Allama Iqbal Essay in Urdu (علامہ اقبال پر مضمون) with English Summary

- Language
- Urdu
About this novel
Read a complete Allama Iqbal essay in Urdu for students, with headings, a short essay, 10 lines in Urdu and an English summary of his life and work.
Students in Pakistan are often asked to write an essay on Allama Iqbal (علامہ اقبال پر مضمون). Below you will find a complete essay in Urdu with headings, a short essay for younger students, ten easy lines in Urdu, and a summary in English. Everything here is written by us and you are free to use it for study.
On this page
Allama Iqbal essay in Urdu – علامہ اقبال پر مضمون
تمہید
علامہ محمد اقبال برصغیر کے عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ انہیں شاعرِ مشرق اور مصورِ پاکستان کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا اور انہیں خودی، عمل اور امید کا پیغام دیا۔ آج بھی ان کے اشعار ہمارے دلوں کو گرماتے ہیں اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ والدین نیک اور دین دار تھے، اس لیے بچپن ہی سے اقبال کے دل میں دین اور علم کی محبت پیدا ہو گئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، جہاں مولوی میر حسن جیسے شفیق استاد نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔
اس کے بعد اقبال لاہور آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پھر فلسفے میں ایم اے کیا۔ 1905ء میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے۔ انہوں نے انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی اور لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ 1908ء میں وہ وطن واپس آ گئے۔
شاعری اور کتابیں
اقبال نے کم عمری ہی میں شاعری شروع کر دی تھی اور ابتدا میں اپنا کلام اصلاح کے لیے مشہور شاعر داغ دہلوی کو بھیجا کرتے تھے۔ ان کا پہلا اردو مجموعہ بانگِ درا 1924ء میں شائع ہوا، جس میں لب پہ آتی ہے دعا، ترانۂ ہندی، ہمدردی، پرندے کی فریاد اور شکوہ اور جوابِ شکوہ جیسی مشہور نظمیں شامل ہیں۔ اس کے بعد بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شائع ہوئیں۔
اقبال نے فارسی زبان میں بھی بہت شاعری کی تاکہ ان کا پیغام پوری مسلم دنیا تک پہنچ سکے۔ اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، پیامِ مشرق، زبورِ عجم اور جاوید نامہ ان کی مشہور فارسی کتابیں ہیں۔
فلسفۂ خودی
اقبال کی شاعری کا مرکزی پیغام خودی ہے۔ خودی سے مراد انسان کی اپنی پہچان، عزتِ نفس اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہے۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان نوجوان شاہین کی طرح بلند پرواز ہوں، محنت کریں، علم حاصل کریں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
تصورِ پاکستان
1930ء میں الٰہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبال نے برصغیر کے شمال مغربی علاقوں میں مسلمانوں کی ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہی تصور آگے چل کر قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا، اسی لیے انہیں مصورِ پاکستان کہا جاتا ہے۔ انہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو خطوط لکھ کر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر بھی آمادہ کیا۔
وفات
علامہ اقبال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کا مزار لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں ہے، جہاں ہر سال ہزاروں لوگ حاضری دیتے ہیں۔ ان کی یاد میں ہر سال 9 نومبر کو یومِ اقبال منایا جاتا ہے۔
نتیجہ
علامہ اقبال ہماری قوم کے محسن ہیں۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کی زندگی میں تھا۔ اگر ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں، علم حاصل کریں، محنت کریں اور اپنی خودی کو پہچانیں تو ہم ایک باعزت اور ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔ بقول اقبال:
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
Short essay on Allama Iqbal in Urdu – مختصر مضمون
علامہ محمد اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں۔ وہ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لاہور، کیمبرج اور میونخ میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی شاعری میں خودی، محنت اور امید کا پیغام ہے۔ بانگِ درا ان کی پہلی اردو کتاب ہے، جس میں بچوں کی مشہور دعا “لب پہ آتی ہے دعا” بھی شامل ہے۔ 1930ء میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کیا، اس لیے انہیں مصورِ پاکستان کہتے ہیں۔ وہ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں فوت ہوئے۔ ہم ان کے پیغام پر عمل کر کے اپنے ملک کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
10 lines on Allama Iqbal in Urdu
- علامہ محمد اقبال پاکستان کے قومی شاعر ہیں۔
- وہ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔
- ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔
- انہیں شاعرِ مشرق اور مصورِ پاکستان کہا جاتا ہے۔
- انہوں نے کیمبرج اور میونخ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
- ان کی پہلی اردو کتاب بانگِ درا 1924ء میں شائع ہوئی۔
- “لب پہ آتی ہے دعا” ان کی مشہور نظم ہے جو اسکولوں میں پڑھی جاتی ہے۔
- ان کی شاعری کا مرکزی پیغام خودی ہے۔
- 1930ء میں انہوں نے الٰہ آباد میں مسلمانوں کے الگ وطن کا تصور پیش کیا۔
- وہ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں فوت ہوئے اور بادشاہی مسجد کے پہلو میں دفن ہیں۔
Allama Iqbal essay: summary in English
Allama Muhammad Iqbal (1877–1938) was a great poet, philosopher and thinker, known as the Poet of the East and the man who first imagined Pakistan. He was born in Sialkot on 9 November 1877, studied in Sialkot and at Government College Lahore, and later at Cambridge, in Munich, where he earned a doctorate in philosophy, and in London, where he qualified as a barrister.
His first Urdu collection, Bang-e-Dra (1924), contains famous poems such as Lab Pe Aati Hai Dua, Tarana-e-Hindi and Shikwa and Jawab-e-Shikwa; later came Bal-e-Jibril, Zarb-e-Kalim and Armaghan-e-Hijaz, as well as major works in Persian. The central idea of his poetry is khudi, the self: dignity, self-belief and hard work. In his 1930 Allahabad address he proposed a separate homeland for the Muslims of north-western India, an idea that later led to Pakistan. He died in Lahore on 21 April 1938 and is buried beside the Badshahi Mosque. Iqbal Day is marked every year on 9 November.
Frequently asked questions
How do I start an essay on Allama Iqbal in Urdu?
Begin with a short introduction (tamheed) that says who he was and why he matters, for example that he is the national poet of Pakistan and is called Shair-e-Mashriq and Musawwar-e-Pakistan. Then write about his early life, education, poetry, the idea of khudi, his role in the idea of Pakistan and his death, and end with a conclusion and a couplet.
Which couplet should I use in an Iqbal essay?
Khudi ko kar buland itna and Nahin hai na-umeed Iqbal apni kisht-e-veeran se are the two most used. You can find more in our page of Allama Iqbal poetry in Urdu with English translation.
Why is Allama Iqbal called Musawwar-e-Pakistan?
Because in his 1930 address at Allahabad he first described the idea of a separate Muslim state in north-western India, which later became Pakistan. Musawwar means painter or the one who pictures something.
Read more: Allama Iqbal poetry with English translation, Shikwa and Jawab-e-Shikwa, Urdu poetry in English and our Urdu Classics.
Ready to read Allama Iqbal Essay in Urdu (علامہ اقبال پر مضمون) with English Summary?






