Faqeer e Muhabat by Nida e Eman Episode 4

- Writer
- Nida e Eman
- Genre
- Romantic
- Language
- Urdu
About this novel
Faqeer e Muhabat (Urdu: فقیر محبت) Episode 4 by Nida e Eman opens with Baran agreeing to take on his father’s dastar, but only on his own terms. His very first ruling at the dera stuns the tribal elders and puts him at odds with a rival sardar. In Lahore, Rabail hides her pain from her father, visits a nearby madrasa and hears a lesson that cuts close to home.
In the past, a stranger who has watched young Baran for years finally confronts him, and Rabail’s secret meeting with Jahanzeb ends somewhere she never expected. The episode closes as Rabail returns to the madrasa, where everyone calls her Umm Abdul Rehman.
ناول: فقیر محبت
ازقلم: ندائے ایمان
میری ماں کے نام
چوتھی قسط
“شکر ہے برخودار تم باہر تو آئے کمرے سے “
دلاور خان نے اپنے بیٹے کے کندھے پر تھپکی دی اور اسکے ساتھ والی مین کرسی پر براجمان ہو گئے
دلاور خان اپنے کمرے سے باہر آئے تو سامنے ہی انہیں باران ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھا نظر آیا تو انہیں خوشگوار حیرت نے آن گھیرا وہ کب سے اس لمحے کا انتظار کر تے آئے تھے انکا موڈ یکدم اسے دیکھ کر خوشگوار ہو گیا جسم میں جیسے نئی جان بھر دی گئی ہو وہ تیز تیز قدم اٹھاتے اس تک پہنچے تھے
باران نے بس انہیں ایک نظردیکھا اور دوبارہ خالی خالی نظروں سے ڈائنگ ٹیبل کو گھورنے لگا
“بختاور میرے اور باران کے لیئے کھانا لاؤ”
دلاور خان نے بلند آواز میں اپنی بیوی کو کھانا لانے کے لیے کہا تو تھوڑی دیر بعد بختاور ہاتھ میں ایک بڑا برتن پکڑے کچن سے نمودار ہوئی اور جلدی جلدی سے اس برتن کو میز پر رکھنے لگی جہاں دلاور خان اور باران خان پہلے سے ہی بیٹھے تھے دلاور خان نے برتن کے اوپر سے ڈھکن ہٹایا تو ایک دم ان کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آنے لگے
“زه اوباران دواړوته سجی او کاک پسند دی دا ښه کړئ چې موږ ته یې جوړ کړئ “
(مجھے اور باران دونوں کو سجی ( روایتی پکوان جو بھیڑ یا بکری کے گوشت سے بنتا ہے ) اور کاک ( ایک قسم کی روٹی جو بلوچستان میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے) بہت زیادہ پسند ہے یہ اچھا کیا تم نے کہ یہ بنا لیا )
دلاور خان نے بختاور کو مشکور نظروں سے دیکھا
” ای باران “؟
( ہے نا باران ؟ )
دلاور خان نے اس سے پوچھا جو چپ چاپ بیٹھا تھا اور انکے سوال پر سر ہاں میں ہلا کر جواب دے دیا
پھر دلاور خان نے کھانا شروع کیا تو باران نے بھی کھانا شروع کیا بختاور البتہ انکے ساتھ نہیں بیٹھی وہ وہاں سے چلی گئی شاید وہ چاہتی تھی کہ باران آرام سے کھانا کھا لے
“کیا تم اپنے باپ کی ایک بات مانو گے باران”
کھانا کھانے کے دوران دلاور خان نے عام سے انداز میں پوچھا مگر انکے لہجے میں ڈر واضح نظر آ رہا تھا
باران نے بس انہیں نظریں اٹھا کر دیکھا اور پھر کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا
“کیا تم یہ دستار سنبھالو گے “
دلاور خان نے کھانے سے ہاتھ روک کر ساری توجہ اب اپنے بیٹے پر مرکوز کر دی
“میں نے کب انکار کیا ہے ڈیڈ اب یہاں آ گیا ہوں تو سب سنبھال لوں گا”
اسنے اپنے باپ کو کھانا کھانے کیا اشارہ کیا اور خود بھی بہت رغبت سے کھانا کھانے کے دوران اپنی بات کہنے لگا
دلاور خان کو تو یقین ہی نہیں ہوا کہ باران اتنی جلدی مان گیا پہلے انہوں نے سوچا تھا کہ وہ چند دن بعد باران سے اس بارے میں بات کریں گے مگر پھر ناجانے کس خیال کے تحت انہوں نے یہ بات اس سے کر دی اور وہ مان بھی گیا یہ تو کمال ہی ہو گیا
“باران میں تم سے خوش ہوں بہت زیادہ مجھے نہیں لگا تھا تم اتنی جلدی مان جاؤ گے”
دلاور خان واقع بہت خوش لگ رہے تھے
“آپ خوش ہیں اچھی بات ہے مگر آپکو پتہ ہونا چاہیئے کہ میں نے آپکی خوشی کے لیئے ہاں نہیں کی ڈیڈ
پہلی بات میری ماں یہ چاہتی تھی اور دوسری بات یہ کہ میں یہ اس لیئے کر رہا ہوں تاکہ میں یہاں کے غلط رواجوں کو ختم کر سکوں جو مجھے اور میری ماں کو بھگتنا پڑا کسی اور کو نہ بھگتنا پڑے”
دلاور خان بس اسے دیکھتے رہے
“ڈیڈ میں یہ دستار سنبھالوں گا مگر اپنی شرائط پر اور آپ مجھے مجبور نہیں کریں گے”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اپنے باپ کو ایک نظر دیکھتے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا
“ٹھیک ہے باران میں کل ہی تمہاری دستاربندی کا اعلان کر دونگا کل وقت پر ڈیرے پہنچ جانا ہممم”
انہوں نے باران کو تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے دیکھا اور اسکی پیٹھ سے مخاطب ہوئے جبکہ باران انکی بات کو انسنی کرتے ہوئے باہر نکل گیا
دلاور خان جانتے تھے وہ کہاں جائے گا اپنے اس اکلوتے دوست کے پاس وہ جیسا بھی ہو خواہ وہ نسوار کا نشہ کرتا ہو پر وہ انکے بیٹے کو سنبھالنے کی طاقت رکھتا تھا یہ بات دلاور خان جانتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا کہ نہیں بہت دن ہو گئے میں نے تمہیں کہا تھا کہ لے لو”
حسن صاحب اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھے اور کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے جب رابیل دودھ کا گرم گلاس پکڑے ان کے کمرے میں داخل ہوئی
” نہیں بابا ابھی نہیں ابھی یونیورسٹی کے ایڈمیشن اوپن نہیں ہوئے جب اوپن ہو جائیں گے میں لے لوں گی اپ فکر نہ کریں آپ یہ دودھ پی لیں اور سو جائیں سارا دن کتابیں پڑھتے رہتے ہیں اتنے پڑھائی لوگ کیسے کر سکتے ہیں” رابیل نے دودھ کا گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا
“اچھا اچھا ابھی اوپن نہیں ہوئے ایڈمیشن کب ہوں گے اوپن کچھ پتہ ہے تمہیں” حسن صاحب نے دودھ کا گلاس ابھی اٹھایا نہیں بس اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ اسے پینا نہ چاہتے ہوں پر رابیل کی وجہ سے انہیں پینا پڑے گا
“ابھی کچھ نہیں پتہ آپ دودھ پیئں مجھے اور بھی بہت کام ہے مجھے کچن سمیٹنا ہے جلدی کریں”
رابیل انہیں دودھ کی طرف ایسے دیکھتے ہوئے دیکھ کر ان کی کتاب ان کے ہاتھوں سے لے کر میز پر رکھ چکی تھی
“جلدی کریں اٹھائیں دودھ” رابیل نے انہیں دودھ اٹھانے کا کہا وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ چکی تھی کسی سخت استانی کی طرح
حسن صاحب نے منہ بناتے ہوئے دودھ اٹھا لیا رابیل نے انہیں دودھ پینے کا اشارہ کیا اور کمرے سے نکل گئی
وہ اپنے باپ کے سامنے نارمل رہتے رہتے کتنا تھک جاتی تھی یہ وہی جانتی تھی
بابا بھی تو تھک جاتے ہونگے میری طرح وہ سوچ کر رہ گئی اسنے دروازے کی اوٹ سے اپنے باپ کو دیکھا جو دودھ ختم کر چکے تھے اور خالی گلاس میز پر رکھا تھا وہ اب دوبارہ کتاب اٹھا چکے تھے رابیل نے اس کتاب کا نام نہیں پڑھا وہ اپنے باپ کو دیکھے گئی یقیناً انہیں دودھ پینے سے کوئی مسلہ نہیں تھا وہ بس رابیل کے سامنے ایسے ظاہر کرتے تھے کہ وہ دودھ نہیں پینا چاہتے تاکہ رابیل انہیں زبردستی دودھ پلائے اور اسے لگے گے کہ سب نارمل ہے
اسے اپنے باپ پر بہت پیار آیا بہت زیادہ پیار مگر اسی لمحے اس کے دل میں شرمندگی نے جگہ بنا لی کاش سب واقع میں نارمل ہوتا اسکا دل عجیب طرح سے گھٹنے لگا کاش سب کچھ واقع نارمل ہوتا وہ وہاں کھڑی نہ رہ سکی اور وہاں سے ہٹ گئی
شاید اب زندگی بھر اسے یہ شرمندگی محسوس کرنی ہوگی
اسے زندگی میں پہلی بار سمجھ آ رہا تھا کہ اپنی عزت کو اپنے ہی ہاتھوں سے کیسے تباہ کر دیا جاتا ہے اپنی زندگی کو یوں بے مول کیسے کیا جاتا ہے وہ جب کالج میں پڑھتی تھی تو اسنے ایک لڑکی کے بارے میں سنا تھا کہ اسنے اپنی عزت اپنے ہی ہاتھوں سے خراب کر دی تب رابیل یہی سوچا کرتی تھی کہ بھلا کوئی خود کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے مگر اب وہ جان چکی تھی کہ نفس کے ہتھکنڈے کتنے سخت ہوتے ہیں اور انسے خود کو بچانا کتنا مشکل کام ہے
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کچن کی طرف بڑھ رہی تھی کچن میں قدم رکھتے ہی سامنے اسکی نظر سنک میں رکھے گندے برتنوں پر پڑی تو اسے جہانزیب کا وہ تھپڑ یاد آیا پولیس والوں کی گندی نظریں اور اسکے باپ کا لرزتا وجود
وہ آگے بڑھی اور ایک ایک کر کے برتن دھونے لگی
کاش وہ اپنی عزت کو بھی یوں ہی دھو کر صاف کر دیتی بلکل پہلے جیسا کر دیتی
آہ کیا اب یہ ممکن تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں اب یہ نا ممکن تھا وہ سرد آہ بھر کر رہ گئی
اسے پتہ ہی نا چلا کہ کب اسکا چہرا آنسؤں سے تر ہو گیا کچن کی زرد بتی میں اسکا گلابی چہرا اب بلکل پیلا لگ رہا تھا ہاں البتہ اسکی ناک سرخ تھی
دور سے دیکھنے پر منظر صرف یہی تھا کہ ایک لڑکی برتن دھونے میں بہت مصروف ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” نه نه که دا دي دي جانور ووژلي دی ، نو تاسو دي د جانور ووژئ او که تاسو دي سره يوسئ “
(نہیں نہیں اگر اس نے تمہارا جانور مارا ہے تو تم اسکا جانور مارو گے یا ساتھ لے جاؤ گے)
وہ اپنا فیصلہ سنا چکا تھا
” زما دا دی جانور د قصد سره نه ووژلي مګرسردار “
(مگر سردار میں نے اسکا جانور جان بوجھ کر نہیں مارا )
ایک شخص نے ادب سے اپنا موقف دوبارہ سامنے رکھا شاید وہ فیصلے سے خوش نہیں تھا
اس وقت دلاور خان کے ڈیرے پر روزمرہ کے امور جاری تھے اور آج پہلی بار دلاور خان کے اکلوتے بیٹے نے اپنے باپ کی جگہ بیٹھ کر کوئی فیصلہ کیا تھا دستار باران خان کے سر پر رکھنے کی شاندار تقریب کے بعد تمام قبائل کے سرداران کے سامنے نئے سردار کو ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہاں کے رواج کے مطابق کیونکہ یہ وہاں کا دستور تھا کہ باپ اپنی عمر میں ہی اپنے وارث کو گدی سونپ دیتا ہے دلاور خان بھی سر پر اونچی دستار باندھے وہاں موجود تھے مگر آج انکی دستار کی اونچائی انکے بیٹے سردار باران خان کی دستار سے کم تھی
” دا قصد سرہ یا غلطی شوی دی مگر نقصان شوی دی نو تاسو نقصان وکړي”
(جان بوجھ کر یا غلطی سے ہوا ہے ، مگر نقصان تو ہوا ہے تو تم نقصان بھرو گے )
اس بار باران خان کی آواز تھوڑی اونچی تھی وہ غصے میں لگتا تھا ۔ دلاور خان کو ناجانے کیوں اپنے بیٹے پر فخر محسوس ہونے لگا انہوں نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دینا ضروری سمجھا
” دا جانور زما دا ډير عزیز دے زه دي بدلي پيسي ورکړم “
(یہ جانور مجھے بہت عزیز ہے میں اسکے بدلے پیسے دے دیتا ہوں)
جانور کے مالک نے نہ جانے کیا سوچ کر اسکے سامنے یہ بات کہی کیا وہ اپنے سردار کو نہیں جانتا تھا ایک بار جو اسنے فیصلہ کر دیا سو کر دیا ہاں وہاں کے لوگ ابھی باران کو نہیں جانتے تھے باران انکے سامنے رہا ہی کب تھا مگر اس فیصلے بعد سارا قبیلہ باران کو جاننے والا تھا
اس آدمی کی بات پر دلاور خان نے باران کو ایک نظر دیکھا باران کی نظر بھی ان پر پڑی دلاور خان باران کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ سمجھا رہے تھے شاید وہ چاہتے تھے کہ جسکا نقصان ہوا ہے اسے پیسے مل جانے چاہیئے اس طرح معملہ حل ہو جائے گا اور دوسرے جانور کا نقصان بھی نہیں ہوگا مگر باران ان کے اشارے کو سمجھ کر بھی انجان بنا نظریں پھیر گیا
“نہ دا مال دي بدلي د مال او د جان دي بدلي د جان اوس دا معملہ حل شو خداحافظ “
(نہیں مال کے بدلے مال اور جان کے بدلے جان اب یہ معملہ حل ہوا خداحافظ )
اسنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا کھڑی ناک پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا
اب کسی میں ہمت نہیں تھی کہ دوبارہ کوئی سوال کر سکے
وہاں موجود دیگر قبائل کے سردار اور عام لوگ کبھی اس نئے سردار کو دیکھتے تو کبھی دلاور خان کو کسی کو بھی فیصلہ سمجھ میں نہیں آیا تھا اس وقت سب لوگ دلاور خان سے یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ باران کے فیصلے کو رد کریں گے مگر فلحال دلاور خان چپ تھے
“دلاور خان کا وارث یہ کیا کر رہا ہے مگر کیا کریں دلاور خان نے خود ایک ایسے بچے کو سردار بنا دیا جسے معلوم نہیں کہ سرداری کیسے کی جاتی ہے تو ہم اس سے اور کیا توقع کریں چچچچ”
دلاور خان کے ساتھ ہی براجمان سردار نایاب بلوچ کی بات پر دلاور خان نے اسے دیکھا
مگر وہ اس سے کچھ کہہ نہیں سکے کیونکہ شاید باران نے واقع غلط فیصلہ کیا تھا
“مجھے مت دیکھیں ایسے اپنے بیٹے کو روکیں ورنہ وہ لوگوں کی نظروں میں اپنا مقام کھو دے گا جس سردار کا پہلا ہی فیصلہ غلط ہو تو شاید ہی یہ ممکن ہو کہ وہ عوام کو قابو میں رکھ سکے بہت جلد اس کے خلاف بغاوت ہو سکتی ہے اور آپ یہ جانتے ہیں کہ سب سے پہلے بغاوت کون کرے گا”
نایاب بلوچ ایک طاقتور سردار لیکن دلاور خان سے طاقتور نہیں مگر ایسا لگتا تھا کہ وہ انہیں آگے جا کر ٹکر دینے والا تھا باران سے چند سال ہی بڑا یہ سردار باران سے زیادہ سرداری کا تجربہ رکھتا تھا اسی لیئے دلاور خان کو اسے جواب دینے کے لیئے ٹھوس الفاظ کی ضرورت تھی جو شاید انکے پاس فلحال نہیں تھے
نایاب نے ایک جتاتی مسکراہٹ دلاور خان کی طرف اچھالی
دلاور خان کچھ بولتے ہی کہ کہ باران خان کی آواز پر وہ رک گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لاہور کی ایک مصروف سڑک کراس کر کے اس پار آیا تو اسکا چہرا واضح ہو گیا وہ وہی تھا وہ نو سال کا بچہ جس نے بہت کم عمر میں اپنی ماں کو بہت تکلیف میں مرتے دیکھا تھا
وہ سکول کی وردی میں ملبوس بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا سفید شرٹ کے بر عکس اسکا چہرا پیلا پڑ رہا تھا ارد گرد کے لوگوں سے بے نیاز وہ سڑک سے متصل راستے پر آگے چلتا گیا
سکول بیگ کو کاندھوں پر لٹکائے لوگوں کی بھیڑ میں وہ چھپ گیا کچھ لمحوں بعد وہ نظر آیا تو وہ ایک جانی پہچانی گلی میں مڑ گیا
چند مکانات اور خالی پلاٹس سے گزر کر وہ ایک گھر کے سامنے رک گیا
اسے لگا وہ گھر بھی اداس ہے بلکل اسکی طرح
چند قدم مزید آگے بڑھا تو اسنے لوہے کا گیٹ اپنے چھوٹے سے ہاتھ میں قید کرنا چاہا مگر جیسے ہی اسنے اس لوہے کو ہاتھ میں لیا تو چند ساعتوں میں ہی بہت سے منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرا گئے وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہوا
وہ کچھ لمحے ساکت کھڑا رہا
اور وہاں سے الٹے قدم پیچھے لوٹ آیا اسے لگا کہ اگر وہ اندر گیا تو وہ مر جائے گا
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس گلی سے نکل آیا اور ایک سمت کو چلنے لگا
کچھ دیر بعد لاہور کی آب وہوا نے اس لڑکے کو بس اسٹینڈ پر گم سم بیٹھے پایا پھر منظر بدلا دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں کوئی شخص اس بچے کے ساتھ آ بیٹھا
اس بچے نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا مگر وہ اس چہرے سے واقف نہیں تھا تو وہ اپنی نظریں پھیر گیا
” جس اسکول کی وردی تم نے پہن رکھی ہے اسکی بس تو یہاں نہیں آتی ، کیا تم اسکول سے بھاگ کر آئے ہو ؟”
اس آدمی کی بات پر ایک بار پھر اس بچے نے اسے دیکھا
“بس نہیں آتی مگر میں اپنی مو۔۔۔۔موم کے ساتھ آتا جاتا ہوں “
اسکا جواب دوٹوک تھا
“تو کیا تم وہیں رہتے ہو جہاں سے تم بھاگ آئے ہو”
اس آدمی نے اسے بغور دیکھا
” تم میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو “
باران یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
آس پاس لوگ نا ہونے کے برابر تھے تو کسی نے اس پر غور نہیں کیا
“پیچھا نہیں کر رہا مدد کرنا چاہ رہا ہوں میں نے تمہیں اکثر دیکھا ہے تم اس گھر کے پاس جا کرواپس پلٹ آتے ہو کوئی مسلہ ہے کیا “
وہ آدمی عام سے انداز میں بول رہا تھا
“کوئی ضرورت نہیں ہے میری مدد کر نے کی کوئی مسلہ ہوگا بھی تو میں تمہیں کیوں بتاؤں گا “
باران کی آواز یکدم بلند ہو گئی تھی
” آئندہ میرا پیچھا مت کرنا “
باران اسے وارن کرتا وہاں سے ہٹ گیا نا جانے کیوں اسے اس آدمی سے خوف آیا پہلی بار اسے اکیلے اس شہر میں ہونے سے ڈر لگا وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا اور اسنے یہی کیا
پھر وہ اس علاقے میں نہیں گیا مگر وہ کانپ کر تو تب رہ گیا جب اسنے پہلی بار اس شخص کو اپنے ہوسٹل کے آس پاس دیکھا پھر وہ ہوسٹل سے بھی بہت کم نکلنے لگا پھر اکثر وہ اس شخص کو اپنے کمرے کی کھڑکی سے ہوسٹل کے آس پاس منڈلاتے ہوئے دیکھتا تھا آہستہ آہستہ اسنے اپنے خوف پر قابو پا لیا اب وہ اس شخص کو دیکھتا تو تھا مگر صرف اکتاہٹ اور چڑ سے
ایک دو بار اسنے ہوسٹل انتظامیہ سے اسکی شکایت بھی کی مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا اس دوران پانچ سال کا عرصہ گزر گا باران اب چودہ سال کا ہو چکا تھا تب اسنے خود جا کر اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی اسے یہ موقع مل گیا وہ پہنچ گیا اسکے سر پر اور جاتے ساتھ ہی اسنے سوال پر سوال کرنا شروع کر دیا
” کیوں کر رہے ہو تم یہ سب تمہیں کیا لگتا ہے مجھے پتہ نہیں ہے کہ تم میرا پیچھا کرتے ہو جہاں بھی میں جاتا ہو تم وہاں موجود ہوتے ہوں کیا کرنا چاہتے ہو تم آخر” ؟
جتنا وہ اس سے چڑ چکا تھا اسکا بس چلے تو وہ اسے کھڑے کھڑے قتل کر دے
“تم نے خودکشی کی کوشش کی تھی نا”
وہ شخص بولا تو صرف اتنا ہی
“دو بار تم نے خودکشی کی کوشش کی”
وہ شخص بنا کوئی تاثر لیئے کہہ رہا تھا
اسکی بات سن کر باران کو لگا سڑک کی ساری سختی اس کے چہرے میں سما گئی ہے
نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے اسنے تو سلیپنگ پلز سے خودکشی کی کوشش کی تھی وہ بھی پچھلے سال اور پھر کیا ہوا تھا اس نے وہ سلیپنگ پلز کیوں نہیں کھائی تھیں کیا ہوا تھا وہ۔ ہاں اسکے دروازے پر کسی نے دستک دی تھی تب جب وہ گولیاں اپنے منہ میں ڈالنے ہی والا تھا تب اس ہوسٹل کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تھی وہ اس دوائی کو بستر کے نیچے چھپا کر دروازے کی طرف بڑھا تھا مگر جب اس نے دروازہ کھولا تو وہاں کوئی نہیں تھا لیکن کسی کی موجودگی کا پتہ اس گپ اندھیرے میں ڈوبے ہوسٹل کی سیڑھیوں پر لگی آٹومیٹک سینسر لائٹ دے رہی تھی کہ کوئی ابھی ابھی ان کو پار کر کے گیا ہے
وہ دروازہ بند کر کے واپس پلٹنے لگا وہ ابھی کسی کے بارے میں کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا جب اس کی نظر اس سفید لفافے پر پڑی اس نے جھک کر وہ لفافہ اٹھا لیا اور وہیں کھڑے کھڑے اسے کھول لیا
گہری سوچ میں ڈوب گیا آخر کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“کیوں کی تم نے خودکشی کی کوشش”
وہ آدمی بھی اس تپتی دوپہر میں سورج کی سختی اپنے اندر سموئے کھڑا رہا باران نے اسکی بات کا جواب نہیں دیا وہ کچھ سوچ رہا تھا
اس رات اسنے دوبارہ کوشش نہیں کی اسکا دماغ کہیں اور الجھ چکا تھا پھر کچھ دنوں بعد اسنے پھر کوشش کی مگر اس بار وہ کیوں نہیں لے سکا وہ سلیپنگ پلز اس نے اپنے دماغ پر زور ڈالا مگر اسے کچھ یاد نہیں آیا اسنے پھر دماغ پر زور ڈالا تو کچھ دھندلاتے منظروں نے اسے اور الجھا دیا
” آئندہ تم ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے سمجھ گئے تم اب جاؤ شاباش اندر اور خوامخواہ ہوسٹل سے مت نکلا کرو”
وہ آدمی اسے چھوڑ کر چلا گیا اور وہ وہیں بت بنا کھڑا رہا
کون تھا آخر یہ شخص اور اسکا باران سے کیا تعلق تھا ابھی سب کچھ الجھا ہوا تھا مگر نا جانے کیوں باران کو اس سے اپنائیت محسوس ہوئی مگر کیوں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باران کی آواز سارے میں گونجی تو ماحول پر سکوت طاری ہو گیا
اس کا لہجہ وہ پشتو زبان کا لہجہ اس کی بات کو تقویت بخش رہا تھا وہ یہاں کبھی نہیں رہا تھا مگر اسے اس زبان پر عبور حاصل تھا
“مجھے معلوم ہے آپ سب اس فیصلے سے راضی نہیں مگر میں چاہوں گا کہ آپ سوچیں کہ آج یہ سارے قبائلی مسائل کہاں سے جنم لے رہیں ہیں”
وہ بنا روکے بول رہا تھا
رابیل نے الماری کا پٹ وا کیا اور ایک گہرے جامنی رنگ کا سوٹ نکال لیا
” کیا میں آپ کو بتاؤں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے کیونکہ آج کے قبائلی نظام میں دولت مند کو تمام اختیارات دے دیئے گئے کہ وہ غریب پر ظلم کرے صرف دولت کے زور پر “
لوگ سانس تھامے اسے سن رہے تھے
اس نے سوٹ کو اچھے سے پریس کر کے بستر پر پھیلا دیا اور واشروم کی طرف بڑھ گئی
“دولت مند ظلم کرتا ہے اور اسے اپنی دولت سے چھپا دیتا ہے جیسا کہ آج ہونے جا رہا تھا مگر آج کہ بعد ایسا نہیں ہوگا ہم سب جانتے ہیں کہ اس غریب شخص کے جانور کو جان بوجھ کر مارا گیا صرف اپنی ذاتی تسکین کے لیئے مگر اب ایسا نہیں ہوگا”
وہ واشروم سے باہر نکلی تو دھلی دھلی سی لگ رہی تھی جیسے اس پر سے ایک دم بہت سے پردے ہٹ گئے ہوں صاف شفاف سے
” جس نے ظلم کیا اسے اسکا انجام بھی بھگتنا ہوگا “
وہ اب شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال بنا رہی تھی جبکہ گہرے جامنی رنگ کا سوٹ اب وہ پہن چکی تھی
“اس غریب شخص کو یہ جانور سونپ دیا جائے ابھی اور اسی وقت”
اسنے فیصلہ سنا دیا اب شاید کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اسکے فیصلے کو رد کر سکے
دلاور خان بھی چپ چاپ بیٹھے رہے لیکن انہوں نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھے اس شخص پر ڈالی جو انہیں باتیں سنا رہا تھا مگر اب باران خود ان سب باتوں کا جواب دے چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“باران مجھے لگتا ہے تمہیں ایسا فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا اگر وہ ادمی پیسے دینے کو تیار تھا تو تمہیں پیسے لے لینے چاہیے تھے تم نے ایسا کیوں کیا”
دلاور خان اور باران خان اپنے ڈیرے کی ایک لمبی پتھریلی روش پر آگے چلتے جا رہے تھے جب دلاور خان نے باران خان کو آج کے فیصلے پر شاید کچھ نصیحت کرنا چاہی دلاور خان سب کے سامنے دستار باران کو سونپ چکے تھے اب انہیں اسے طور طریقے بھی سیکھانے تھے کیونکہ باران یہاں کبھی نہیں رہا تھا تو اسے یہاں کے طورطریقوں کے بارے میں علم نہیں تھا شاید دلاور خان کو باران کا فیصلہ کہیں نا کہیں صحیح لگا تھا مگر یوں اچانک یہ سب اور اس طرز کا فیصلہ شاید وہاں کے لوگ سہار نہ پاتے اور پھر باران ابھی یہاں کمزور تھا ممکن تھا کہ لوگ اسکے فیصلوں کی آڑ میں اسے نقصان پہنچائیں “ڈیڈ میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ جب آپ دستار مجھے سونپیں گے تو میں اپنے حساب سے فیصلے کروں گا آپ کی حکومت میں قتل کے بدلے خون بہا لیا جاتا ہوگا مگر میری حکومت میں قتل کے بدلے قتل ہی ہے اور جو میرے فیصلے کو نہیں مانے گا اس کو میری سلطنت میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی” اسکا دو ٹوک انداز بہت کچھ جتا رہا تھا دلاور خان جانتے تھے کہ وہ اس فیصلے کے بارے میں بات نہیں کر رہا وہ انہیں کچھ سمجھا رہا ہے مگر کیا ؟ ہاں وہ انہیں سمجھا رہا تھا کہ وہ اپنی ماں کا بدلہ ضرور لے گا وہ انہیں سمجھا رہا تھا کہ اس کے ساتھ جو ہوا وہ کسی کو معاف نہیں کرے گا
” بیٹا مگر یہ صحیح نہیں ہے
مانا تم اب سردار ہو مگر ہمارے علاقے کے کچھ اور بھی بہت اہم لوگ ہیں ہم انکے بغیر نہیں چل سکتے ہمارے علاقے کےکچھ رواج ہیں انہیں ہم توڑ نہیں سکتے” دلاور خان کو اس کے ارادوں سے شاید خوف آیا تھا یا پھر کچھ اورپر وہ اپنے بیٹے کو ایک بہترین سردار بنانا چاہتے تھے
” ڈیڈ میں نے آپ کی بات مان لی ہے اب آپ کو بھی میری بات ماننی ہوگی میں اپنی مرضی سے اس علاقے پر حکومت کرنا چاہتا ہوں اگر آپ نے مجھے ٹوکنے کی کوشش کی ڈیڈ تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا اور آپ جانتے ہیں میں واقعی یہاں سے چلا جاؤں گا “
باران کی آنکھوں میں کچھ تھا جسے دلاور خان محسوس کر سکتے تھے انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ کہہ رہا ہے تو وہ واقعی یہاں سے چلا جائے گا مگر دلاور خان اپنے بیٹے کو روکنا جانتے تھے
“تم نہیں جا سکتے باران تمہارے پیروں میں تمہاری ماں کی قسم بندھی ہوئی ہے تم نہیں جاسکتے”
دلاور خان نے یہ کہا نہیں بس وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے اور انکی یہ بات وہ سمجھ چکا تھا
اس لیئے وہ بے بس ہو کر منظر سے غائب ہو گیا
وہ اس علاقے سے اپنی ماں کا بدلہ ضرور لے گا ضرور اسکی زندگی کا اب یہی مقصد تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے رابیل تم کہاں چل دی اتنی صبح صبح”
حسن صاحب اپنے کمرے سے باہر نکلے تو سامنے ہی رابیل بڑی سی چادر میں خود کو چھپائے کھڑی تھی بلکہ یوں کہا جائے کہ چادر سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی تو بہتر ہے
“کہیں نہیں بابا کل ایک عورت آئی تھی گھر وہ بتا رہی تھی کہ یہیں پاس میں ایک مدرسہ ہے لڑکیوں کے لیے دیکھنے میں تو اچھی خاصی لگ رہی تھی وہ عورت میں نے سوچا گھر میں فارغ بیٹھی رہتی ہوں کیوں نہ مدرسہ جوائن کر لوں جب تک یونیورسٹی اوپن نہیں ہو جاتی”
اسنے اپنے چھوٹے سے بیگ سے ایک حجاب پن نکال لی اور چادر کو نماز کے سٹائل میں اوڑھ کر پن سے ایڈجسٹ کر لیا تب جا کر سکون کا سانس آیا رابیل کو
“ہاں یہ تو اچھی بات ہے پر بیٹا دھیان سے جانا ہممم”
حسن صاحب آگے بڑھ کر صوفے پر بیٹھ چکے تھے
” کب تک آؤ گی “
حسن صاحب نے میز پر رکھا اخبار اٹھا لیا
“بابا میں تو ابھی صرف دیکھنے جا رہی ہوں یہیں پاس میں ہے آدھے گھنٹے میں آ جاؤں گی آپ کی چائے بنا دی ہے گرم کر لیجئے گا میں آ کر ناشتہ بنا لوں گی”
وہ انہیں ہدایت دیتی باہر کی طرف بڑھ گئ ڈیڈھ مہینے میں پہلی بار وہ اس گھر سے باہر قدم رکھ رہی تھی جب سے وہ یہاں آئی تھی پہلی بار وہ یہاں سے باہر جا رہی تھی
لوہے کا چھوٹا گیٹ پار کر کے اس کے سامنے خالی میدان تھاآس پاس کوئی آبادی نہیں تھی ہاں کچھ دور مین سڑک تھی بس وہاں سے ہی آبادی شروع ہو جاتی تھی کچھ دیر اسے پیدل چلنا تھا وہ کچے راستے پر پیدل چلنے لگی یہ دسمبر کی دھندلی صبح تھی اسے احساس ہوا اسے شال لے لینی چاہیئے تھی پر اسکے پاس شال تھی کہاں وہ تو وہیں رہ گئی تھی اسکے پچھلے گھر میں رابیل یہ سوچ کر اداس ہو گئی ٹھنڈے ہوا کے جھونکے اسے اپنی چادر میں سمٹنے پر مجبور کر رہے تھے
کچھ دیر چلنے پر اسے دور سے سڑک نظر آنے لگی سڑک پر چلتی گاڑیاں اسے زندگی کا احساس دلا رہی تھیں اسکے کانوں میں یکدم اتنے شور سے تکلیف ہوئی کیونکہ وہ اتنے دنوں سے ایک خاموش گھر میں رہ رہی تھی صرف حسن صاحب ہی بار آتے تھے پر وہ کبھی نہیں آئی ایک بار کو اسے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پڑے
کچھ دور چلنے کے بعد اسے اس عورت کا بتایا ہوا ایڈریس مل گیا یہ ایک گھر نما عمارت تھی جیسے کسی کا گھر ہو اور وہ اسے مدرسے کے طور پر استعمال کر رہا ہو سفید عمارت کی دوسری منزل کی دیوار پر عربی میں کچھ لکھا گیا تھا سیاہ رنگ میں رابیل نے اسے پڑھنے کی زحمت نہیں کی اور داخلی دروازے سے عمارت کے اندر داخل ہو گئی میرون گیٹ سے داخل ہوتے ہی سامنے ایک لان تھا جہاں مختلف قسم کے پودے لگے ہوئے تھے مگر کیا یہ خزاں کا موسم ہے جو پودے سوکھے ہوئے تھے پودوں سے گرے ہوئے سوکھے پتے یہاں وہاں بکھرے پڑے تھے جہاں جہاں رابیل قدم رکھتی اسکے پیروں کے نیچے آتے سوکھے پتوں کی آواز ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیتی رابیل اس آواز کو نظر انداز کرتی آگے بڑھتی گئی
سامنے ایک لمبی پتھریلی لابی تھی جس کے ارد گرد ترتیب سے کمرے بنے ہوئے تھے
رابیل آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی لابی میں قدم رکھتے ہی اسے قرآن پڑھنے کی آوازیں آنے لگیں آوازیں تو اسے پہلے بھی آ رہی تھیں مگر اب ہر لفظ واضح سنائی دے رہا تھا کوئی شاید سورت ملک پڑھ رہا تھا ہاں رابیل کو سورت ملک زبانی یاد تھی وہ ہر رات سونے سے پہلے سورت ملک پڑھا کرتی تھی کیونکہ اسے بہت ڈر لگتا تھا قبر کے عذاب سے اور وہ اس سے بچنا چاہتی تھی رابیل نے ایک کمرے میں جھانکا جہاں سے سورت ملک پڑھنے کی آواز آ رہی تھی مگر اتنی ساری چھوٹی بچیوں میں سے وہ اندازہ نہیں لگا پائی کہ سورت ملک کون پڑھ رہا ہے سب الگ الگ سورت کی تلاوت کر رہی تھیں شاید
اسنے کمرے سے نظر ہٹا کرسامنے لمبی لابی میں دور تک نظر گھمائی کاش کوئی مانوس چہرا نظر آ جائے
وہ ارد گرد نظر دوڑاتی آگے بڑھتی رہی جب سامنے اسے وہ عورت نظر آئی جو کل اسکے گھر آئی تھی
“اسلام علیکم میں رابیل آپ کل میرے گھر آئیں تھیں” وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس عورت تک پہنچی
“وعلیکم السلام جی جی مجھے یاد ہے کیسی ہیں آپ” ؟
وہ عورت جو ایک کلاس یں داخل ہو رہی تھی اسکی آواز پر رک گئی
سیاہ عبائے اور سیاہ حجاب والی عورت اسے دیکھ کر بہت زیادہ خوش لگ رہی تھی رابیل کو تعجب ہوا کہ وہ اسے دیکھ کر اتنی خوش کیوں ہے
“میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں میں نے سوچا میں آ کر مدرسہ دیکھ لوں آپ کل بہت اسرار کر رہی تھیں”
رابیل ہر جگہ کچھ زیادہ ہی بول جاتی ہے
“میں نے کب اسرار کیا بس کہا تھا میں نے”
وہ عورت اسے اندر آنے کا اشارہ کرتی کلاس میں داخل ہو گئی اور رابیل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا دیکھو تو کل مجھے آٹھ دس بار کہہ کر آئی ہے یہ عورت کہ مدرسے میں ضرور آیئے گا آٹھ دس بار کہنے کو اسرار کرنا نہیں کہتے تو اور کیا کہتے ہیں بھلا
رابیل حیران سی اس عورت کے پیچھے کلاس میں داخل ہو گئی اس کلاس میں تقریباً تیس کے قریب لڑکیاں تھیں اور سب کی سب سیاہ عبائے اور سیاہ حجابوں میں چھپی ہوئیں تھیں پہلی نظر میں تو رابیل ڈر ہی گئی
“کلاس کے بعد بات کریں گے پلیز بیٹھیں”
اس عورت نے رابیل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ تو اس عورت کو دیکھتی ہی رہ گئی کل کتنے پیار سے بات کر رہی تھی اور اب دیکھو ٹھیک سے بات بھی نہیں کی میں انکے کہنے پر یہاں آئی اور انکے پاس مجھ سے بات کرنے کا ٹائم ہی نہیں ہے میں کل نہیں آؤں گی یہاں بلکہ کبھی نہیں آؤں گی یہاں
لوگ سہی کہتے ہیں مدرسے یا اسلامک انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت روڈ ہوتے ہیں
“رابیل اپنے دل ہی دل میں جلتے کڑھتے پاس ہی ایک خالی کرسی پر بیٹھ گئی اب یہاں سے ایسے ہی چلی جائے گی تو بہت اکورڈ لگے گا نا
“تو ہم کل کس بارے میں بات کر رہے تھے”
اس عورت نے بلند آواز میں پوچھا
“استاذہ ہم کل حلال اور حرام کے درمیان فرق پر بات کر رہے تھے”
ایک لڑکی نے جو رابیل کے ساتھ بیٹھی تھی تھوڑی بلند آواز میں کہا
رابیل نے پہلے اکتائی ہوئی نظر اس لڑکی پر ڈالی اور پھر اس عورت پر اب یہ بات تو نو دس سال کے بچے کو بھی پتہ ہوتی ہے کہ بکرا حلال ہے اور گدھا حرام اس پر بات کرنے کی کیا ضرورت ہے ان جیسے لوگوں کے پاس نئے ٹوپکس نہیں ہوتے کیا روز پرانے ٹوپکس پر بات کرتے رہتے ہیں
رابیل کا دل کیا وہ یہاں سے بھاگ جائے
“ہمم حلال اور حرام ۔۔۔حلال وہ چیز ہوتی ہے جسکی اللّٰہ نے ہمیں اجازت دی اور حرام وہ چیز جس سے ہم منع کیئے گئے تو یہ تو ہے عام سی بات جو ہم سب جانتے ہیں اس میں خاص کیا ہے” اس عورت نے سب سے سوال کیا
سب خاموش رہے
“اس میں خاص یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں جس چیز کی اجازت دی یعنی حلال چیز اس میں ہمارا فائدہ ہے اور جس چیز سے منع کیا اس میں ہمارا نقصان ہے یعنی حرام چیز
اس میں خاص یہ ہے کہ چاہے کوئی چیز حرام کی گئی ہو یا چاہے کوئی چیز حلال کی گئی ہو اس میں ہمارا فائدہ ہے اپ آزما لیں مغربی ممالک میں جہاں حرام چیزیں کثرت سے کھائی جاتی ہیں وہاں آئے دن کوئی نا کوئی وبا پھوٹ پڑتی ہے جس سے جان اور مال کا نقصان ہوتا ہے اور یاد رکھیئے گا صرف جسمانی بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے وہ بلکہ دل کی بیماریوں کا بھی شکار ہوتے ہیں وہ”
رابیل کو لگا وہ ہمارے اصلی دل کی بات کر رہی ہیں کیا انہیں حرام کھانے سے ہاراٹیک آ جاتا ہے
“آپ نے آج کل سنا ہو گا کہ مرد مرد سے شادی کر رہا ہے اور عورت عورت سے اور ایسا پتہ ہے کون کرتا ہے”
کلاس میں ابھی بھی خاموشی چھائی رہی
رابیل جو پہلے اکتائی ہوئی بیٹھی تھی اب توجہ سے انکی بات سن رہی تھی
“سور جسے ہم ( پگ) کہتے ہیں وہ کرتا ہے ایسا وہ اپنی فیمیل کا تبادلہ کرتا ہے دوسرے سور کی فیمیل سے
تو بھلا انسانوں میں ایسا کیوں ہونے لگا۔۔؟ کیونکہ انسان سورکھانے لگے اور آپ جو چیز کھاؤ گے اسی کی خصلت آپ میں پیدا ہو جاتی ہے اور مغرب اسکی مثال ہے”
رابیل کو حیرانی ہوئی اسنے پہلے ایسا کیوں نہیں سوچا
“اس کے علاوہ دنیا میں جتنے بھی حرام کام ہو رہے ہیں انکے برے نتائج واضح ہیں
جھوٹ ، شراب ، زنا ، سود ہر حرام کام کے نتائج اسکے ساتھ ساتھ ہیں”
استاذہ سانس لینے کے لیئے روکیں
“اچھا یہ تو وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت ہم سب جانتے ہیں مگر ایک چیز جو ہمارے معاشرے میں بہت عام سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے گناہ تصور ہی نہیں کیا جاتا وہ یہ ہے کہ آپ کسی کے ساتھ حرام تعلق میں ملوث ہو جائیں یہ بھی تو حرام ہے پھر مجھے اکثر میری ہی سٹوڈنٹس آ کر یہ کہتی ہیں کہ استاذہ ہم تو صرف ایک طرفہ محبت کا شکار ہیں یہ بھلا حرام تعلق کہاں سے ہو گیا بلکہ یہ تعلق کیسے ہو گیا
مجھے بہت ہنسی آتی ہے ان کی معصومیت پر اور میں ہمیشہ یہی کہتی ہوں کہ حرام تعلق ہو یا حلال تعلق آپ کو سب سے پہلے تعلق کا مطلب سمجھنا چاہیے تعلق یہ نہیں ہوتا کہ دونوں طرف سے محبت ہو دونوں فریق ایک دوسرے سے رشتہ رکھنا چاہتے ہوں دونوں فریق ایک ساتھ رہتے ہو دونوں فریق کے مابین محبت ہو تعلق یہ نہیں ہوتا تعلق دل کے رشتے کا نام ہے اگر ایک دل میں بھی کسی کے لیے محبت ہے تو ظاہر سی بات ہے اس دل کا دوسرے دل سے تعلق ہے محبت کا تعلق اور اگر دوسرا دل کسی غیر محرم کا دل ہو تو یہ تعلق حرام ہو جاتا ہے
اور آپ اگر حرام کریں گے تو آپکو اسکے برے نتائج بھی بھگتنے پڑیں گے”
رابیل کے کان یکدم اس بات پر کھڑے ہو گئے
کونسے نتائج ؟
اسکا دل اس سے بس یہ سوال کر رہا تھا اسکے کان بس اس سوال کا جواب سننا چاہتے تھے
“نامحرم کی محبت کبھی آپ کو فائدہ نہیں دے سکتی آپ چاہے 10 سال کسی نامحرم سے محبت کر لیں مگر وہ رہتا تو نامحرم ہی ہے اور وہ تعلق رہتا تو حرام ہی ہے اور اس حرام تعلق کا سب سے زیادہ نقصان ایک عورت کو ہی ہوتا ہے شاید
اس کی عزت اس کے حلال رشتے سب اس سے چھن جاتے ہیں اور مزے کی بات پتہ ہے کیا وہ حرام محبت بھی اسے نہیں ملتی تو پھر اس عورت نے کیا پایا کچھ بھی نہیں صرف اپنا وقت ضائع کیا اور گناہ کمائے آخرت برباد کی بس”
رابیل پر انکشاف پر انکشاف ہو رہے تھے اسکے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا اسنے بھی تو حرام محبت کے پیچھے سب کھو دیا تھا حلال رشتے تک کھو دیئے تھے
“مگر استاذہ کچھ لوگ حرام تعلق میں بھی رہتے ہیں اور پھر نکاح کر کے تعلق کو حلال بھی کر لیتے ہیں وہ تو کچھ نہیں کھوتے”
ایک لڑکی نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے سوال کیا
جی بالکل ایسا ہوتا ہے مگر ایسے تعلقات میں چاہے انسان کچھ نہ کھوئے مگر وہ اپنی عزت ضرور کھو دیتا ہے اس کی نظروں میں بھی جس سے حرام تعلق رکھا جاتا ہے اور اپنی نظروں میں بھی اور
حلال تعلق کی لذت ختم ہو جاتی ہے چاہے یہ بات عقل نہ مانے مگر ایسا ہوتا ہے جس طرح حلال کا ایک اثر ہوتا ہے ویسے ہی حرام کا بھی ایک اثر ہوتا ہے اور وہ اثر ضرور نظر آتا ہے کبھی نا کبھی”
رابیل پتھر کی ہو چکی تھی اسکی نظریں صرف اس سیاہ حجاب سے ڈھکی عورت پر تھیں جو اسے حقیقت بتا رہی تھی باقی تمام منظر دسمبر کی دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیئے تھے مگر اس عورت کو یہ حقیقت کس نے بتائی رابیل کا حال کس نے بتایا کیسے وہ حرف بہ حرف رابیل کی کہانی سنا سکتی ہے کیا ایسی جگہوں پر حقیقت بتائی جاتی ہے اسے اپنا دماغ سن ہوتا ہوا محسوس ہوا اسے ہوش تب آیا جب گھنٹی بجی اور لیکچر ختم ہو گیا
وہ بنا کچھ سوچے سمجھے وہاں سے آ گئی آج پہلی بار اسنے خود کو آئینے میں دیکھا اسکا خوفناک چہرہ اسی کو ڈرا رہا تھا کیا وہ اتنے عرصے تک حرام میں ملوث تھی اور وہ صرف شراب اور زنا کو ہی برا سمجھتی رہی وہ خود کیا کر رہی تھی ایک حرام کام جو اللّٰہ نے حرام کر دیا وہ حرام ہے چاہے دنیا ادھر سے ادھر ہو جاتی حرام نے حرام ہی رہنا تھا اس نے کیوں نہیں اللّٰہ کے لیے اس حرام کو چھوڑا اور اس نے تو کوشش بھی نہیں کی حرام کو چھوڑنے کے بس اس کے دل نے اسے جہاں راہ دکھائی وہ اسی راستے پر چل پڑی خود کو روکنے کی کوشش تو کرتی اگر اس نے چھے سال جہاںزیب سے محبت کی تھی تو کم سے کم تین سال جہاںزیب سے محبت نہ کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیئے تھی کم سے کم آدھا عرصہ اسے یہ بھی کرنا چاہیئے تھا
مگر اسنے ایسا نہیں کیا
انہیں سوچوں کے گرداب میں بہتی ہوئی وہ گھر کے دروازے تک پہنچ گئی اب اسے ٹھنڈ نہیں لگ رہی تھی وہ چھوٹے دروازے کو کھولتی اندر بڑھ گئی اسے اب نارمل انداز اپنے باپ سے ملنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“باران، ستاسو بابا غلط نه وو، دوی د مجبوری وو چې زه یې سره واده وکړم، او ما د مجبوری وو چې دوی سره واده وکړم”
(باران تمہارے بابا غلط نہیں ہیں انکی مجبوری تھی مجھ سے شادی کرنا اور میری مجبوری تھی انسے شادی کرنا وہ غلط نہیں ہیں)
باران کچن سے پانی لینے آیا تھا جب اسے وہاں بختاور نظر آئی پہلے تو اس نے سوچا کہ وہ وہاں سے چلا جائے لیکن پھر یہ سوچ کر وہ کچن میں آگیا کہ اس گھر پر اس خان حویلی پر اس کا بختاور سے زیادہ حق ہے وہ کیوں بختاور کی وجہ سے یہاں سے چلا جائے وہ بالکل نارمل انداز میں کچن میں داخل ہوا اور فرج سے پانی نکال کر وہیں سلیب پر بیٹھ کر پینے لگا جب بختاور اس کے پاس آئی
“باران، کله چې ستاسو بابا د ستاسو مور سره واده وکړ، نو ما د ستاسو بابا سره د واده ژمنه کړې وه، او په موږ کې چېرې چې یو څوک د واده ژمنه کوي، نو بیا دا ژمنه پورې کېږي چې واده به هماغه څخه وشي، نو ما د واده لپاره لس کاله د ستاسو بابا په نوم وخت تېر کړ، بيا کله چې ستاسو مور وفات شوه، نو تاسو ټول راوګرځېدل، نو بيا ما د واده خبرې پېل شوې، مگر ستاسو بابا منلي نه، او پدې توګه پېنځلس کاله تېر شول، ستاسو دېدا چې کله مړ شو، نو د خپل زوی په وړاندې یې وروستی غوښتنه وکړه چې ما سره واده وکړي، او ما سره واده شو، مگر ما د ژوند پېنځه او لس کاله ضائع شول، اوس وایې چې ستاسو بابا پکې څه غلطي وکړې؟”
(باران جب تمہارے بابا نے تمہاری ماں سے شادی کی تو میری تمہارے بابا سے منگنی ہو چکی تھی اور ہمارے یہاں جسکی منگنی ہو گئی سو ہو گئی اب شادی اسی سے ہو گی ورنہ نہیں ہوگی میں دس سال تمہارے بابا کے نام پر بیٹھی رہی پھر تمہاری ماں کی وفات کے بعد تم لوگ وآپس آئے تو ایک بار پھر میری شادی کی بات ہونے لگی مگر تمہارے بابا نہیں مانے اسی طرح دس سال گزر گئے تمہارے دادا نے مرتے مرتے اپنے بیٹے کے سامنے آخری خواہش یہ رکھی کہ وہ مجھ سے شادی کر لیں اور میری شادی ہوگئی مگر میری زندگی کے بیس سال ضائع ہو گئے اب بتاؤ اس میں تمہارے بابا کی کیا غلطی ہے)
باران چپ چاپ اسے سنتا رہا وہ اسے کوئی جواب نہیں دے پایا کیوںکہ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا کہیں نا کہیں باران جانتا تھا کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا مگر بس اسے نفرت تھی اس عورت سے کیوں تھی کس لیئے تھی وہ نہیں جانتا تھا کیا صرف اس لیئے وہ اس عورت سے نفرت کرتا تھا کہ اس نے اسکی ماں کی جگہ لی نہیں صرف یہ وجہ نہیں تھی پھر کیا وجہ تھی وہ یہ نہیں جانتا تھا اسے بس اس عورت سے نفرت تھی وہ جب بھی اس عورت کو اس گھر میں دیکھتا تو اسے یاد آتا کہ اس گھر میں رہنے والوں نے ہاں اس کے دادا اور دادی نے دلاور خان کے ماں باپ نے اس کی ماں کو کبھی اس گھر میں آنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہ ایک عیسائی تھی صرف اس لیے اس سے اس کا حق چھینا گیا وہ جب بھی اس عورت کو دیکھتا تو اس کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی تھی وہ اس سے نفرت کرتا تھا شدید نفرت بس
باران بختاور کی کسی بھی بات کا جواب دیئے بغیر اپنی جگہ سے اٹھا
“زه سردار یم او تاسو به راتلونې زما لارې ته ګلوټ نه کړئ”
(میں سردار ہوں اور آئندہ میرا راستہ روکنے کی کوشش مت کرنا)
وہ اسے وارن کرتا وہاں نے نکل گیا
اسے سخت نفرت تھی اس عورت سے جو اسکے باپ کی بیوی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی صاحب آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا”
حسن صاحب نے اپنی آواز آہستہ رکھنے کی پوری کوشش کی مگر اب بھی انکی آواز قدرے اونچی تھی
” دیکھو حسن میں یہاں لڑنے کے لیے نہیں آیا بلکہ دانین کی شادی کا کارڈ دینے آیا ہوں تم اس کے اکلوتے چچا ہو اور رابیل اس کی بہن ہے تم دونوں کو وہاں ضرور ہونا چاہیے حسین صاحب صوفے پر بیٹھے تھے جبکہ حسن صاحب انکے سامنے کھڑے تھے
“مبارک ہو بھائی صاحب مگر ہم نہیں آئیں گے آپ یہاں سے چلے جائیں “
حسن صاحب نے دانین کی شادی کا سن کر کوئی خوشی کا اظہار نہیں کیا
“حسن اب یہ ختم کرو اور گھر چلو”
حسین صاحب اٹھ کر اپنے بھائی کے قریب آئے
“دیکھو رابیل ہمارے گھر کی بیٹی ہے اسکی عزت ہماری عزت ہے اور وہ محفوظ ہے جہانزیب اور میں نے مل کر کوئی بات باہر نہیں نکلنے دی ہم نے رابیل کو معاف کر دیا ہے اب گھر چلو حسن”
حسین صاحب اپنے بھائی کو منانا چاہتے تھے مگر انکی بات نے حسن صاحب کے وہ زخم جو ابھی تک بھرے ہی نہیں تھے پھر ہرے کر دیئے
“بھائی صاحب جب رابیل نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں تو آپ اسے معاف کس چیز کے لیئے کر رہے ہیں میں وہ گھر چھوڑ کر اس لیئے نہیں آیا کہ کہ میری بیٹی پر الزام لگ گیا میں خود بھی یہ بات باہر نہ نکلنے دیتا میں اس لیئے یہاں آیا کیونکہ آپ نے اس بات پر یقین کیا آپ یہی کہتے رہے کہ ہم اسکے گناہ کو چپا لیں گے جبکہ اسنے وہ گناہ کیا ہی نہیں آپ یہ کہتے کہ مجھے رابیل پر یقین ہے اور یہ بات چھپا لیں گے مگر آپ نے ایسا نہیں کہا اب بھی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اسے معاف کر دیا مگر کیوں بھائی صاحب
حسن صاحب پھٹ پڑے تھے اتنے دن کا ضبط اب جواب دے گیا تھا
رابیل مدرسے سے واپس آئی پہلے دن ںےہی اسے تھکا دیا تھا وہ سوچوں کے گرداب میں پھنسے گھر تک پہنچی تھی لوہے کا گیٹ پار کر کے وہ اندر کی طرف بڑھی تو اسے اپنے باپ کی آواز سنائی دی تھی وہ دوڑ کو گھر کے اندر داخل ہوئی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ وہیں رک گئی تایا جان صوفے پر بیٹھے تھے اور اسکے بابا سامنے کھڑے تھے شکر ہے حسن صاحب نے اسے دیکھا نہیں وہ دروازے کی اوٹ میں چپ گئی وہ تایا جان کا سامنا کیسے کرے گی وہ یہ نہیں کر سکتی
پھر تایا جان کے کچھ کہنے پر اسے اپنے باپ کی آواز اونچی ہوتی ہوئی سنائی دی وہ اپنے باپ کو آج دوسری بار اپنے بڑے بھائی پر چلاتے دیکھ رہی تھی
اسے اس دن سے گھن محسوس ہوئی جب جہانزیب نے اس سے ملنے کا کہا
چوتھا دن
“رابیل کیا ہم کہیں مل سکتے ہیں”
جہانزیب کا میسج پڑھ کر وہ سکتے میں چلی گئی
“نہیں جہانزیب میں نہیں آسکتی آپکو تو پتہ ہے بابا کا میں نہیں آسکتی”
اسے کوئی اور بہانا نہیں ملا تو بابا کا نام لے لیا
“ہاں مجھے پتہ ہے ٹھیک ہے میسج پر ہی بات کر لیں گے”
شکر ہے جہانزیب مان گیا
ورنہ وہ اسے ملنے جاتی تو کیا بات کرتی اسے تو بات ہی بھول جانی تھی کوئی بھی اور پھر پکا جہانزیب شادی کے لیئے منع کر دیتا
شکر ہے جہانزیب مان گیا
رابیل نے جہازیب کا میسج پڑھ کر سکھ کا سانس لیا
پھر کچھ دیر اس سے باتیں کرنے کے بعد اسنے فون بند کر دیا اسکے چہرے پر جتنی بڑی مسکراہٹ تھی کوئی بھی اسے دیکھتا تو پاگل ہی سمجھتا بھلا کون اکیلے بیٹھے بیٹھے مسکراتا ہے
پانچواں دن
“رابیل مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے اس طرح میسج پر نہیں کر سکتا اور کال مجھے پتہ ہے تم اٹھاؤ گی نہیں پلیز مجھ سے ایک بار مل لو”
رابیل صبح اٹھی تو جہانزیب کا میسج آیا ہوا تھا وہ اسکا میسج پڑھ کر گھبرا گئی تھی کہ آخر ایسی کون سی ضروری بات ہے جو جہاںزیب نے کرنی ہے “نہیں آپ کال کر لیں میں بات کر لوں گی آپ نے خود ہی کبھی کال نہیں کی” رابیل نے میسج ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا تھوڑی دیر کے بعد جہاںزیب کی طرف سے ٹائپنگ شو ہونے لگی
“رابیل میں اس طرح کال پر بات نہیں کر سکتا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے تم ایک بار مجھ سے مل لو آخر میں تمہارا کزن ہوں ہماری شادی ہونے والی ہے اتنی بھی کیا بے اعتباری”
“جہانزیب نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے آپ پر یقین ہے آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ مجھے بتائیں کہاں آنا ہے میں آؤں گی نا آپ کہیں تو ابھی آ جاتی ہوں”
رابیل نے جلدی جلدی ٹائپ کیا
“ہمم بتاتا ہوں کہاں آنا ہے”
رابیل نے اسکا میسج پڑھ کر شکر کا سانس لیا شکر ہے جہانزیب ناراض نہیں ہوا بھلا ملنے میں کیا حرج ہے
اس دن پھر رابیل کو جہانزیب کا کوئی میسج نہیں آیا وہ بس اسکے میسج کا انتظار کرتی رہی مگر کوئی میسج نہیں آیا
“بھائی صاحب آپ یہاں سے چلے جائیں”
حسن صاحب کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی
حسین صاحب ایک بار پھر نا چاہتے ہوئے اپنے بھائی کو دکھ دے کر وہاں سے چلے گئے انہیں جاتا ہوا دیکھ کر رابیل نے خود کو مزید دروازے کی اوٹ میں چھپا لیا جس سے حسین صاحب اسے نہ دیکھ سکے اور وہاں سے گزرتے چلے گئے
حسن صاحب بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تب رابیل دروازے کی اوٹ سے نکل کر گھر کے اندر داخل ہوئی
کچھ دیر خالی خالی نظروں سے سے یہاں وہاں دیکھتی رہی اور پھر کچن کی طرف بڑھ گئی
کچن کا کام جلدی جلدی ختم کر کے وہ بس اب سونا چاہتی تھی اس لیئے اسنے حسن صاحب کو ناشتہ ان کے کمرے میں دے دیا اس دوران باپ بیٹی کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی اور کچن سمیٹ کر وہ اب اپنے کمرے میں آ گئی اسی گہرے جامنی رنگ کے لباس میں ملبوس وہ بیڈ پر چت لیٹ گئی اسکی نظریں چھت کو گھور رہی تھیں
ماضی کے اوراق پھر پلٹنے لگے
چھٹا دن
کل بھی جہاںزیب کا کوئی میسج نہیں آیا تھا اور آج بھی جہاںزیب کا کوئی میسج نہیں آیا وہ سارا دن جہاںزیب کے میسج کا انتظار کرتی رہی آخر تھک ہار کر بیڈ پر سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی اس نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا جس پر جہاںزیب کا میسج چمک رہا تھا جہاںزیب نے اسے کسی ریسٹورنٹ میں ملنے بلایا تھا ریسٹورنٹ کا ایڈریس بھی ساتھ میں بھیجا ہوا تھا اور کس وقت آنا ہے وہ بھی لکھا ہوا تھا رابیل کو کل شام چار بجے اس سے ملنا تھا
رابیل یہ سوچ سوچ کر ہی آکسائیڈ ہو رہی تھی اس رات اسے اکسائٹمنٹ میں بہت دیر سے نیند آئی
ساتواں دن
وہ صبح دیر سے اٹھی ساری رات وہ اس اکسائٹمنٹ میں سو نہیں سکی کہ اسے جہانزیب نے ملنے بلایا ہے جلدی جلدی اٹھ کر فریش ہو کر وہ باہر آگئی باہر سب معمول کے مطابق ناشتہ کر چکے تھے اور ناشتے کے برتن اٹھائے جا رہے تھے دانین اور طائی جان کام میں مصروف تھیں
“تائی جان آج ملازمہ نہیں آئی جو دانین کام کر رہی ہے” رابیل نے دانین کو کام کرتے دیکھ کر ٹونٹ کیا
“ملازمہ کی ہر دن چھٹی ہو جاتی ہے آئے دن کوئی نہ کوئی بیمار ہوتا ہے دانین کام کر رہی ہے اور تمہیں بھی کام کرنا چاہیے ٹائم دیکھا ہے بارہ بج رہے ہیں اور تم اب اٹھ کے آ رہی ہو” تائی جان نے فرضی غصے سے کہا
“امی ابھی تو صرف بارہ بجے ہیں رابیل تو ایک بجے یا دو بجے اٹھتی ہے اتنی جلدی اٹھی ہے آج رابیل اسے کوئی ٹرافی تو دیں کوئی میڈل تو پہنائیں” دانین نے ڈائنگ ٹیبل سے چند پلیٹیں اکھٹا کر کے اٹھائیں اور کچن کی طرف بڑھ گئی “ہاں ہاں میں تو انتظار میں بیٹھی ہوں کہ کب دانین مجھے ٹرافی دے اور میں اسے اپنے کمرے میں سجا کر رکھوں”
رابیل نے ڈرامائی انداز میں کہا
“ناشتہ کر لو ایک پراٹھا بچا ہوا ہے اور آملیٹ بنا لو ایک آملیٹ ہی بنانا آتا ہے تمہیں” تائی جان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“جی حضور جو حکم آپکا ” رابیل نے پوری فرمابرداری سے دانتوں کی نمائش کی
تائی جان نفی میں سر ہلاتی ہوئیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں
“تائی جان مجھے آج باہر جانا ہے کچھ دیر کے لیئے چلی جاؤں”
رابیل نے انہیں پیچھے سے پکارا
“ہاں جیسے میں جانے سے روکوں گی اور تم رک جاؤ گی پتہ نہیں پوچھتی کیوں ہو”
تائی جان ایک بار کو پلٹیں اور اسے دیکھا مگر پھر سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی رابیل نے انکا جواب سن کر فخر سے کندھے پر سے نا نظر آنے والی گرد ہٹائی جیسے تائی جان نے اسے ڈھیٹ ہونے کا اعزاز بخشا ہو
“کہاں جانا ہے میں بھی چلوں ساتھ”
دانین اسکے پاس آ کر روکی
“نہیں میں اکیلے چلی جاؤں گی تم مجھے اچھا سا پراٹھا بنا دو پلیز”
رابیل نے بات ٹال دی اور اسے کھینچتے ہوئے کچن میں لے آئی
“پراٹھا پڑا ہے ایک ایکسٹرا بنایا تھا” دانین نے اسے سلیب پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر کہا “میں نہیں کھاؤں گی ایکسٹرا والا پراٹھا اپنا الگ بنواؤں گی”
رابیل سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
“یہ کیا بات ہوئی پراٹھا تو پراٹھا ہوتا ہے” دانین کو اسکا لاجک سمجھ نہیں آیا
” نہیں نا پلیز “
رابیل نے منت
پھر وہ رابیل کی منت پر فرج سے آٹا نکال کر پراٹھا بنانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“افتخار چچا بس یہیں پر روک دیں” رابیل نے ڈرائیور سے گاڑی جہانزیب کے بتائے ہوئے ایڈرس سے بہت دور روکنے کا کہہ دیا اور گاڑی سے اتر گئی یہ بھی شاید جہانزیب کی ہی فرمائش تھی
“چچا آپ چلے جائیں میں آ جاؤں گی”
“لیکن بیٹا آپکے بابا نے کہا ہے کہ آپکو ساتھ لے کر آؤں”
ڈرائیور نے اپنی مجبوری بتائی تو رابیل کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئیں اب جہانزیب نے بلایا ہے تو وہ اسے ڈراپ بھی کر ہی سکتا ہے
“نہیں چچا آپ چلے جائیں” رابیل نے دوٹوک انداز میں ڈرائیور کو کہا
“چچا دیکھیں یہاں اتنا رش ہے میں جب اپنے کام سے فارغ ہو جاؤں گی تو کہاں ڈھونڈتی پھروں گی آپکو آپ چلے جائیں”
رابیل انہیں کہتی وہاں سے آگے بڑھ گئی ڈرائیور بھی چاہتے نا چاہتے وہاں سے چلا گیا رابیل نے ایک بار مڑ کر تسلی کرنی چاہی کے گاڑی چلی گئی کہ نہیں مگر گاڑی جا چکی تھی پھر رابیل اپنی چادر سنبھالتی آگے بڑھتی گئی اسکے ہاتھ میں اسکا موبائل تھا جس پر وہ ایڈرس چمک رہا تھا
یہ لاہور کا نا جانے کونسا علا قہ تھا چھوٹی چھوٹی گلیاں اور ایک عجیب سا ماحول رابیل تقریباً ایک کلومیٹر کا سفر پیدل چل کر یہاں پہنچی تھی پھر ان چوٹی چھوٹی گلیوں سے گزرتے وہ ایک عمارت کے سامنے رک گئی یہ چھوٹا سا ہوٹل تھا شاید
یہ عمارت پرانے طرز پر بنائی گئی تھی بلکہ یہاں موجود ساری عمارتیں اسی طرز پر بنائی گئی تھیں
“یہ کوئی ریسٹورنٹ تو نہیں ہے جہانزیب نے یہاں کیوں بلایا ہے “
رابیل سچویشن سمجھنے کی کوشش کرنے لگی
پھر فون پر چند بٹن دبانے کے بعد اس نے فون کان سے لگا لیا وہ شاید جہانزیب کو کال کر رہی تھی پہلی بار مگر دوسری طرف سے کال نہیں اٹھائی گئی
وہ پریشان ہونے لگی کہ اب کیا کرے خیر اسنے عمارت کے اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا اور اندر داخل ہو گئی اندر داخل ہوتے ہی اسکے دماغ نے اسے سگنل دینا شروع کر دیا وہ ایک بہت بری جگہ تھی ہاں رابیل اس وقت ریڈلائٹ ایریا میں موجود تھی اسکا دماغ مسلسل اسے کچھ برا ہونے کے سگنل دے رہا تھا اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتی اس عمارت میں شور سا مچ گیا اور ہر کوئی یہاں سے وہاں بھاگنے لگا وہاں پولیس کی ریڈ پڑ چکی تھی پولیس چن چن کر عورتوں کو اور مردوں کو پکڑ رہی تھی وہ ہکا بکا سی ایک جگہ پر کھڑی تھی جب ایک لیڈی کانسٹیبل نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا وہ ایک جھٹکے سے آگے کو ہوئی
“ک۔۔۔ کی۔۔کیا کر رہی ہیں آپ مجھے چھوڑیں”
وہ اس لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ کھنچتی چلی جا رہی تھی اسکے منہ سے صرف یہی نکل سکا
چھوڑیں مجھے اسنے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کانسٹیبل کے ہاتھ سے چھڑایا میں یہاں کی نہیں ہوں آپ مجھے نہیں لے کر جا سکتیں رابیل اپنا لہجہ مضبوط رکھنے کی پوری کوشش کر رہی تھی مگر لیڈی کانسٹیبل نے جب آگے بڑھ کر ایک زور دار طمانچہ اسکے منہ پر مارا تو وہ گرتے گرتے بچی چند لمحوں کے لیئے اسے کچھ بی دکھائی دینا بند ہوگیا
ایک بار پھر لیڈی کانسٹیبل نے اسے اپنے ساتھ کھینچا وہ اپنی پوری قوت لگانے کے باوجود اسکے ساتھ کھنچتی چلی جا رہی تھی
“مم۔۔۔۔۔میں نے کچھ ۔۔نہیں۔کیا ۔پل۔۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ دیں” وہ لگاتارمنتیں کر رہی تھی مگر اسے دھکا دینے والے انداز میں پولیس وین میں بٹھا دیا گیا
“میں نے کچھ نہیں کیا میری بات تو سین پلیز میں غلطی سے یہاں آگئی ہوں مجھے کسی نے ایڈرس غلط دے دیا تھا پلیز “
وہ اس لیڈی کانسٹیبل کو صفائی دینے لگی جو اسے پولیس وین میں بٹھانے کے بعد خود بھی بیٹھ چکی تھی
“اے لڑکی چپ کر جا جانتی ہوں میں تم جیسیوں کو چپ کر کے بیٹھ جا “
اس عورت سے انتہائی غصے سے کہا ایک پل کو رابیل سہم سی گئی
پھر گاڑی چلنے لگی
” نہیں ۔۔۔پلیز مجھے جانے دیں ” جیسے ہی گاڑی چلی رابیل تو مانوں پاگل ہو گئی تھی وہ باہر کی طرف لپکی ممکن تھا وہ چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا لیتی مگر اس لیڈی کانسٹیبل نے ایک جھٹکے سے رابیل کو پیچھے کی طرف کھینچا اور اسے چھوڑ دیا وہ باقی تمام عورتوں اور اس لیڈی کانسٹیبل کے قدموں میں جا گری
پھر اسے کچھ ہوش نہیں رہا کب اسے پولیس اسٹیشن لایا گیا بس وہ بے جان وجود کی طرح ہو گئی اسے کچھ یاد نہیں رہا کہ کب اسنے اپنے بابا اور طایا کا نام پولیس اسٹیشن میں بتایا اسے بس یہ احساس ہوا کہ اسے اب سب سے الگ کر کے بٹھا دیا گیا ہے وہ بلکل سہم چکی تھی
اسکے وجود میں جان تب آئی جب اسنے جہانزیب کو وہاں دیکھا جہانزیب بھی اسکی طرف بڑھ رہا تھا
“جہانزیب مجھے پتہ تھا آپ آؤ گے دیکھیں میں آپ دیئے ہوئے ایڈریس پر گئی تھی” اسنے اپنے فون سے جہانزیب کو ایڈریس دکھانا چاہا مگر اسکے پاس اسکا موبائل نہیں وہ وہیں شاید اس نامناسب جگہ گر گیا تھا
“جہانزیب انکو۔۔انکو بتاؤ میں وہاں خود نہیں گئی تھی”
رابیل دوڑ کو جہازیب تک پہنچی اور کسی پاگل کی طرح اسے سب بتا رہی تھی
مگر وہ چپ تب ہوئی جب جہانزیب کے ہاتھ کے زوردار تھپڑ نے اسے زمین پر ڈھا دیا اسکے ہونٹ کے ایک کنارے سے خون رسنا شروع ہو چکا تھا
اسنے کچھ لمحوں بعد بے یقینی سے جہانزیب کی طرف دیکھا ہاں البتہ اسے وہ نظر نہیں آیا اس بار اسکی آنکھوں کے سامنے پانی کی ایک موٹی تہہ تھی جس نے اسے جہانزیب کو دیکھنے نہیں دیا
“بے حیا لڑکی کیا کرنے گئی تھی تم وہاں” جہانزیب کے سرد الفاظ اسکی روح میں اترنے لگے
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر زبان نے اسکا ساتھ نہیں دیا پھر جہانزیب نے اسے ایک جھٹکے سے زمین سے اٹھایا اور اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے باہر کی طرف لے جانے لگا مگر پھر رک کر اسنے رابیل کی چادر کی طرف دیکھا جو ایک کاندھے پر ٹکی ہوئی تھی جہانزیب نے چادر کو پکڑ کر اچھے سے رابیل کے سر پر اس طرح سے ڈالا کہ اسکا آدھا منہ تک چھپ گا اور پھر چادر کے دوسرے سرے کو اسے کاندھے پر ٹکا دیا
اور اسے بازو سے تقریباً کھینچتے ہوئے گاڑی تک لایا اور پچھلی سیٹ پر دھکا دے دیا وہ بری طرح لڑکھڑاتی ہوئی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی
پھر جہانزیب نے گاڑی سٹارٹ کی اور پولیس اسٹیشن سے گاڑی نکال کر لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے چند دن رابیل مدرسے نہیں گئی نہ جانے کیوں مگر اسے وہاں جانے سے خوف محسوس ہونے لگا ایسا ہی ہوتا ہے جب آپ کو آئینہ دکھایا جاتا ہے تو آپ پہلی بار ڈر جاتے ہو اپنا آپ دیکھ کر اپنے اندر جھانک کر مگر وہ لوگ جو مضبوط ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو قبول کر لیتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو سدھارنے میں لگ جاتے ہیں رابیل نے بھی یہی کیا اور ایک بار پھر وہ مدرسے جانے کے لیے تیار ہو گئی اپنے خوف کو پیچھے چھوڑ کر وہ وہاں جانا چاہتی تھی کوئی شے تھی جو اسے وہاں کھینچ رہی تھی ہاں اسے وہاں جانا تھا کیونکہ وہ خود کو پہچاننا چاہتی تھی ابھی تو اس نے بس اپنی ایک جھلک دیکھی تھی وہ اپنے آپ کو پہچاننا چاہتی تھی پورا ہر طرح سے ہر طرف سے ایک بار پھر وہ اپنے گھر کا چھوٹا لوہے کا دروازہ پار کرتی اس کچے میدان کو ایک نظر دیکھتی کچے راستے پر چلنے لگی
اس بار اسے ٹھنڈ نہیں لگی کیونکہ اسنے شال اوڑھ رکھی تھی جو حسن صاحب پرسوں ہی لائے تھے
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی پھر اس سفید عمارت کے سامنے جا کھڑی ہوئی عربی کے وہ الفاظ ابھی بھی لکھے تھے مگر رابیل نے انہیں نہیں پڑھا اور میرون دروازہ پار کرتی اس عمارت کے اندر داخل ہو گئی
سوکھے پتے ابھی بھی اسکے پاؤں کے نیچے آ رہے تھے جن سے آتی آواز رابیل کے تیز چلتے قدموں کو آہستہ نہ کرسکی وہ لابی کے قریب پہنچی تو ایک بار پھر اسے قرآن پڑھنے کی آوازیں آنے لگیں اسکی رفتار تھوڑی کم ہوئی ایک لڑکی سے پوچھ کر وہ استاذہ کے کمرے تک پہنچ گئی اسی عورت کے کمرے میں جو اسکے گھر آئی تھی اور جو رابیل کو بلکل پسند نہیں تھی
” آؤ آؤ “
اس عورت نے کھڑے ہو کر رابیل کا استقبال کیا اور اسے بیٹھنے کا کہا رابیل تھوڑا جھجکتے ہوئے آگے بڑھی اور ایک کرسی پر بیٹھ گئی اب رابیل کے سامنے ایک میز تھی اور اس کے سامنے ایک کرسی جس پر وہ عورت بیٹھی ہوئی تھی “تو بتاؤ کیسی ہو تم ٹھیک ہو کچھ دن پہلے جب تم آئی تھی تو اچانک چلی گئی بتایا بھی نہیں” وہ عورت پوری توجہ سے رابیل سے بات کر رہی تھی “جی بس مجھے گھر میں تھوڑا کام تھا تو میں چلی گئی” رابیل نے فوراً بہانہ بنایا “اوکے اوکے
تو کیا فیصلہ کیا آپ نے آپ مدرسہ جوائن کر رہی ہیں نا؟
اس عورت کے سوال پر رابیل ایک لمحے کو چپ ہو گئی “جی میں مدرسہ جوائن کر رہی ہوں آپ بتائیں پہلے مجھے کیا پڑھنا چاہیئے” رابیل اب تھوڑی کمفرٹیبل ہو کر بیٹھنا چاہتی تھی وہ پیچھے کرسی پر ٹیک لگا گئی
“میرے حساب سے تو آپ کو پہلے قران پاک حفظ کرنا چاہیئے اس کے بعد تفسیر یا ایسا کرتے ہیں حفظ کے ساتھ ساتھ تفسیر بھی کر لیتے ہیں اور پھر احادیث یعنی عالمہ کا مکمل کورس یہی کرواتے ہیں ہم آپ کو بھی یہی کرنا چاہیئے” وہ عورت عام سے انداز میں کہہ رہی تھی جیسے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو اور اس عورت کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ تھا بھی نہیں
“مگر قران پاک حفظ کرنا تو بہت مشکل کام ہے مجھے عربی بھی نہیں آتی یہ میں نہیں کر سکتی میرے لیے یہ بہت مشکل ہے آپ کچھ اور پڑھا سکتے ہیں مجھے” ؟ رابیل کو لگا کہ وہ قران پاک حفظ نہیں کر سکے گی اسے عربی صرف پڑھنی آتی ہے پروہ یاد کیسے کرے گی
“ـ یہاں جو بھی آتا ہے پہلے پہل اسے عربی نہیں آتی اسے قران پاک یاد کرنا مشکل لگتا ہے لیکن بعد میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے آپ فکر نہ کریں بس قران پاک حفظ کریں اس کے بعد باقی باتیں ہوں گی آجائیں میں آپ کو آپ کی کلاس دکھاتی ہوں ” وہ عورت اپنی جگہ سے اٹھی رابیل بھی اپنی جگہ سے اٹھی اس عورت نے رابیل کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر اس کمرے سے نکل آئی چند قدم چلنے کے بعد وہ عورت ایک کمرے کے سامنے رک گئی رابیل بھی اسکے پیچھے اس کمرے کے سامنے رک گئی پھر وہ عورت رابیل کے ساتھ اس کمرے میں داخل ہوئی کلاس میں داخل ہوتے ہی صرف وہاں موجود استاذہ اپنی جگہ سے اٹھی باقی تمام سیاہ عبائے والی لڑکیاں اپنی جگہ پر بیٹھی رہیں اور قرآن پڑھتی رہیں کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی انکی طرف نہیں دیکھا
” یہ بھی آج سے حفظ کریں گی”
وہ عورت دوسری عورت کو بتا رہی تھی مگر رابیل تو ان سیاہ عبائے والی لڑکیوں کو دیکھ کر شرمندہ سی ہونے لگی تھی کیونکہ وہ ایک سفید چار میں کھڑی تھی
” میں کتنی عجیب لگ رہی ہوں “
رابیل دل ہی دل میں سوچ رہی تھی
وہ عورت اسے وہاں چھوڑ کر چلی گئی جبکہ وہ تو کسی اور دنیا میں کھوئی ہوئی تھی
“کیا نام ہے تمہارا” ؟
وہاں موجود استاذہ نے اس سے پوچھا مگر وہ سنتی تو جواب دیتی وہ تو بس وہاں موجود سیاہ حجابوں والی لڑکیوں کو گھورنے میں مصروف تھی
“ام عبدالرحمن جاؤ بیٹھ جاؤ” اس نے یک دم مڑ کر استاذہ کو دیکھا یہ کس کا نام ہے میرا نام تو رابیل ہے تو یہ مجھے اس نام سے جو اسے یاد نہیں رہا سے کیوں بلا رہی ہیں
وہ چپ چاپ جا کر خالی جگہ پا کر بیٹھ گئی پھر استاذہ نے پڑھانا شروع کیا وہ جس انداز میں قران پڑھتی تھی جس انداز میں عربی پڑھتی تھی اس کے لہجے میں اور اس استاذہ کے لہجے میں بہت فرق تھا وہ جن لفظوں کو عام انداز میں کہہ جاتی تھی استاذہ انہیں حلق سے ادا کر رہی تھی جن کی ادائیگی نہایت خوبصورت لگ رہی تھی اس نے تو کبھی ایسے قران نہیں پڑھا اس کا دل چاہا کہ وہ بھی ایسے ہی قرآن پڑھے جیسے وہ پڑھ رہی تھیں
استاذہ کے پڑھانے کا انداز اسے اچھا لگا کم سے کم یہ استاذہ دوسری استاذہ سے تو بہتر ہی ہے
تھوڑی دیر پڑھانے کے بعد استاذہ گھڑی میں ٹائم دیکھتی کمرے سے باہر نکل گئ
رابیل نے موبائل پر ٹائم دیکھا اسے دیر ہو گئی تھی اس نے حسن صاحب کے لیے لنچ نہیں بنایا تھا چونکہ حسن صاحب کو دوائی لینی ہوتی تھی تو ان کا لنچ ٹائم پر ہونا چاہیے تھا
“اللہ اللہ میں لیٹ ہو گئی” وہ جلدی سے اپنا سامان سنبھالتی باہر کی طرف بھاگی جب پیچھے سے ایک لڑکی نے اسے پکارا
“ام عبدالرحمن کہاں جا رہی ہو اتنی جلدی میں ہمم”
وہ اس کی پکار پر پلٹی
“مجھے لیٹ ہو رہا تھا تو میں جا رہی تھی” اس نے جلد بازی میں غور ہی نہیں کیا کہ اس لڑکی نے اسے کیا کہہ کے بلایا شاید اس لڑکی نے استاذہ کا اسے ام عبدالرحمن بلانا سن لیا تھا اس نے کیا شاید پوری کلاس نے سن لیا تھا “اچھا جاؤ جاؤ میں نے تو ویسے ہی روک لیا تھا کل آنا تو میرے ساتھ بیٹھنا ٹھیک ہے”
وہ لڑکی جو ابھی تک اپنی سیٹ پر ہی بیٹھی تھی رابیل کو کل اس کے ساتھ بیٹھنے کا کہہ رہی تھی اور رابیل بی بی کو تو ایک نئی ٹینشن لگ گئی کہ اتنی ساری لڑکیوں میں وہ کل اس لڑکی کو پہچانے گی کیسے کیونکہ سب لڑکیوں نے سیاہ عبائے اور سیاہ حجاب پہنے ہوئے تھے چلو خیر مٹی ڈالو ابھی تو گھر بھاگو بابا کو دوائی بھی دینی ہے کھانا بھی بنانا ہے رابیل اپنے دل ہی دل میں باتیں کرتی ہوئی باہر کی طرف تیز تیز بڑھنے لگی
پھر رابیل ہر روز مدرسے جانے لگی کچھ دن حسن صاحب کی طبیعت کی وجہ سے اسے مدرسے سے چھٹی کرنی پڑی مگر وہ گھر میں ہی سبق یاد کر لیتی تھی بس اسکا دل لگ گیا تھا اس کام میں اور وہ اپنی مصروفیت سے ٹائم نکال کر بھی قرآن یاد کرتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے



