Faqeer e Muhabat by Nida e Eman Episode 2

- Writer
- Nida e Eman
- Genre
- Romantic
- Language
- Urdu
About this novel
Faqeer e Muhabat (Urdu: فقیر محبت) Episode 2 by Nida e Eman continues this Urdu romance of one-sided love, regret and revenge. Jahanzeb persuades the girl he loves to come to Lahore so his mother can meet her, a Quran teacher gently counsels a heartbroken student about loving a na-mahram, and the past reveals how young Baran lost his mother on a lonely road.
Elsewhere, a masked gunman known only as Khan plays a cruel game with his victim in the Lahore rain, Rabail is upset when her sister Sawabia says she is moving to Turkey, and the episode ends with a shocking scene as Jahanzeb accuses Rabail in front of her whole family.
ناول: فقیر محبت
ازقلم: ندائے ایمان
میری ماں کے نام
دوسری قسط
“سلینہ کیا تم چند دنوں کے لیئے لاہور آسکتی ہو اکیلے”
جہانزیب اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا اسکی ٹیبل کے ساتھ ہی کھڑکی تھی جہاں سے آنے والی روشنی اسکے نصف چہرے کو روشن کیئے ہوئے تھی ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے دوسرا ہاتھ میز پر رکھ کر وہ تھوڑا آگے کو جھکا ہوا تھا
“جہانزیب میں کیسے آ سکتی ہوں میں گھر میں کیا کہوں گی اور تمہیں پتہ ہے میں کبھی ہوٹلوں میں نہیں ٹھہری میں کیسے آ سکتی ہوں جہانزیب “
موبائل سے پریشان آواز ابھری ہی تھی کہ جہانزیب کہ ماتھے پر بل نمایاں ہونے لگے
“سلینہ تم اسکی فکر مت کرو تم میرے گھر رہ لینا میں کسی ہوٹل میں رہ لوں گا
صرف چند دنوں کی بات ہے امی کو میں نے بہت مشکل سے منایا ہے وہ تمہیں دیکھنا چاہتی ہیں تمہیں پرکھنا چاہتی ہیں اگر تم انہیں راضی کر لوتو پھر ہماری شادی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا”
ویٹر نے اسکے سامنے دھواں اڑاتی کافی رکھی وہ تھوڑا پیچھے کو ہوا جس کی وجہ سے اسکا نصف چہرا بھی روشنی سے محروم ہو گیا جبکہ ماتھے پر بل ابھی بھی نمایاں تھے
“کتنے دن”؟
موبائل پر موجود لڑکی نے اٹل لحجے میں سوال کیا
اسکے ماتھے پر بل کچھ کم ہوئے شکر ہے کم سے کم وہ یہاں آنے کو مانی تو صحیح
“زیادہ نہیں چار پانچ دن بس”
وہ تھوڑا پرجوش ہو کر آگے کو جھکا اسکا نصف چہرا پھر روشن ہو گیا
“ٹھیک ہے جہانزیب میں دو تین دن تک سب ڈن کر کے تمہیں بتاؤں گی تم میرے آنے کا انتظام کر دینا”
وہ راضی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلینہ نے جہانزیب کی مشکل آسان کر دی وہ آسانی سے راضی ہوگئی ورنہ جہانزیب کو لگا تھا اسے چند دن سلینہ کو منانے میں ضرور لگ جائیں گے
“شکریہ سلینہ”
اسکے ماتھے پر موجود تمام بل اب غائب ہو چکے تھے
اسکی کافی سے اب بہت کم دھواں اڑ رہا تھا
“اگر میں تمہاری امی کو راضی نہ کر سکی تو” ؟
اس سوال پر وہ نظریں چرا کر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا جیسے سلینہ اس وقت اسکے سامنے ہے اور وہ اسے اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا اور نظریں چرا رہا ہو
کھڑکی کی طرف چہرا پھیرنے سے اسکا پورا چہرا روشن ہوگیا
تو۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ پل کو روکا
“تو میں پھر بھی تم سے شادی کروں گا”
وہ مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا آسمان پر گہرے سیاہ بادل برسنے کو تیار تھے
موبائل کی دوسری طرف اطمینان سا ہو گیا مگر اس طرف شاید اس نوجوان کو اپنی ماں سے تھوڑی شرمندگی ہوئی مگر یہ احساس صرف چند لمحوں کے لیئے تھا وہ سنبھل گیا
“ٹھیک ہے جہانزیب میں پھر تمہیں دو تین دن تک بتاتی ہوں ٹھیک ہے”
“ہممممم ٹھیک ہے”
پھر کچھ الوداعی کلمات کے بعد جہانزیب نے موبائل بند کر کے میز پر رکھا اور پیچھے ہو کر کرسی پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گیا اسکا چہرا روشنی سے پھر محروم ہو گیا
چند لمحیں وہ ایسے ہی بیٹھا رہا پھر میز پر چند نوٹ رکھتے اپنی چیزیں اٹھا کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ گیا
جبکہ اسکی کافی اب بلکل ٹھنڈی ہو چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اب بتاؤ کیا بات ہےحیا تم مجھے اپنی بہن
سمجھو ڈرو مت کیا بات ہے بتاؤ مجھے”
ام عبد الرحمن اپنی ایک سٹوڈنٹ کا ہاتھ تھامے اس وقت ایک خالی کلاس میں بیٹھی تھی جبکہ وہ سٹوڈنٹ جس کا نام شاید حیا تھا بہت پریشان لگ رہی تھی
“مجھے نہیں پتہ میں کیا کہوں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایک لڑکے سے پیار کرتی ہوں وہ میرے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا اب اس بات کو پانچ سال ہو گئے ہیں کالج کے بعد میں نے اسے بس دو تین بار ہی دیکھا ہے”
اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہہ رہے تھے
“لیکن اسکی محبت روز بہ روز میرے دل میں بڑھتی جا رہی ہے مجھے نہیں پتہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے یا نہیں مگر میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں”
ام عبد الرحمن ابھی تک اسکا ہاتھ تھامے اسے سن رہی تھی
“مجھے پتہ ہے نا محرم سے محبت گناہ ہے مگر میں کیا کروں مجھے اس سے محبت ہے اب تو محبت ہو گئی اب میں کیا کروں “
وہ لڑکی ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی
ارے ارے پہلے رونا بند کرو یہ پانی پیو ام عبد الرحمن نے پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھایا جسے وہ چپ چاپ پینے لگی
“تم نے کہا کہ تم نے اسے کالج کے بعد صرف دو تین بار دیکھا کیا تم اسے موبائل میں سٹاک نہیں کرتی”
ام عبد الرحمن کی بات پر حیا سن رہ گئی غیرارادی طور پر اسکا سر ہاں میں ہل گیا
“دیکھو لڑکی ہمیں کسی کو دیکھتے ساتھ ہی اس سے محبت نہیں ہو جاتی پہلی نظر میں وہ ہمیں صرف اچھا لگتا ہے اگر ہم اس سٹیج پر خود کو نہ روکیں تو پھر ہمارا اسکے آس پاس رہنے کو دل کرتا ہے اسکی باتیں کرنے کو دل کرتا ہے یہ دوسری سٹیج ہوتی ہے۔۔۔ اگر ہم خود کو اب بھی نہ روکیں تو تیسری سٹیج میں ہم اس کے آس پاس رہنا شروع کر دیتے ہیں اسکی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اسے مسلسل سوچنا شروع کر دیتے ہیں اور مسلسل کسی کو سوچنے سے کسی کو دیکھنے سے اور دل کو محبت کرنے پر مجبور کرنے سے ہم اس شخص سے محبت کر بیٹھتے ہیں “
وہ روکی
“دل کو مجبور کیسے کیا جاتا ہے محبت کرنے پہ “
حیا نے حیرانی سے سوال کیا کیونکہ اسکے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا
“ہاں ہم خود دل کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی شخص سے محبت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو ایک ایج پر آ کر یا یہ کہوں کہ ماحول کی وجہ سے ہمارے اندر محبت کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور پھر فلمیں دیکھ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ اگر آپ کسی لڑکے سے ٹکرا گئے ہو تو آپکو اس سے محبت کر لینی چاہیئے یا اگر آپ جوان ہو گئے ہو تو آپکے دل میں کوئی نا کوئی ہونا چاہیئے یہ سب باتیں ہم ماحول سے اڈاپٹ کرتے ہیں اور ان کے مطابق ہی ہمارا عمل ہوتا ہے
کسی سے ہمارا انٹیریکشن ہوگیا تو ہم بجائے خود کو روکنے کے اسے سوچنے لگ جاتے ہیں اسے دیکھنے لگ جاتے ہیں مسلسل اسے سٹاک کرتے ہیں تو دل مجبور ہو جاتا ہے اس سے محبت کرنے پر۔ اس میں سراسر ہماری غلطی ہوتی ہے کیوںکہ ہمیں کچھ غلط ہی نہیں لگتا ہمیں نا محرم کو سوچنا اگر اچھا لگ رہا ہے تو ہمیں لگتا ہے اس میں غلط ہی کیا ہے میں تو صرف اس سے محبت کرتی ہو ، صرف اسے دیکھتی ہی تو ہوں لوگ تو پتہ نہیں کیا کچھ کر جاتے میری محبت پاک ہے“
وہ کچھ لمحوں سانس لینے کو رکی جبکہ حیا پر انکشاف پر انکشاف ہو رہے تھے وہ سفید پڑتی جا رہی تھی اسکی حالت ایسی تھی کہ گویا قیامت کا دن ہو اور فرشتے اسکے گناہ جنکو وہ اچھا سمجھتی رہی ایک ایک کر کے اسکے منہ پر مار رہے ہوں
“لیکن اگر اب محبت ہو ہی گئی ہے تو اسے دل سے نکالنا ہو گا“
وہ ایک سخت کام تھا جو وہ کرنے کو کہہ رہی تھی
“مگر کیا یہ ممکن ہے کیونکہ مجھے نہیں لگتا یہ ممکن ہے میں اسے کبھی نہیں بھول سکتی“
حیا نے آنکھیں بند کر کے کھولیں شاید وہ اپنے آنسو چھپا رہی تھی
“ہاں یہ ممکن ہے اگر ہم اپنے دل کو مجبور کر سکتے ہیں تو ہم اپنے دل کو آزاد بھی تو کر سکتے ہیں”
” اپنے دل کو نامحرم کے خیالات سے آزاد کردو”
“اپنے دل کو ٹوک جو جب جب وہ نا محرم کو سوچے اپنے خیالات کو جھٹک دو اپنے رب کے لیئے ایک نامحرم کی محبت کو حقیر سمجھ کر چھوڑ دو”
“ہاں وقت لگے گا مگر ایمانداری سے نامحرم کو سوچنا چھوڑ دو اسکے خیالات کو جھٹک دو ایک نا ایک دن تمہارا دل آزاد ہو جائے گا کیونکہ تمہارا دل بھی مجبور نہیں رہنا چاہتا جب تم اپنے رب کی رضا کے لیئے اسے چھوڑ دو گی تو تمہارا رب تمہیں بہترین ضرور دے گا اور محبت تو وہ ہوتی ہے جو صرف تین بار قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہنے سے ایک لمحے میں آپکو ایک انجان سے ہو جاتی جب وہ انجان آپکو کچھ لمحوں میں اپنا لگنے لگتا ہے اور اس محبت میں دل آزاد ہوتا ہے اپنی مرضی کا مالک نا کہ دماغ کا غلام”
اسنے اپنی بات ختم کر دی
حیا کو اپنے سوالوں کے جواب مل چکے تھے وہ اب اطمینان میں تھی شاید اس لیئے اپنی استاذہ کو شکریہ کہتی کلاس سے نکل گئی جبکہ اسکی استاذہ کہیں اور ہی گم تھی ماضی کی یادیں چیخیں بن کر اسکے کانوں میں سنائی دے رہی تھیں وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ گئی
اسکی آنکھیں گلابی پڑنے لگیں گلے میں آنسوں روکنے کی وجہ سے درد ہونے لگا تھا مگر اسے اب نہیں رونا تھا اور نہ وہ روئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی
“موم آپ کہاں جا رہی ہیں”
بچے نے اپنی ماں کو تیار ہوتے ہوئے دیکھ کر پوچھا
” میں بیٹا چرچ جا رہی ہوں”
اسنے اپنے بیٹے کو ایک نظر دیکھ کر کہا
“میں بھی چلوں آپکے ساتھ”
بچہ یکدم پر جوش ہو گیا
وہ عورت بچے کی بات سن کر چند لمحوں کو ٹھہر گئی
“نہیں بیٹے آپ اگلی بار چلنا ہمم”
وہ تھوڑا جھکی اور اپنے بیٹے کی گال کو پیار سے سہلاتے ہوئے کہا
“آپ ہمیشہ یہی کہتی ہیں کہ اگلی بار چلنا مگر آپ مجھے لے کر نہیں جاتیں “
بچے نے دھیمی آواز میں شکوہ کیا
” بیٹا دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ابھی وہ کچھ کہہ ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی
“جاؤ تم دیکھوں کون ہے باہر “
اسنے اپنے بچے کو باہر دیکھنے کے لیئے کہا بچہ بھاگتا ہوا کمرے سے نکل گیا
تھوڑی دیر بعد اسے اپنے شوہر کی آواز سنائی دینے لگی جو قریب آتی جا رہی تھی
وہ بھی اپنی تیاری چھوڑ کر باہر کی طرف بڑھ گئی
“اسلام علیکم “
شوہر نے اسے سلام کیا
“وعلیکم السلام کیسے ہیں آپ”
اسنے میز پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی ڈال کر اپنے شوہر کو دیتے ہوئے کہا اور ایک نظر اپنے خفا سے بیٹے کو بھی دیکھ لیا جو اپنے باپ کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا
“میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو”
وہ نرمی سے اپنی بیوی کو دیکھ کر پوچھ رہے تھے
“جی میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار آپ بہت دنوں بعد آئے” اسنے اپنے شوہر کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا اور تینوں لاونج کے صوفوں پر آ بیٹھے
“ہاں وہ مورے ( ماں ) کی طبعیت نہیں ٹھیک اسی وجہ سے انکے پاس رک گیا تھا”
اس شخص نے اپنے بیٹے کو اپنی گود میں بٹھا لیا
“کیا ہوا انہیں” ؟
وہ عورت اپنی ساس کے بارے میں سن کر پریشان نظر آئی
” وہ ۔۔۔۔۔۔”
“ڈیڈ دیکھیں موم مجھے چرچ نہیں لے جا رہیں”
باپ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ بچے نے اپنا شکوہ کر دیا
بچے کی بات سن کر دونوں میاں بیوی کی نظریں ملیں
مگر پھر وہ شخص اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہو گیا
“کیوں نہیں لے جا رہیں آپکو موم چرچ آج آپ بھی چرچ جاؤ گے اور میں بھی چرچ جاؤں گا جاؤ جلدی سے شوز پہن کر آؤ” انہوں نے پرجوش ہوکر کہا
بچہ خوشی سے اندر کی طرف دوڑ گیا
بیوی نے شکوہ بھری نگاہ اپنے شوہر پر ڈالی
شوہر بس ہلکا سا مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دلاور ایسا کیوں کیا آپ نے”
“میں نے کیا کیا”؟
دلاور نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا مگر دونوں کی نظریں اپنے بیٹے پر تھیں جو دور کھڑا موم بتیاں جلا رہا تھا اور وہ دونوں چرچ کے بینچز پر بیٹھے تھے
“آپ جانتے ہیں میں کیا کہہ رہی ہوں”
اس نے ایک شکوہ بھری نگاہ اپنے شوہر پر ڈالی اور پھر دوبارہ اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی
“میں نہیں چاہتی کہ ہمارا بیٹا کنفیوز ہو کر رہ جائے”
اسنے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کی ظاہری طور پر وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی
“تم کب تک اس سے یہ بات چھپا لو گی کہ اسکا باپ مسلمان ہے اور اسکی ماں ایک عیسائی تم نہیں چھپا سکتی”
انہوں نے صاف گوئی سے کام لیا ایک نظر اپنی بیوی کو دیکھ کر پھر وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے
“میں چھپا نہیں رہی میں بس ابھی اسے اس کنفیوژن کا شکار نہیں کرنا چاہتی ابھی وہ یہ سب سمجھنے کے لیئے بہت چھوٹا ہے میں پہلے ہی اسکے سوالوں سے تنگ ہوں”
وہ باقائدہ اب رونے لگی تھی
“دیکھو مریم جب تم اسے اس قدر یہاں آنے سے روکتی ہو تو وہ تم سے سوال کرتا ہے اس سے مت چھپاؤ کچھ بھی جو وہ پوچھے اسے بتا دو اب اسے یہ سب سمجھ لینا چاہیئے”
وہ اپنی بیوی کی طرف پوری طرح متوجہ تھے
“اگر ہم اس سے یہ سب چھپانے کی کوشش کریں گے تو وہ مزید کنفیوز ہوگا”
انہوں نے اپنی بیوی کو سمجھانا چاہا
“ہممم آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں شاید”
مریم کو اپنے شوہر کی بات ٹھیک لگی اسے اپنے بیٹے سے کچھ نہیں چھپانا چاہیئے
“باران خیال سے بیٹا اپنا ہاتھ مت جلا لینا’
دلاور نے تھوڑا اونچی آواز میں اپنے بیٹے کو مخاطب کیا
وہ دونوں اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے جو بہت خوشی سے بہت سی موم بتیاں جلا چکا تھا اور ابھی بھی موم بتیاں جلا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رابیل بیٹا بات سنو ذرا”
وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب تائی جان نے اسے کچن سے آواز دی
“جی تائی جان کیا ہوا”
وہ خوش دلی سے انکی طرف بڑھی
“ادھر آؤ اور کچھ کچن کے کام بھی سیکھو شادی کے بعد تمہارے نخرے کون اٹھائے گا بھلا”
تائی جان نے نروٹھے پن سے کہا
“ارے تائی جان فکر کیوں کر رہی ہیں میں تو کھانا آرڈر کر کے کھا لیا کروں گی اور اپنی ساس اور شوہر کو بھی کھلا لوں گی آج کل کون گھر میں کھانا پکاتا ہے آپکے علاوہ”
اسنے پیچھے سے آکر تائی جان کے کندھے پر تھوڑی جماتے ہوئے کہا
“ارے یہ کیا بات ہوئی بھلا ایسا بھی ہوتا ہے”
تائی جان کو تو مانو صدمہ ہو گیا ہو اس کی بات سن کر
“جی تائی جان ایسا ہی ہوتا ہے آپکو کیا پتہ دنیا کتنی بدل گئی ہے آج کل کوئی گھر میں کھانا نہیں بناتا سب باہر سے منگواتے ہیں”
رابیل نے دانین کو جو اپنے ہی دھیان میں کچن میں داخل ہو رہی تھی آنکھوں کے اشارے سے کچھ کہا اور تائی جان کو مزید چھیڑنے لگی دانین بھی فریج سے پانی کی بوتل نکال کر شیلف پر بیٹھ کر پینے لگی اسےبھی یہ سین انجوائے کرنا تھا
“ہٹو لڑکی یہ کیا بات ہوئی باہر سے منگوا کر کھا بھی لوں گی اور کھلا بھی لوں گی”
انہوں نے اسے خود سے پیچھے کیا جو ہنسی دباتے ہوئے اب شیلف پر بیٹھ رہی تھی
“جب سسرال جاؤ گی تو پتہ چلے گا کیسے باہر سے منگوا کر کھاؤ گی اور کھلاؤ گی”
انہوں نے سالن میں زور سے چمچا ہلایا مانو ساری غلطی سالن کی ہو
“نہیں امی سچ میں ایسا ہی ہوتا ہے”
دانین نے رابیل کی حمایت کرنی چاہی
“اچھا کھانا باہر سے آئے گا مگرگھر کے کام کون دیکھے گا سارے کام ملازموں پر تو نہیں چھوڑے جا سکتے”
تائی جان نے ایک بار پھر زور سے سالن میں چمچا ہلایا
“جی آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں تائی جان سارے کام ملازموں پر تو نہیں چھوڑے جا سکتے ۔۔۔۔۔۔۔ تو میری ساس ہو گی نا وہاں پر وہ دیکھ لیں گی کچھ کام اور باقی کام انکا بیٹا دیکھ لے گا”
رابیل نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جیسے یہ تو کوئی بڑی بات ہی نہیں ہے
“توبہ توبہ ساس اور شوہر سے کام کرواؤ گی تم”
تائی جان نے کانوں کو ہاتھ لگائے
“ہمارے گھر کی بچیاں تو پوری بگڑ گئیں ہیں اللّٰہ پناہ دے ہمیں بھی اور جن کے گھر یہ جائیں گی انکو بھی”
طائی جان نے باقائدہ کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا
رابیل اور دانین کا تو ہنسی کنٹرول کرتے کرتے پیٹ درد کرنے لگ گیا تھا
“مجھے نہیں پتہ کل صبح ناشتے کے وقت مجھے تم دونوں یہاں کچن میں چاہیئے ہو”
تائی جان نے اٹل لحجے میں کہا
“توبہ ہے ان لڑکیوں سے انکے موبائل چھیننے چاہیئے مجھے۔۔۔۔۔۔ بگڑ گئیں ہیں لڑکیاں”
طائی جان چولہا آہستہ کرتے دونوں بگڑی ہوئی لڑکیوں کو کچن میں چھوڑ کر توبہ توبہ کرتی نکل گئیں انکے پیچھے کچن میں ہنسی اور قہقہوں کا ایک طوفان امنڈ آیا تھا
رابیل اور دانین کی انکھوں میں تو ہنستے ہنستے آنسو ہی آگئے ۔۔۔۔۔۔اف یہ بگڑی ہوئی لڑکیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم کون ہو اور مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو “
ایک درمیانی عمر کے آدمی نے اس سیاہ پی کیپ اور سیاہ ماسک سے چہرہ چھائے ہوئے شخص سے پوچھا
یہ منظر لاہور کے ایک انتہائی سنسان علاقے کا تھا جہاں بیچ سڑک پر ایک آدمی نے دوسرے کا راستہ روک رکھا تھا اور دوسرا آدمی بہت زیادہ ڈرا ہوا لگ رہا تھا کیونکہ وہ اپنے سامنے موجود اس آدمی کو سفید رومال سے سیاہ ریوالور صاف کرتا ہوا دیکھ سکتا تھا
رات کی تاریکی منظر کو دھندلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر یکدم بجلی کی کڑک نے دونوں آدمیوں کو واضح کر دیا
“کلمہ پڑھو”
رومال جیب میں رکھ کر اسنے لمبا ہاتھ کر کے سامنے والے پر نشانہ باندھ لیا
جبکہ سامنے موجود شخص اب خوف سے کانپنے لگا تھا خود ہی اس آدمی کے ہاتھ کندھوں تک بلند ہو گئے تھے
“دیکھو تمہیں جتنا پیسہ چاہیئے میں دینے کو تیار ہوں مگر مجھے مت مارو”
وہ آدمی دو قدم پیچھے ہوا
خان دو قدم آگے بڑھا
“کتنے دے سکتے ہو”
آواز میں سختی لیئے اسکے الفاظ ماحول کو گھٹن زدہ کر گئے
“دوسری پارٹی نے مجھے تین کروڑ دیئے تمہیں مارنے کے لیئے تم کتنے دے سکتے ہو”
ایک زور دار گرج کے ساتھ بوندا باندی شروع ہو گئی
“میں تمہیں ڈبل قیمت دونگا میں تمہیں چھ کروڑ روپے دونگا بس مجھے مت مارو”
اس آدمی نے کندھوں تک بلند ہاتھ اب نیچے کر لیئے اسکا خوف شاید کچھ کم ہوا تھا
مگر ریوالور سے نشانہ باندھے دوسرے آدمی کا ہاتھ اب تک ہوا میں معلق تھا
“اس وقت اگر میں تم سے سو کروڑ بھی مانگو تو تم مجھے وہ بھی دینے کا دعویٰ کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہاں سے جاتے ہی ایک گروپ ہائر کروگے مجھے مروانے کے لیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تم بزنسمینز کو تم سے زیادہ جانتا ہوں “
بارش اب آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی
“نہیں مجھ پر یقین کرو میں تمہیں تمہارے پیسے یہیں آ کر دے جاتا ہوں مجھے ایک گھنٹے کا وقت دو بس”
وہ دونوں آدمی بھیگ چکے تھے
“چلو تم پر یقین کر لیتے ہیں”
خان نے ریوالور والا ہاتھ نیچے کر لیا
“جاؤ لے کر آؤ جاؤ شاباش”
بارش اب بہت تیز ہو گئی تھی
بجلی کی کڑک نے منظر واضح کیا تو ایک آدمی اب منظر سے غائب ہو رہا تھا وہ اپنی جان بچانے کے لیئے بھاگنے لگا یہ اسے بھی پتہ تھا کہ وہ اب یہاں دوبارہ نہیں آئے گا اور یہاں سے جاتے ہی وہ اپنی حفاظت کے انتظامات کر لے گا اور اس آدمی کا بھی پتہ لگا کر اسے بھی مروا دے
تارکول کی گیلی سڑک پر وہ بھاگ رہا تھا
خان بہت پیچھے رہ گیا
بھاگتے آدمی کو یقین تھا کہ وہ بچ گیا ہے اسکے رفتار میں اور تیزی اگئی
مگر تھوڑی دور جاتے ہی اسکے بھاگتے قدم تھم گئے
لیکن کیوں؟
ایسی کونسی شے تھی جس نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا
تارکول کی سڑک پر دیکھو تو بارش کا پانی بہہ رہا تھا مگر اس پانی کا رنگ لال تھا اور وہ رنگ مزید گہرا ہوتا جا رہا تھا
آہستہ آہستہ اس شخص کے قدموں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا جاتا تو علم ہوتا کے اس کے ماتھے پر ایک سراخ ہو چکا ہے جس سے خون ابل کر بارش کے پانی کو میلا کر رہا تھا
وہ سراخ گولی لگنے کی وجہ سے ہوا تھا جو پیچھے سے ماری گئی تھی اور گولی سر کے آر پار ہو گئی تھی یقیناً گن کی پاور بہت زیادہ تھی
وہ آدمی گولی لگنے کی وجہ سے سینے کے بل سڑک پر ڈھے گیا جبکہ اسکی آنکھیں کھلی رہ گئیں
تھوڑی دور پیچھے کی طرف آؤ تو بجلی کی کڑک نے منظر کو واضح کیا خان کا گولی چلانے والا ہاتھ ابھی تک ہوا میں معلق تھا اور ریوالور سے دھواں اٹھ رہا تھا ارد گرد بارود کی گند پھیل چکی تھی
اسنے صرف موت کا کھیل کھیلا تھا اسے پیسوں سے کوئی غرض نہیں تھی وہ بس اسے ایک امید دے کر اس امید کو توڑنا چاہتا تھا نا جانے کیا تسکین ملتی تھی اسے یہ کر کے
کچھ دیر وہ ایسے ہی کھڑا رہا اور پھر رویوالور کو جینز کی پچھلی طرف آڑھتے ہوئے مخالف سمت میں چلنے لگا
وہ مضبوطی سے مگر آہستہ اہستہ تیز برستی بارش میں تارکول کی سڑک پر آگے بڑھتا گیا اور اندھیرے میں عنقا ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“موم ڈیڈ کب آئیں گے” ؟
نو سال کے بچے نے بستر پر بے بس پڑی ماں سے پوچھا
“بیٹا تم پریشان مت ہو وہ آ جائیں گے”
ماں نے خشک ہونٹوں کو اپنی زبان سے تر کرتے ہوئے کہا
اسنے ایک نظر اپنے نوسال کے بیٹے کو دیکھا جو پریشان نظر آ رہا تھا پھر اپنی نظریں موبائل کی سیاہ اسکرین کی طرف بڑھائیں جو میز پر رکھا تھا
بیٹا !
” موم کیا ہوا بتائیے کچھ چاہیئے آپکو”
وہ اپنی ماں کے بلانے پر یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنی ماں کے قریب پہنچ گیا
“بیٹا اپنے ڈیڈ کو دوبارہ کال کرو ان سے کہو موم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ جلدی آ جائیں”
ماں نے شدید درد کی وجہ سے آنکھیں زور سے بند کر رکھی تھیں
“جی موم میں ابھی کال کرتا ہوں” نو سال کے بچے نے اچک کر میز پر رکھا موبائل اٹھایا اور اسکی سیاہ اسکرین کو روشن کر کے جگہ جگہ مہارت سے کلک کرنے لگا پھر اسنے موبائل کان سے لگا لیا
“موم ڈیڈ کا موبائل بند ہے اس وقت” اسنے بے بسی سے موبائل کان سے ہٹا کر اپنی ماں کو دیکھا
“تم کوشش کرتے رہو بیٹا “
ماں نے ایک بار پھر آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں
“موم آپکو درد ہو رہا ہے”
اسنے اپنی ماں کے چہرے کو دیکھنے کے بعد اپنی ماں کے بڑھے ہوئے پیٹ کی طرف دیکھا
“نہیں میری جان درد نہیں ہورہا مجھے آپ بس ڈیڈ کو کال کرو”
ماں نے خود کو سنبھالنا چاہا مگر ناکام رہی
اس وقت ایک حاملہ عورت اور اسکا نو سال کا بیٹا اپنے گھرمیں موجود تھے اور عورت کی طبیعت بہت زیادہ خراب معلوم ہوتی تھی اور وہ مسلسل اپنے بیٹے سے اپنے شوہر کو کال ملانے کا کہہ رہی تھی بیٹا بار بار کال کرتا پھر کچھ دیر بعد تھک کر اپنی ماں کو بے بسی سے دیکھنے لگتا کیونکہ دوسری طرف کا موبائل ابھی تک بند تھا
اسنے ایک بار پھر اپنی ماں کے کہنے پر اپنے باپ کو کال ملائی مگر اس بار بھی مایوسی ہی ہاتھ لگی
بیٹا جلدی کرو جوتا پہنو شاباش
اپنی ماں کی آواز پر وہ موبائل سے دھیان ہٹا کر اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوا
جھی موم وہ جلدی سے جوتا پہننے کے لیئے بھاگا قریب ہی اسکے جوتے رکھے تھے وہ جلدی سے انہیں پہننے لگا اور پھر بھاگ کر اپنی ماں کے جوتے سیدھے کرنے لگا تاکہ وہ آسانی سے پہن لیں
نا جانے کتنی مشکل سے کتنی تکلیف برداشت کر کے وہ بستر سے اٹھی اور اپنے بچے کا ہاتھ تھام کر گھر سے باہر نکلنے لگی
ماں خود کو سنبھالنا چاہتی تھی وہ مضبوط مضبوط قدم اٹھاتی گھر سے باہر نکل آئی گھر سے کچھ دور ہی مین سڑک تھی اسے یقین تھا اسے وہاں سے مدد ضرور مل جائے گی وہ آہستہ آہستہ اپنے بیٹے کا ہاتھ تھام کر چلتی رہی مگر اسکے بیٹے کے قدم مضبوط نہیں تھے وہ نوسال کا بچہ مانو ایک دو سال کا بچہ ہو جسے ٹھیک سے چلنا ہی نہ آتا ہو شاید اس بچے نے بہت کم عمر میں محسوس کر لیا تھا کہ پاؤں کانپنا کیا ہوتا ہے زمین پاؤں سے کس طرح نکل جاتی ہے وہ بے جان وجود لے کر اپنی ماں کے ساتھ چلتا رہا
اسے ہوش تب آیا جب اسکی ماں مزید آہستہ چلنے لگی
اسکی ماں کی ہمت جواب دے رہی تھی مگر اسے ہمت کرنی تھی اسے اپنی ماں کو ہسپتال پہچانا تھا وہ آگے بڑھا اپنی ماں کے ہاتھ کو مزید مضبوطی سے پکڑ کر اس سے ایک قدم آگے ہو کراس نے اپنی ماں کو پوری جان سے کھینچا
موم پلیز ہمت کریں ہمیں جلدی پہنچنا ہے چلیں اس نے اپنی ماں کو کھینچتے ہوئے کہا مگر اسکی ماں کی رفتار مزید آہستہ ہوتی گئی اور آہستہ اور آہستہ یہاں تک کے وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی اسکی آنکھوں کے سامنے اسکا بچہ اسے کھنچنے کی کوشش کرتا رہا چیختا رہا چلاتا رہا مگر اسکا دماغ سن ہوتا گیا اسے اپنے بچے کی آواز کم سنائی دینے لگی منظر دھندلانے لگا اسنے اپنے وجود کو بے جان اس سڑک پر گرتے ہوئے محسوس کیا اور پھر اسکا دماغ سن ہو گیا
اس رات وہ بچہ اپنی ماں کو اٹھانے کی کوشش کرتا رہا مدد کے لیئے اس سڑک پر دوڑتا رہا مگر شاید آج خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا اس سنسان سڑک پر کوئی اس بچے کی مدد کرنے والا نہیں تھا وہ بچہ تھوڑی دور مدد کےلیئے دوڑتا مگر پھر واپس لوٹ آتا وہ اپنی ماں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اس آسمان نے ایک بار ایک ماں کو اپنے بچے کے لیئے دوڑتے دیکھا تھا آج وہ ایک بچے کو ماں کے لیئے دوڑتا دیکھ رہا تھا وہ کئی بار دوڑا ایسا کئی بار ہوا مگر آخر وہ تھک گیا وہ ہارکر وہیں زمین پر بیٹھ گیا اپنی ماں کے ٹھنڈے پڑتے وجود سے لپٹ کر وہ صرف رو ہی سکتا تھا اور اس نے وہی کیا
وہ یکدم اٹھ بیٹھا اس نے آج پھر وہی منظر خواب میں دیکھا جسے بھولنے کی کوشش وہ ہر وقت کرتا رہتا تھا مگر کبھی ایسے خوابوں نے اسے وہ منظر بھولنے نہیں دیا
اسنے نظر گھما کر صوفے کی طرف دیکھا جہاں اسکی بیوی سو رہی تھی نا جانے کیوں آج اسکی بیوی اپنا بیڈ چھوڑ کر صوفے پر سوئی شاید وہ چاہتی تھی کہ میں آرامدہ ہو کر سو جاؤں یا کچھ اور آہ وہ ابھی اسے نہیں سمجھ سکا تھا
سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اسے اس اندھیرے سے کوفت ہوئی تو اسنے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ روشن کر دیا یکدم اسکا چہرا واضح ہو گیا اسکا چہرا پسینے سے تر تھا وہ کچھ دیر خالی خالی نظروں سے اس روشن لیمپ کو دیکھتا رہا پھر بیڈ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا اسے اس وقت اپنی ماں کی شدت سے یاد آئی کاش وہ اس وقت اپنی ماں کو بچا سکتا مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اس نے سرد آہ بھری پھر بس سردار باران خان نے ایک اور رات اپنی ماں کو یاد کرتے گزار دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ثوابیہ آپی”
وہ جو ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی اتنا اونچا اپنا نام پکارے جانے پر ایک دم ڈر کے اچھلی ۔۔
“یا اللہ”
ایک دم اس کے ہونٹوں پر آیا
رابیل کیچن سے باہر آئی جب اسے سامنے سےثوابیہ آتی نظر آ گئی وہ بھاگ کر باہیں پھیلائے اس تک پہنچی
“رابیل ۔۔۔۔۔۔۔ کب بڑی ہو گی تم “
ثوابیہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے شکوہ کیا
“کبھی نہیں”
اس نے دانتوں کی نمائش کی اور ثوابیہ صرف سر جھٹک کر رہ گئی
“اسلام علیکم”
دانین بھی رابیل کی چیخ سن کر باہر آگئی تھی اور ثوابیہ سے ملنے لگی
“وعلیکم السلام”
دانین اسے بھی کچھ سمجھا دو میری بات تو نہیں سنتی”
اس نے رابیل کے سر پر چت لگاتے ہوئے کہا
“اچھا آپ یہ چھوڑیں یہ بتائیں بھائی کیوں نہیں آئے”
رابیل دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی
“نہیں انہیں آفس میں کوئی کام تھا تو اسی لئے مجھے یہاں چھوڑ کر آگے چلے گئے”
وہ تینوں لاؤنج میں موجود صوفوں کی طرف بڑھنے لگیں
” تائی جان کہاں ہیں”
ثوابیہ نے دانین سے پوچھا جو اب صوفے پر بیٹھ رہی تھی
“امی اور ابو دونوں بازار گئے ہیں اور چچا جان آفس”
دانین نے وضاحت دی
“ہممم ابو سے بات ہوئی تھی میری انہوں نے کہا تھا وہ جلدی آجائیں گے”
ثوابیہ نے صوفے پر رکھا کشن اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا
“اچھا چلو اوپر کمرے میں چلتے ہیں”
رابیل نے ثوابیہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اٹھانا چاہا
“چلو”
وہ بھی ہار مانتے ہوئے اٹھی اسے پتا تھا اب وہ اسے اندر لے جا کر ہی دم لے گی
“اچھا آپ دونوں چلومیں ثوابیہ آپی کے لیے کچھ لے کر آتی ہوں”
دانین یہ کہتی کچن کی طرف چل دی جبکہ رابیل اور ثوابیہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں چڑھنے لگیں
“کیا ہوا آپی آپ اداس لگ رہی ہیں”
ثوابیہ جب سے آئی تھی رابیل اسے نوٹ کر رہی تھی وہ کچھ اداس تھی
“نہیں میں ٹھیک ہوں”
ثوابیہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھایا
“آپی مجھے پتا نہیں کیوں لگ رہا ہے کہ آپ کچھ چھپا رہی ہیں”
وہ اپنی آنکھیں چھوٹی کیے تفتیشی انداز میں اسکا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اس کے چہرے پر ساری بات اسے لکھی ہوئی نظر آجائے گی۔۔
“مجھے بتائیں بھائی کا رویہ تو ٹھیک ہے آپ کے ساتھ کچھ چھپایئے گا مت”
وہ اپنی شہادت کی انگلی اس کی طرف اٹھائے اسے وارن کر رہی تھی
“ارے رابیل ایسی کوئی بات نہیں ہے”
ثوابیہ نے اپنے ماتھے پر اپنا ہاتھ مارا گویا وہ کیا کرے اس پاگل کا
“تو کیا بات ہے”
رابیل نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے
“وہ پرسوہم ترکی جارہے ہم وہاں شفٹ ہو رہے ہیں “
اسنے آنکھیں بند کیے جلدی سے یہ جملہ ادا کیا
کیونکہ اسے پتا تھا رابیل کیسا ری ایکٹ کرے گی ۔
“کیا۔۔۔۔۔”
رابیل ایک دم بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
رابیل انکا بزنس۔۔۔۔۔۔ “
“کیا مطلب بزنس”
ثوبیہ نے اسے سمجھانا چاہامگر رابیل نے اسکی بات کاٹ دی
“تم نے کہا تھا تم نہیں جاؤ گی”
وہ بات کرتے کرتے آپ سے تم پر آگئی تھی اور ثوابیہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ ناراض ہو گئی ہے
“ارے چند مہینوں کی بات ہے پھر ہم پاکستان شفٹ ہو جائیں گے” ۔۔
اس نے پھر وضاحت دی اور وہ کیوں نا دیتی وضاحت اسے پتا تھا رابیل اسے اپنی ماں کی جگہ سمجھتی ہے اور اسکے بغیر نہیں رہ سکتی اسکی شادی کے لیے بھی اسی لیے مانی تھی کیونکہ اس کا سسرال یہیں پاس میں ہی تھا مگر اب تو وہ دور جا رہی تھی
“جاؤ چلی جاؤ کبھی مت آنا۔۔۔”
رابیل سخت ناراض ہو چکی تھی “ادھر آؤ میری بات سنو”۔۔
ثوابیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے سینے سے لگایا
“میں بھی نہیں جانا چاہتی مگرایک عورت کو اپنا گھر خود سنبھالنا ہوتا ہے میں نہیں سنبھالوں گی تو کون سنبھالے گا اور میں فون پر بات کرو گی نا تم سے دن میں چار چار بار ٹھیک ہے” ۔۔
اسنے روتے روتے اسے سمجھانا چاہا
“مگر۔۔”
رابیل اب بھی مطمعن نہیں ہوئی تھی
“رابیل دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔”
ثوابیہ کچھ کہتی کہ
دروازہ نوک ہوا اور حسن صاحب اندر داخل ہوئے
“بابا دیکھیں نا آ پی”
رابیل بھاگ کر اپنے بابا سے ثوابیہ کی شکایت لگانے لگی کہ اگر وہ ایسے اپنے بابا کو اسکے جانے کا بتائے گی تو وہ اسے روک لیں گے
“مجھے پتا ہے” حسن صاحب نے رابیل کو اپنے سینے سے لگایا
“کیا آپ کو بھی پتا تھا صرف مجھے نہیں پتا تھا “
اتنے میں دانین کمرے میں داخل ہوئی
“میں اور دانین آپ کو نہیں جانے دیں گے کیوں دانین”
رابیل نے دانین کے طرف دیکھا جبکہ دانین نظریں چرا گئی
“دانین “
رابیل نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا
“میں جا رہی ہوں کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا
میں کسی سے بات نہیں کروں گی”
وہ بھاگ کر کمرے سے باہر نکل گئی “رابیل رکو “
ثوابیہ بھی اس کے پیچھے جانے لگی جب حسن صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کو کہا
“میں اسے سنمبھال لوں گا تم فکر مت کرو”۔۔۔۔
“مگر بابا”
“میں کہہ رہا ہو نا ۔۔”
“اچھا یہ کھاؤ کباب دانین اتنے پیار سے بنا کر لائی ہے”
حسن صاحب نے آگے بڑھ کر کباب والی پلیٹ اسکے سامنے کی اور ایک کباب اٹھا کر خود اسے اپنے ہاتھ سے کھیلا نے لگے
حسن صاحب کو یقین تھا وہ رابیل کو منا لیں گے اور ویسے بھی وہ اپنی بہن اور اپنے باپ سے زیادہ دیر تک ناراض کہاں رہ سکتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا دن
“اسلام علیکم” !
جہانزیب گھر میں داخل ہوا تو صدف بیگم سامنے ہی بیٹھی تھیں
“وعلیکم اسلام” !
صدف بیگم نے جہانزیب کے ساتھ کھڑی لڑکی کو سر سے پاؤں تک دیکھا
“امی یہ سلینہ ہے”
جہانزیب نے سلینہ کو ایک نظر دیکھ کر اپنی ماں کو دیکھا
“اچھا اچھا
تم لڑکی اپنے گھر میں بتا کر آئی ہو کہ یہاں آ رہی ہو”
صدف بیگم نے اس لڑکی کو سر سے پاؤں تک پھر دیکھا جو اپنے سر پر دوپٹا ٹکانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی شاید اسنے پہلی دفعہ سر پر دوپٹہ لیا تھا پر ماننا پڑے گا سلینہ تھی بہت خوبصورت دودھیا رنگت پر نیلی انکھیں تو غضب ڈھاتی ہی تھیں مزید اسکے بھورے کمر تک آتے بالوں نے قصر پوری کر دی تھی اگر جہانزیب اس سے بے انتہا محبت کرے تو اس میں جہانزیب کا قصور نہیں تھا ( رابیل سے جتنی ہمدردی ہو مگر یہاں میں جہانزیب کی طرف داری کروں گی )
“امی پلیز” !
جہانزیب نے اپنی ماں کو ایسے سوال کرنے سے روکنا چاہا مگر صدف بیگم اسے کہاں دیکھ رہی تھیں
“ج ۔۔۔۔۔۔ جی آنٹی میں بت۔۔بتا کر آئی ہوں”
سلینہ نے صدف بیگم کو دیکھا پھر جہانزیب کو منت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی کہ پلیز میری مدد کرو
“امی آپکو پتہ ہے سلینہ نے خاص طورپر آپسے ملنے کی ضد کی اسے بہت شوق تھا آپسے ملنے کا”
جہانزیب نے سلینہ کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گیا
سلینہ جہانزیب کے ساتھ ہی صوفے پر ٹک گئی جبکہ دوپٹہ سر پر ٹکانے کی محنت اب وہ چھوڑ چکی تھی
“اور پتہ ہے امی اج خاص طور پر اسنے آپکی پسند کا ڈریس پہنا ہے آپکو پسند ہے نا پاکستانی لباس اسی لیئے”
جہانزیب فوراً سلینہ کی مدد کرنے کو میدان میں آگیا تھا
“تمہیں ڈر نہیں لگا”؟
صدف بیگم جہانزیب کی بات کو انسنا کر گئیں اور سلینہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کس بات کا ڈر” ؟
سلینہ کے بجائے جہانزیب نے سوال کیا
“یہی کہ ایک انجان شہر میں ایک لڑکے کے بلانے پر آگئی۔۔۔۔۔ ڈرنا تو چاہیئے یا اسے کسی بات کا ڈر نہیں لگتا”
صدف بیگم مسلسل سلینہ کو دیکھ رہی تھی
“جی آنٹی ڈر لگتا ہے مجھے مگر کیا کرو میں آپکے بیٹے سے محبت کرتی ہوں اور اسے کھونے سے مجھے بہت زیادہ ڈر لگتا ہے اسی لیئے مجھے یہاں آنا پڑا”
جہانزیب ایک بار پھر اپنی امی کو روکنے کے لیئے کچھ بولنے لگا تھا کہ سلینہ نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا
“اپنی عزت کھونے سے نہیں ڈرتی” ؟
صدف بیگم نے اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ رکھی تھیں اور اب سلینہ بھی انہیں کے انداز میں انہیں دیکھ رہی تھی دونوں ہی پلکیں جھپکانے سے گریز کر رہیں تھیں جیسے ایک جنگ چل رہی ہو کہ جس نے پہلے پلک جھپکی وہ ہار گیا اور ان دونوں میں سے کوئی بھی ہارنا نہیں چاہتا تھا
“ڈرتی ہوں اپنی عزت کھونے سے اسی لیئے سوچ سمجھ کر دوست بناتی ہوں مگر جب ایک بار کسی کو اپنا مان لیتی ہوں پھر اسکی عزت کا بھی خیال کرتی ہوں اگر آج میں یہاں نہ آتی تو شاید جہانزیب آپکی نظر میں شرمندہ ہو جاتا اور میں ایسا نہیں ہونے دے سکتی تھی”
سلینہ نے ابھی تک جہانزیب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا اور اپنی بات مکمل کرتے اسنے جہانزیب کے ہاتھ پر زور دیا جہانزیب نے بھی اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر کے اسے اپنے ساتھ کا یقین دلایا
“امی پلیز باتیں بعد میں ہوتی رہیں گی ابھی سلینہ تھک گئی ہے اسے آرام کرنا چاہیئے”
جہانزیب نے اپنی ماں کے آگے منت کی
“چلو سلینہ میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھاؤں”
اسکے کہنے پر وہ دونوں ایک ساتھ ہی اپنی جگہ سے اٹھے
“آنٹی آپسے مل کر خوشی ہوئی”
سلینہ نے جاتے جاتے صدف بیگم سے کہا
جس پر صدف بیگم ہلکا سا رسمی مسکرائیں
پھر جہانزیب سلینہ کا ہاتھ تھامے وہاں سے چلا گیا جبکہ صدف بیگم وہیں بیٹھی رہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کمرہ تو کسی کے استعمال میں ہے تم مجھے یہ کمرہ کیوں دے رہے ہو تمہارے گھر میں اور کمرے نہیں ہیں”
وہ دونوں ایک ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے جب سلینہ نے کمرے کی تھوڑی بکھری حالت پرغور کرتے ہوئے کہا اسکے لحجے میں تھوڑی بہت شرارت سی تھی جہانزیب جانتا تھا وہ ان دونوں کو کچھ دیر پہلے ہوئی باتوں کے اثر سے نکالنا چاہتی ہے
“ہاں بلکل یہ کمرہ کسی کے استعمال میں ہے مگر آج اور ابھی سے یہ کمرہ ہمیشہ کے لیئے تمہارا ہوا”
جہانزیب قدم قدم چلتا آگے بڑھا سلینہ پیچھے رہ گئی وہ غور سے اس کمرے کے ہر کونے کو دیکھ کر کہہ رہا تھا جیسے وہ بھی اس کمرے کو پہلی دفعہ ہی دیکھ رہا ہو اور پھر ہونٹوں پر ایک جاندار مسکراہٹ سجائے وہ پیچھے مڑا اور اسنے یہ کمرہ سلینہ کے نام کردیا
“یہ تمہارا کمرہ ہے “؟
سلینہ نے ایک ابرو تھوڑا بلند کرتے ہوئے پوچھا لحجے میں شرارت برقرار تھی
جہانزیب کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی
“اچھا جی اسی لیئے اتنی بڑی بڑی باتیں کی جا رہی ہیں”
وہ کچھ پل کو کمرے کا جائزہ لینے کو رکی
” تم تو بہت کہتے تھے کہ مجھے صفائی بہت پسند ہے یہ کمرے کی حالت دیکھو لگتا ہے ابھی یہاں پر تیسری جنگ عظیم ہوئی ہے ” وہ ناک چڑھاتے ہوئے بولی
“تیسری جنگ عظیم کا تو نہیں پتہ محترمہ ہاں مگر یہاں پر جو لڑکا رہتا ہے وہ کسی کے پیار میں پاگل ہے بیچارہ ۔۔۔۔۔ اب کسی پاگل کا کمرہ تو ایسا ہی ہو گا نا”
جہانزیب نے نہایت افسوس سے جملے ادا کیئے جیسے اسے اس بیچارے پاگل پر بہت ترس آ رہا ہو
“اوووووو”
او کو لمبا کھنجا گیا “فکر نہ کرو میں اس پاگل کو بلکل ٹھیک کر دوں گی”
سلینہ نے اکڑتے ہوئے کہا جیسے دو چار پاگل تو وہ روز چلتے پھرتے ٹھیک کر دیتی ہے
“جلدی ٹھیک کر دو سب”
جہانزیب تھوڑا سنجیدہ ہوا
“کہا ہے نا سب ٹھیک کر دوں گی تو یقین کرو مجھ پر”
سلینہ اپنی بات پر قائم تھی
“اچھا اب میں چلتا ہوا تمہارا کھانا میں بھجوا رہا ہوں کھا کر ریسٹ کر لینا ہمم”
جہانزیب اسے ہدایت دیتا دروازے کی طرف بڑھ گیا
“جہانزیب”!
ہمم!
سلینہ کے بلانے پر وہ پلٹا
“میں اپنے گھر میں کسی کو یہ بتا کر نہیں آئی کہ میں یہاں آ رہی ہوں۔۔۔۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ کچھ دنوں کے لیئے دوستوں کے ساتھ نورتھ جا رہی ہوں”
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی
“ہممم ٹھیک ہے “
جہانزیب اسے سر کے اشارے سے تسلی دیتا ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کمرے سے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی
(هغي مړه شوه)
“وہ مر گئی”
دلاور خان اپنے باپ مراد خان کے سامنے کھڑے تھے نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں ان کے ساتھ ایک نو سال کا بچہ کھڑا تھا جو مسلسل اپنے باپ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا تھا اس وقت دلاور خان اپنے باپ اور بیٹے کے ساتھ خان حویلی میں موجود تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خان حویلی میں صرف وہی تین لوگ موجود ہیں اور کوئی انسان تو کیا چرند پرند بھی وہاں نہیں ہے شاید وہاں رہنے والوں کو خاص طور پر منظر سے غائب رہنے کی ہدایت دی گئی تھی مراد خان لاونج کے وسط میں نہایت خوبصورت صوفے پر موجود تھے جو سب سے منفرد تھا خاص طور پر سردار کے لیئے تیار کردہ تھا شاید وہ
(دا ستا شوی دی)؟
“یہ تمہارا بیٹا ہے”
مراد خان نے اس بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ بچہ مزید اپنے باپ کے پیچھے چھپ گیا
(دہ نوم څه دی )؟
“کیا نام ہے اسکا “
وہ بلکل عام انداز میں پوچھ رہے تھے
“باران”
دلاور خان نے اسے اپنے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ کر اسکا نام بتایا
(ښه نوم دی ، باران راشه)
“اچھا نام ہے باران ادھر آ ؤ!”
انہوں نے باران کو اپنی طرف بلایا
مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا
Baran go to him
“باران انکے پاس جاؤ”
دلاور خان نے اسے آ گے کرتے ہوئے کہا جو شاید تھوڑا ڈرا ہوا تھا
(دا ستا پنتو نہ راشی)
“کیا اسے پشتو نہیں آتی”
مراد خان نے استفسار کیا
نه زه پښتو سمجهم))
“نہیں مجھے پشتو آتی ہے”
باران اپنے باپ کے پیچھے سے نکل کر
مراد خان کی طرف بڑھا
ښه دی))
“اچھا ہے”
(ایښوږه)
بیٹھو”
انہوں نے اسے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا لیا لیا
Dilawar I am ready to accept you and your son but
“دلاور میں تمہیں اور تمہارے بیٹے کو قبول کرنے کے لیئے تیار ہوں لیکن”
دلاور خان نے یہ چیز شاید اپنے باپ سے ہی سیکھی تھی کہ وہ بھی اہم بات کسی دوسری زبان میں کرتے تھے کیونکہ انکے گھر کے ملازم پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے انکی بات نہ سمجھ سکتے تھے جبکہ سردار کو خاص طور پر پڑھایا جاتا تھا کیونکہ اسے دنیا میں نکلنا ہے اور ویسے بھی سردار کو سب سے الگ ہونا چاہیئے ۔۔ سردار کو پڑھانے کا رواج ابھی ایک دو پوشتوں سے ہی شروع ہوا تھا ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا
Whatever you will say baba I will do anything plz forgive us
“جو بھی آپ کہیں گے میں وہ کروں گی ہمیں معاف کر دیں”
دلاور خان دوڑ کر اپنے باپ کے قدموں میں جا بیٹھے تھے اور انکی ہر شرط ماننے کو تیار بھی ہوگئے تھے بغیر یہ جانے کہ اسکی انکو کتنی بڑی سزا بھگتنی ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اے لڑکی اٹھو یہاں سے میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ تم اس صوفہ پر مت بیٹھا کرو میرے بیڈ پر تو تم پہلے ہی قبضہ کر چکی ہو لیکن تمہیں تو کوئی اثر ہی نہیں ہوتا “
وہ اتنے اچھے موڈ میں بیٹھی تھی اور کوئی کتاب پڑھ رہی تھی شاید وہ کوئی ناول تھا ( مجھے پکا نہیں پتہ وہ کوئی ناول تھا یا نہیں پر وہ لڑکی اسے پڑھتے پڑھتے مسکرا رہی تھی تو میں نے اندازہ لگایا)
اور وہ آگیا تھا اسکا موڈ برباد کرنے
“اب میں سارا دن بیڈ پر تو نہیں بیٹھ سکتی اور رہی قبضہ کرنے کی بات تو آپ نے ہی حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر مجھے وہ بیڈ دیا تھا اب کیا ہوا”
وہ لڑکی صوفے سے اٹھی نہیں بیٹھے بیٹھے اپنے اس کھڑوس شوہر کا مقابلہ کرنے لگی بھئی جنگ میں مورچہ نہیں چھوڑا کرتے سو سپاہی مورچہ سنبھالے بیٹھا رہا
“میں نے تمہیں دیا تھا نا وہ بیڈ تو میں تم سے وہ بیڈ لے بھی سکتا ہوں یاد رکھنا اور صوفے پر بھی نہ ہی بیٹھنے دونگا اور نہ ہی سونے”
اسے اس لڑکی کے جواب پر تپ چڑ گئی ہٹ دھرمی تو دیکھو اسکے گھر پر قبضہ تو کر ہی چکی ہے اب کمرے پر بھی قبضہ کر رہی ہے نہیں وہ ایسا نہیں ہونے دیگا
“اچھا تو میں بابا سے کہہ کر نیا بیڈ منگوا لوں گی اور اسی کمرے میں رکھو گی”
وہ ایک دم کتاب بند کر کے سیدھی ہو بیٹھی
“اور کیا کہو گی بابا سے ذرا مجھے بھی بتاؤ ” وہ ہاتھ باندھ کر فرصت سے اس سے پوچھ رہا تھا
“میں کہوں گی کہ مجھے اس کمرے میں اپنے ذاتی بیڈ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ آپکے بیٹے کو پسند نہیں ہے کہ میں اس کمرے کی کوئی چیز بھی استعمال کروں
اس کے بعد وہ جو پوچھیں گے اسکے جواب آپکو دینے ہونگے”
وہ محظوظ ہو کر اسے بتا رہی کہ اسے کیا نتائج بھگتنے ہونگے
“ہممم شاباش یہ اچھا ہتھیار آیا ہے تمہارے ہاتھ میں جب کوئی بات کہوں تو آگے سے بابا کو لے آتی ہو درمیان میں تم خود بھی کوئی کام کر سکتی ہو کہ نہیں”
اسنے پہلے تالی بجا کر اسے داد دی پھر اسکی ہمت کو للکار دیا اور شاید یہ اسکی غلطی تھی کیونکہ بھئی اسکی بیوی کہ پاس تو ہر بات کا الٹا جواب موجود ہوتا ہی تھا
‘جی جی میں خود بھی کام کر سکتی ہوں میں پرسنلی خود جا کر بابا کو بتاؤ گی آپکی حرکتیں”
ایسے کو تیسا
“تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے بیٹھی رہو یہیں پر”
وہ غصے میں پلٹا
“ہاں تو میں کونسا اٹھ رہی ہوں بیٹھی ہوں یہیں پہ”
وہ بھی اسکے ہی انداز میں بولی
وہ پلٹتے پلٹتے اسکا جواب سننے کو رکا
“تا لیوانی یم”
وہ غصے میں بڑبڑاتا پلٹ گیا
“آپ نے مجھے گالی دی ہے”
اسکے بڑھتے قدم رکے
“کیا” ؟
اسنے اسکی طرف رخ پھیرا
“جی آپ نےمجھے گالی دی ہے”
وہ رونے کو تھی
“کیا کہہ رہی ہوتم میں نے کب دی”
وہ حیران سا تھا
“ابھی دی آپ نے”
وہ اپنی بات پر قائم تھی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیئے اسے یقین تھا کہ اس شخص نے اسے گالی دی ہے
“مجھے پشتو نہیں آتی اسکا فائدہ اٹھا کر آپ نے مجھے گالی دی ہے”
وہ جو سچویشن سمجھنے کی کوشش کررہا تھا اپنا سر پیٹ گیا
“اففف میں نے تمہیں کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یو نو وٹ بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری گالی”
وہ پہلے صفائی دینے لگا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اسنے تو بس اتنا کہا کہ تم پاگل ہو مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے اسنے صفائی دینے کا ارادہ ترک کر دیا اس سے اچھا موقع بھلا کہاں ملے گا اس لڑکی کو سبق سکھانے کا جو اسکے گھر پر قبضہ کر چکی تھی
وہ اسے اور گالی کو بھاڑ میں بیجھ کر اسے یقین دلا چکا تھا کہ اسنے واقع اسے گالی دی ہے
اسکی بیوی تو اب باقائدہ رو پڑی تھی
وہ اپنی بیوی کو روتے ہوئے چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا
اب آیا ہے مزہ
(لگتا ہے آپ بھی کوئی ناول پڑھ رہی ہیں اسی لیئے اتنا مسکرا رہی ہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر سیدھا لیٹے چھت کو گھور رہا تھا اسکی آنکھیں خالی تھیں بلکل خالی
ایسا ہی ہوتا تھا جب جب وہ کسی کو موت کے گھاٹ اتارتا تھا تو اسکی نیند اس سے روٹھ جاتی تھی
کمفرٹر سینے تک اوڑھے وہ بس چھت کو گھور رہا تھا جب دروازے کی گھنٹی بجی اسنے بے زاری سے آنکھیں بند کیں اور ایک سانس خارج کی
وہ جانتا تھا اس وقت کون آیا ہے
وہ اس وقت کسی سے نہیں ملنا چاہتا تھا مگر وہ بدر کو دروازے پر کھڑا نہیں رکھ سکتا تھا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ اگر وہ دروازہ نہیں کھولے گا تو بدر ساری رات وہیں کھڑا رہے گا
کمفرٹر خود سے ہٹا کر وہ اٹھ بیٹھا
اور بنا سلیپرز پہنے ہی دروازے کی طرف بڑھ گیا
یہ ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ تھا
مکمل طور پر سفید اپارٹمنٹ اپنے مالک کے جزبات کی عکاسی کرتا ہوا ایک چھوٹا اپارٹمنٹ کوئی اور رنگ نہیں تھا اس چھوٹے اپارٹمنٹ کی دیواروں اور چھت پر یہاں تک کے دروازے بھی سفید تھے
نفاست سے سیٹ کیئے گئے اپارٹمنٹ میں ضرورت کی ہر شے موجود تھی
وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا دروازے تک آیا اور ایک کلک کی آواز کے ساتھ اسنے دروازے کھول دیا
دروازے کھولتے ہی وہ دروازے کے پاس سے ہٹ گیا
اور چھوٹے لاونج کے صوفوں پر آ بیٹھا
دروازے کھلتے ہی بدر اجلت میں اندر داخل ہوا تھا
اسے سامنے ہی وہ صوفوں کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ گیا
“تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا”
بدر تھوڑی بلند آواز میں بولا
“میں نے کیا کیا ہے”
خان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
“کامران رحیم کو مارنے کے لیئے کسی نے ہمیں پیسے نہیں دیئے تھے ہم صرف اسے ڈرا کر اس سے پیسے نکلوانا چاہتے تھے اگر وہ آج بھاگ جاتا تو ہم پھر اسے ڈراتے اور اس بار اور زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے اور یقین کرو ہم اس سے مال نکولوانےمیں کامیاب بھی ہو جاتے مگر تم نے اسے قتل کردیا کیوں”
بدر بلکل خان کے سامنے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا
جبکہ وہ اسے خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا
“خان اب پانی سر کے اوپر جا رہا ہے کتنے ہی موقعے تم اس طرح ضائع کر چکے ہو کتنے ہی لوگوں کو تم قتل کر چکے ہو ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے خان۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا دھندا صرف موت سے نہیں بلکہ پیسوں سے بھی چلتا یہ مت بھولو”
بدر کی آواز اس بار مزید بلند تھی
“تم میری بات سن بھی رہے ہو”
خان نے جب سر صوفے سے ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں تو بدر کو لگا جیسے وہ اسکی بات سن ہی نہیں رہا
“اس طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آج بابا آئے تھے”
وہ آنکھیں بند کیئے صرف اتنا ہی بولا
بدر کے الفاظ سکے منہ میں ہی رہ گئے
بدر کا غصہ یکدم کہیں غائب ہو گیا
وہ قدم قدم چلتا اسکے قریب صوفے پر آ بیٹھا
“کیا کہہ رہے تھے وہ”
بدر کے چہرے پر اب پریشانی نظر آنے لگی جبکہ خان آنکھیں بند کیئے مطمعین نظر آتا تھا
“یہی کہ میں ان کے ساتھ واپس چلوں “
خان نے آنکھیں کھولیں مگر سر ابھی تک صوفے کا سہارا لیئے ہوئے تھا
“تو تم نے کیا کہا”
بدر تھوڑا آگے کو جھک کر بیٹھ گیا
“جو مجھے کہنا چاہیئے تھا”
وہ بھی سیدھا ہو بیٹھا
“کب تک تم انسے دور بھاگتے رہو گے آخر ایک نا ایک دن تو تمہیں ان کے پاس جانا ہی ہے کیوں بوڑھے باپ کو ستاتے ہو۔۔۔۔۔۔ کب تک نہیں جاؤ گے”
بدر کا انداز سمجھانے والا تھا
“جب تک میں اتنا سفاک نہیں ہو جاتا کہ اس علاقے کو آگ لگا دوں تب تک میں وہاں نہیں جاؤں گا اور جب جاؤں گا تو اپنے باپ کا سکون برباد کر دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔ روز ہر روز کسی کی موت موت کی خبر کی سنیں گے وہ انکی راتوں کی نیند چھین لونگا میں”
بدر کو اسکی آنکھیں ہر گزرے لمحوں کے ساتھ سرخ ہوتی ہوئی معلوم ہوئیں جیسے ان میں خون اتر آیا ہو
“مجھ سے اپنے باپ کی خوشی نہیں دیکھی جاتی جب میں نے کامران رحیم کو کہا کہ وہ چلا جائے تو وہ خوش ہو گیا اور میں کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا اسلیئے میں نے اس سے اسکی خوشی چھین لی”
بدر کو ایک پل کے لیئے لگا کہ وہ پاگل ہو رہا ہے
“خان تمہیں ابھی آرام کی ضرورت ہے تم آرام کرو ہم کل بات کریں گے اور زیادہ مت سوچو میں ہوں تمہارے ساتھ “
بدر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینی چاہی
“اگر تم نہ ہوتے تو میں کب کا مر چکا ہوتا “
خان نے اپنے کندھے پر رکھے بدر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
بدر اسکی بات پر ہلکا سا مسکرایا خان کے لبوں پر بھی ہلکی مسکراہٹ ابھری
“تم آرام کرو میں کل آتا ہوں ہمم”
بدر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
“اگر تمہیں پیسے چاہیئے تو میں تمہیں دے سکتا ہوں میرے پاس ہیں پندرہ بیس کڑوڑ تمہیں تو پتہ ہے بابا مجھے ہر مہینے جو رقم بھیجتے ہیں میں نے کبھی استعمال نہیں کی میرے بینک اکاؤنٹ میں رقم موجود ہے تم چاہو تو لے سکتے ہو”
بدر کے اٹھنے پر وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھا
“حساب تو میں تم سے لونگا سود سمیت مگر ابھی نہیں ابھی تم آرام کرو”
بدر یہ کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا اسکے اندازمیں جو چبھن تھی وہ اس چھوٹے اپارٹمنٹ کی درودیوار نے بھی محسوس کی تھی تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ خان اسے محسوس نا کرے وہ بس پھیکا سا مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا دن
“سلینہ تم لے کیوں نہیں رہی کھانا آرام سے کھاؤ”
جہانزیب نے اسکی پلیٹ خالی دیکھی تو اسکی پلیٹ میں بریانی ڈالنے لگا
“کھاؤؤؤؤ”
جہانزیب نے اسے سمائل پاس کی اور کھانے کی طرف اشارہ کر کے اسے کھانے کو کہا
سلینہ بھی مسکرا کر کھانا کھانے لگی اس وقت جہانزیب سلینہ اور صدف بیگم کھانے کی میز پر موجود تھے
‘جہانزیب تم کونسے ہوٹل میں ٹھہرے ہو”
صدف بیگم کو کھانا کھاتے اچانک یاد آیا
“جی یہیں پر ساتھ ہی ہے زیادہ دور نہیں ہے۔۔۔۔۔ قریب ہی ہے تاکہ آنے جانے میں پریشانی نہ ہو” جہانزیب نے بریانی کا ایک چمچ منہ میں ڈالا
“اچھا کیا”
وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولیں
آپ کہاں جا رہی ہے
جہانزیب نے اپنی ماں کو اٹھتے ہوئے دیکھ کر کہا
“میں نے کھانا پہلے ہی کھا لیا ہے تم بھی کھانا کھا کر ہوٹل چلے جانا ہممم” وہ اسے ہدایت دیتی کمرے کی طرف بڑھ گئیں
“لڑکی تم کھانا کھا کر میرے کمرے میں آنا ٹھیک ہے”
انہوں نے مڑتے ہوئے کہا
“ج ۔۔۔۔۔۔۔جی “
سلینہ نے منہ کی طرف جاتے چمچ کو ہوا میں روک کر انکی بات کا جواب دیا
صدف بیگم سر ہلاتی وہاں سے چلی گئیں
“تم ہوٹل میں کیوں رکے ہو مطلب کسی اور روم میں بھی رہ سکتے تھے”
سلینہ نے آہستہ آواز میں کہا کہ کہیں صدف بیگم کان لگا کر اسکی باتیں ہی نہ سن رہی ہوں
“یہی تو طے کیا تھا ہم نے کہ تم میرے گھر میں رکو گی اور میں ہوٹل میں رکوں گا”
اسنے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جبکہ وہ مسلسل بریانی کھائے جا رہا تھا
“رکو تو سہی بات تو سن لو کہیں نہیں جا رہی بریانی” سلینہ نے اسکا منہ کی طرف جاتا ہاتھ روک دیا
“اچھا بتاؤ کیا بات ہے”
جہانزیب بھی اب سنجیدگی سے اسکی طرف متوجہ ہوا
“تم ہوٹل میں کیوں رکے ہو”
سلینہ نے پھر سوال کیا
“دیکھو سلینہ میرے لیئے تمہاری عزت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے اور مجھے یہی سہی لگا اس لیئے میں ہوٹل میں ٹھر گیا اور اب اور کوئی سوال مت کرو مجھے بریانی کھانے دو”
جہانزیب نے سلینہ کے سر چپت رسید کی
“کیا ہے نہیں کرو”
وہ چڑی
“کھانا کھاؤ بس تم آرام سے” جہانزیب تو بس اسوقت کھانے کی ہی بات کر رہا تھا
“کھا رہی ہوں”
وہ بھی کھانا کھانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سنبھالیں اپنی بیٹی کو خاندان کی عزت لٹاتی پھر رہی ہے یہ”
جہانزیب نے رابیل کو ایک جھٹکے سے اسکے باپ کے قدموں میں پھینکا اور وہ کسی بے جان وجود کی طرح لڑکھڑاتی ہوئی حسن صاحب کے قدموں میں جا گری
“یہ کیا بدتمیزی ہے جہانزیب تمہاری ہمت کیسے ہوئی رابیل کے ساتھ یہ سلوک کرنے کی”
حسن صاحب نے جلدی سے رابیل کو اٹھایا اور غصے کی حالت میں جہانزیب کی طرف بڑھے
“بس وہیں رک جائیں مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی پر نظر دوڑا لیجیئے خاندان کی عزت کو رول کر آ رہی ہے یہ”
جہانزیب حسن صاحب کو غصے میں اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر انکو ہاتھ کے اشارے سے وہیں روک چکا تھا
“آپکی بیٹی ہوٹیل کے کمرے سے برآمد ہوئی ہے کیا آپ اسکا مطلب جانتے ہیں”
جہانزیب کی آگ برساتی آنکھیں حسن صاحب کی بوڑھی آنکھوں میں گڑھیں ہوئی تھیں
رابیل نے اسکی بات پر اسے دیکھا۔۔۔۔۔ نہیں وہ کمرے میں نہیں تھی رابیل بس یہ سوچ کر رہ گئی
“ایک غیر مر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
بکواس بند کرو اپنی
اس سے پہلے کہ جہانزیب وہ زہر اپنے منہ سے اگلتا حسن صاحب اسکے گریبان تک آ پہنچے تھے
رابیل کو اسکی اس قدر الزام تراشی دیکھ کر اس سے گھن محسوس ہوئی ہاں رابیل کو جہانزیب سے گھن محسوس ہوئی
“میری بیٹی کے بارے میں کچھ بکواس کرنے کی جرات نہ کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا”
اسکی بات سن کر حسن صاحب کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی ہو جبکہ رابیل سے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا وہ بے جان سی فرش پر ڈھے گئی
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں”
حسین صاحب شور سن کر لاؤنج میں آگئے تھے ان کے پیچھے طاہرہ بیگم اور دانین بھی تھیں دانین نے آگے بڑھ کر رابیل کو اٹھانا چاہا مگر وہ اٹھی نہیں دانین بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی جبکہ طاہرہ بیگم ہکابکا کھڑی رابیل کو دیکھ رہی تھیں
حسین صاحب کے سوال پر جہانزیب نے انہیں ایک نظر دیکھ کر سر جھٹک دیا جیسے کہہ رہا ہو کہ بتانے والی بات ہو تو بتائے
“رابیل کیا بات ہے؟”
دانین نے رابیل کو کندھوں سے پکڑ کر ہلایا
رابیل نے بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا اسکی آنکھیں بلکل خالی تھیں آنسو تک نہیں تھے اسکی آنکھوں میں
“بھائی صاحب دیکھیں یہ بے غیرت رابیل کے بارے میں کیا بکواس کر رہا ہے”
حسن صاحب نے جہانزیب کو پیچھے کی طرف دھکا دیا جس پر وہ دو قدم پیچھے ہوا
“رابیل نے آپکی عزت کو رول دیا ہے میں وہ کہنا بھی نہیں چاہتا جو یہ کر کے آ رہی ہے”
جہانزیب نے رابیل کو افسوس اور غصے سے دیکھتے ہوئے کہا جیسے اسے رابیل سے یہ امید نہیں تھی
حسین صاحب سمیت طاہرہ بیگم اور دانین کو جیسے جہانزیب کی بات سن کر سانپ سونگھ گیا ہو
ایک پل کو فرش پر بیٹھی اس ادھ مری لڑکی نے سامنے کھڑے اس شخص کر دیکھا جو سب جانتے بوجھتے اسے رسوا کر رہا تھا
پھر اسکی آنکھوں میں گرم سیال بھرنے لگا اور وو شخص دھندلا ہوتا گیا
“رابیل بتاؤ مجھے یہ لڑکا کیا بکواس کر رہا ہے”
تائی جان کو سب سے پہلے ہوش آیا اور وہ یکدم رابیل کی طرف بڑھیں اور اسے جھنجھوڑنے لگیں
مگر وہ بے جان وجود انہیں کیا بتاتا اب تو جو ہونا تھا ہوگیا اسے رسوا ہونا تھا اور وہ ہوگئی اب کوئی تاویل کوئی دلیل اس رسوائی کو موڑ نہیں سکتی تھی
“رابیل بولو کیا کہہ رہا ہے یہ”
تائی جان نے ایک بار پھر اسے جھنجھوڑا مگر وہ ہوش کی دنیا میں کہاں تھی اسے تو کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا گرم سیال کا ایک دریا تھا جو مسلسل منظر دھندلانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس دھندلاتے منظر میں اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ رسوا ہو چکی ہے
“کیا ثبوت ہے تمہارے پاس”؟
حسین صاحب نے آگے بڑھ کر حسن صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اورجہانزیب سے استفسار کرنے لگے
“دیکھیں حسین صاحب مجھے۔۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے کہ میں کسی کی بہن بیٹی کو رسوا کرتا پھروں
آپکی بیٹی کو پولیس نے برآمد کیا ہے ایک بری جگہ سے
وہ تو پولیس میں میرے کچھ کانٹیکٹس تھے کہ انہوں نے جب رابیل سے آپکا اور حسن صاحب کا نام سنا تو انہیں پتہ چلا کہ یہ میری رشتےدار ہے ورنہ اسے ان باقی لڑکیوں کے ساتھ آج کی رات جیل میں گزارنی پڑتی
اور کانٹیکٹس ہونے کے باوجود اور میری لاکھ کوشش کرنے کے باوجود میں اس بات کو چھپا نہیں سکا
یہ باتیں کہاں چھپتی ہے حسین صاحب”
جہانزیب کی آواز اب قدرے آہستہ تھی
“بھائی صاحب یہ بکواس کر رہا ہے
یہ میری بیٹی پر الزام لگا رہا ہے”
حسن صاحب تو تڑپنے لگ گئے تھے انہیں یقین تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے انکی رابیل ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتی
مگر ہو سکتا ہے یہ واقع سچ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے






