بنسی دھر خاموش کھڑے تھے۔ یکہ و تنہا۔ سچائی کے سوا اور کچھ پاس نہیں۔ صاف بیانی کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں۔ استغاثہ کی شہادتیں ضرور تھیں لیکن ترغیبات سے ڈانواڈول۔ حتیٰ کہ انصاف بھی کچھ ان کی طرف سے کھچا ہوا نظر آتا تھا۔ یہ ضرور سچ ہے کہ انصاف سیم و زر سے بے نیاز ہے لیکن پردے میں وہ اشتیاق ہے جو ظہور میں ممکن نہیں۔ دعوت اور تحفے کے پردے میں بیٹھ کر دولت زاہد فریب بن جاتی ہے۔ وہ عدالت کا دربار تھا لیکن اس کے ارکان پر دولت کا نشہ چھایا ہوا تھا۔ مقدمہ بہت جلد فیصل ہو گیا۔ ڈپٹی مجسٹریٹ نے تجویز لکھی۔ ”پنڈت الوپی دین کے خلاف شہادت نہایت کمزور اور مہمل ہے۔ وہ ایک صاحبِ ثروت رئیس ہیں۔ یہ غیر ممکن ہے کہ وہ محض چند ہزار کے فائدے کے لئے ایسی کمینہ حرکت کے مرتکب ہو سکتے۔ داروغہ صاحب نمک منشی بنسی دھر پر اگر زیادہ سنگین نہیں تو ایک افسوس ناک غلطی اور خام کارانہ سرگرمی کا الزام ضرور عائد ہوتا ہے۔

ہم خوش ہیں کہ وہ ایک فرض شناس نوجوان ہے لیکن صیغۂ نمک کی اعتدال سے بڑھی ہوئی نمک حلالی نے اس کے امتیاز و ادراک کو مغلوب کر دیا۔ اسے آئندہ ہوشیار رہنا چاہیے۔“ وکیلوں نے یہ تجویز سنی اور اچھل پڑے۔ پنڈت الوپی دین مسکراتے ہوئے باہر نکلے۔ حواریوں نے روپے برسائے۔ سخاوت اور فراخ حوصلگی کا سیلاب آ گیا اور اس کی لہروں نے عدالت کی بنیادیں تک ہلا دیں۔ جب بنسی دھر عدالت سے باہر نکلے، نگاہیں غرور سے لبریز، تو طعن و تمسخر کے آوازے چاروں طرف سے آنے لگے۔ چپراسیوں اور برقندازوں نے جھک جھک کر سلام کئے لیکن ایک ایک اشارہ اس وقت اس نشۂ غرور پر ہوائے سرد کا کام کر رہا تھا۔ شاید مقدمے میں کامیاب ہو کر وہ شخص اس طرح اکڑتا ہوا نہ چلتا۔ دنیا نے اسے پہلا سبق دے دیا تھا۔ انصاف، علم اور پنج حرفی خطابات اور لمبی داڑھیاں اور ڈھیلے ڈھالے چغے ایک بھی حقیقی عزت کے مستحق نہیں!

(۵)

لیکن بنسی دھر نے ثروت اور رسوخ سے بیر مول لیا تھا۔ اس کی قیمت دینی واجب تھی۔ مشکل سے ایک ہفتہ گزرا ہو گا کہ معطلی کا پروانہ آ پہنچا۔ فرض شناسی کی سزا ملی۔ بے چارے شکستہ اور پریشان حال اپنے وطن کو روانہ ہوئے۔ بوڑھے منشی جی پہلے ہی سے بدظن ہو رہے تھے کہ چلتے چلتے سمجھایا تھا مگر اس لڑکے نے ایک نہ سنی۔ ہم تو کلوار اور بوچڑ کے تقاضے سہیں۔ بڑھاپے میں بھگت بن کر بیٹھیں اور وہاں بس وہی سوکھی تنخواہ۔ آخر ہم نے بھی نوکری کی ہے اور کوئی عہدہ دار نہیں تھے لیکن جو کام کیا دل کھول کر کیا اور آپ دیانت دار بننے چلے ہیں۔ گھر میں چاہے اندھیرا رہے، مسجد میں ضرور چراغ جلائیں گے۔ جب ایسی سمجھ پر پڑھنا لکھنا سب اکارت گیا۔ اسی اثنا میں بنسی دھر خستہ حال مکان پر پہنچے اور بوڑھے منشی جی نے روداد سنی تو سر پیٹ لیا اور بولے کہ جی چاہتا ہے کہ اپنا اور تمہارا سر پھوڑ لوں۔ بہت دیر تک پچھتاتے اور کفِ افسوس ملتے رہے۔ غصے میں کچھ سخت سست بھی کہا اور بنسی دھر اگر وہاں سے ٹل نہ جائیں تو عجب نہیں تھا کہ یہ غصہ عملی صورت اختیار کر لیتا۔ بوڑھی اماں کو بھی صدمہ ہوا۔ جگن ناتھ اور رامیشور کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں اور بیوی نے تو کئی دن تک سیدھے منہ سے بات نہیں کی۔

اس طرح اپنے یگانوں کی ترش روئی اور بیگانوں کی دلدوز ہمدردیاں سہتے سہتے ایک ہفتہ گزر گیا۔ شام کا وقت تھا۔ بوڑھے منشی رام نام کی مالا پھیر رہے تھے کہ ان کے دروازے پر ایک سجا ہوا رتھ آ کر رکا۔ سبز اور گلابی پردے، پچھائیں نسل کے بیل، ان کی گردنوں میں نیلے دھاگے، سینگ پیتل سے منڈھے ہوئے۔ منشی جی پیشوائی کو دوڑے۔ دیکھا تو پنڈت الوپی دین ہیں۔ جھک کر ڈنڈوت کی اور مدبرانہ درافشانیاں شروع کیں۔ ”آپ کو کون سا منہ دکھائیں۔ منہ میں کالک لگی ہوئی ہے۔ مگر کیا کریں لڑکا نالائق ہے۔ ناخلف ہے ورنہ آپ سے کیوں منہ چھپاتے۔ ایشور بے چراغ رکھے مگر ایسی اولاد نہ دے۔“ بنسی دھر نے الوپی دین کو دیکھا۔ مصافحہ کیا لیکن شانِ خودداری لئے ہوئے۔ فوراً گمان ہوا کہ یہ حضرت مجھے جلانے آئے ہیں۔ زبان شرمندۂ معذرت نہیں ہوئی۔ اپنے والدِ بزرگوار کا خلوصِ رواں سخت ناگوار گزرا۔ یکایک پنڈت جی نے قطع کلام کیا۔ ”نہیں بھائی صاحب! ایسا نہ فرمائیے۔“

بوڑھے منشی جی کی قیافہ شناسی نے جواب دے دیا۔ اندازِ حیرت سے بولے۔ ”ایسی اولاد کو اور کیا کہوں۔“ الوپی دین نے کسی قدر جوش سے کہا۔ ”فخرِ خاندان اور بزرگوں کا نام روشن کرنے والا ایسا سپوت لڑکا پا کر آپ کو پرماتما کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ دنیا میں ایسے کتنے انسان ہیں جو دیانت پر اپنا سب کچھ نثار کرنے پر تیار ہوں۔ داروغہ جی! اسے زمانہ سازی نہ سمجھئے۔ زمانہ سازی کے لئے مجھے یہاں تک تکلیف کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس رات کو آپ نے مجھے حکومت کے زور سے حراست میں لیا تھا۔ آج میں خود بخود آپ کی حراست میں آیا ہوں۔ میں نے ہزاروں رئیس اور امیر دیکھے۔ ہزاروں عالی مرتبہ حکام سے سابقہ پڑا لیکن مجھے زیر کیا تو آپ نے۔ میں نے سب کو اپنا اور اپنی دولت کا غلام بنا کر چھوڑ دیا۔ مجھے اجازت ہے کہ آپ سے کوئی سوال کروں؟“

بنسی دھر کو ان باتوں میں کچھ خلوص کی بو آئی۔ پنڈت جی کے چہرے کی طرف اڑتی ہوئی مگر تلاش کی نگاہ سے دیکھا۔ صداقت کی گاڑھی گاڑھی جھلک نظر آئی۔ غرور نے ندامت کو راہ دی۔ شرماتے ہوئے بولے۔ ”یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ فرض نے مجھے آپ کی شان میں بے ادبی کرنے پر مجبور کیا ورنہ میں تو آپ کی خاکِ پا ہوں جو آپ کا ارشاد ہو گا بحدِ امکان اس کی تعمیل سے انکار نہ کروں گا۔“

الوپی دین نے التجا آمیز نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔ ”دریا کے کنارے آپ نے میرا سوال رد کر دیا تھا لیکن یہ سوال آپ کو قبول کرنا پڑے گا۔“

بنسی دھر نے جواب دیا۔ ”میں کس قابل ہوں لیکن مجھ سے جو کچھ ناچیز خدمت ہو سکے گی اس میں دریغ نہ ہو گا۔“

الوپی دین نے ایک قانونی تحریر نکالی اور اسے بنسی دھر کے سامنے رکھ کر بولے۔ ”اس مختار نامے کو ملاحظہ فرمائیے اور اس پر دستخط کیجئے۔ میں برہمن ہوں۔ جب تک یہ سوال پورا نہ کیجئے گا دروازے سے نہ ٹلوں گا۔“

منشی بنسی دھر نے مختار نامے کو پڑھا تو شکریہ کے آنسو آنکھوں میں بھر آئے۔ پنڈت الوپی دین نے انہیں اپنی ساری ملکیت کا مختارِ عام قرار دیا تھا۔ چھ ہزار سالانہ تنخواہ جیبِ خاص کے لئے۔ روزانہ خرچ الگ۔ سواری کے لئے گھوڑے۔ اختیارات غیر محدود۔ کانپتی ہوئی آواز سے بولے۔ ”پنڈت جی۔ میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے مجھے ان عنایاتِ بیکراں کے قابل سمجھا لیکن میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ میں اتنے اعلیٰ رتبے کے قابل نہیں ہوں۔“

الوپی دین ہنس کر بولے۔ ”اپنے منہ سے اپنی تعریف نہ کیجئے۔“

بنسی دھر نے متین انداز سے کہا۔ ”یوں میں آپ کا غلام ہوں۔ آپ جیسے نورانی اوصاف بزرگ کی خدمت کرنا میرے لئے فخر کی بات ہے۔ لیکن مجھ میں نہ علم ہے، نہ فراست، نہ تجربہ ہے جو ان خامیوں پر پردہ ڈال سکے۔ ایسی معزز خدمات کے لئے ایک بڑے معاملہ فہم اور کار کردہ منشی کی ضرورت ہے۔“

الوپی دین نے قلمدان سے قلم نکالا اور بنسی دھر کے ہاتھ میں دے کر بولے۔ ”مجھے نہ علم کی ضرورت ہے، نہ فراست کی، نہ کار کردگی کی اور نہ معاملہ فہمی کی۔ ان سنگ ریزوں کے جوہر میں بار بار پرکھ چکا ہوں۔ اب حسنِ تقدیر اور حسنِ اتفاق نے مجھے وہ بے بہا موتی دے دیا ہے جس کی آب کے سامنے علم اور فراست کی چمک کوئی چیز نہیں۔ یہ قلم حاضر ہے۔ زیادہ تامل نہ کیجئے۔ اس پر آہستہ سے دستخط کیجئے۔ میری پرماتما سے یہی التجا ہے کہ آپ کو سدا وہی ندی کے کنارے والا بے مروت، سخت زبان، تند مزاج لیکن فرض شناس داروغہ بنائے رکھے۔“

بنسی دھر کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔ دل کے تنگ ظرف میں اتنا احسان نہ سما سکا۔ پنڈت الوپی دین کی طرف ایک بار پھر عقیدت اور پرستش کی نگاہ سے دیکھا اور مختار نامے پر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دستخط کر دیے۔ الوپی دین فرطِ مسرت سے اچھل پڑے اور انہیں گلے لگا لیا۔

Text: the original Urdu story by Munshi Premchand, which is in the public domain. Typed by Crazy Fans of Novels from a printed Urdu edition of his collected stories (“Majmua Afsane Munshi Premchand”) and checked page by page.

Summary of Namak Ka Daroga

A job in the salt department

The story is set in the days when the government controlled the trade in salt, and smuggling and bribery were common. Young Munshi Vanshidhar gets a job as a daroga (inspector) in the salt department. His old father advises him to look for a post with plenty of “extra income”, meaning bribes, because a salary is like the moon on the first night of the month: it appears and then disappears. Vanshidhar listens respectfully, but he has his own principles.

The night on the bridge

One night Vanshidhar hears carts crossing the river bridge. He investigates and finds they are carrying smuggled salt for Pandit Alopideen, the richest and most powerful man in the area, who is sure that money can buy anyone. Alopideen offers a bribe, then a larger one, raising the amount again and again to many thousands of rupees. Vanshidhar refuses every offer and arrests him.

The trial

The whole town is shocked that the great Alopideen has been arrested. But in court his money and influence work their magic. He is acquitted, and the judge even criticises the young inspector for being over-zealous. Soon afterwards Vanshidhar is dismissed from his job. His father is furious, and the family faces hard times.

The ending

A few days later, Pandit Alopideen himself arrives at Vanshidhar’s house. The family expects trouble, but Alopideen has come with a different purpose. He says that in all his life he has never met a man who could not be bought, and he offers Vanshidhar the post of permanent manager of all his property, with a generous salary. Moved, Vanshidhar accepts.

Characters

  • Munshi Vanshidhar: the honest young salt inspector.
  • Pandit Alopideen: a rich, powerful trader who believes money rules the world, until he meets Vanshidhar.
  • Vanshidhar’s father: a practical old man who sees honesty as foolishness.

Themes

  • Honesty versus corruption: the story tests whether integrity can survive in a system run on bribes.
  • The power of money: Alopideen’s wealth wins in court, but it cannot buy Vanshidhar.
  • Respect for character: in the end even the corrupt man values honesty most.

About Munshi Premchand

Premchand (1880–1936), born Dhanpat Rai Srivastava near Varanasi, is called the father of the modern Urdu and Hindi short story. He wrote hundreds of stories and several novels, first in Urdu and later in Hindi, about village life, poverty, honesty and the struggles of ordinary people.

Frequently asked questions

Who is the daroga in the story? Munshi Vanshidhar, an inspector in the salt department.

Why was Vanshidhar dismissed? Because he arrested the powerful Pandit Alopideen, who was then acquitted by the court.

How does the story end? Alopideen offers Vanshidhar a job as the permanent manager of his property because of his honesty.

Read more guides in our Urdu Classics section, including Kafan by Premchand and Umrao Jaan Ada.

Advertisement

Ready to read Namak Ka Daroga: Full Urdu Story, Summary and Themes?

Readers also enjoyed