CrazyLatestNida e EmanRomantic

Faqeer e Muhabat by Nida e Eman Episode 3

Faqeer e Muhabat Episode 3 by Nida e Eman – cover
Language
Urdu

About this novel

Faqeer e Muhabat (Urdu: فقیر محبت) Episode 3 by Nida e Eman picks up right after the accusation. Rabail’s family is torn apart, her father stands by her, and a quiet new life begins in a dusty old house. Meanwhile Sadaf Begum strikes a deal with Jahanzeb, and an unexpected message lights up Rabail’s phone.

In the past, young Baran begs to leave the haveli for a hostel in Lahore, years later learns why his father Dilawar Khan married again, and clashes with the woman who took his mother’s place, while Khan sets off on a journey that could keep him away for months. The episode ends with news that breaks Rabail’s heart.

← Read Episode 2 · Episode 1

ناول: فقیر محبت
ازقلم: ندائے ایمان
میری ماں کے نام
تیسری قسط

دوسرا دن

“دیکھو جہانزیب میں نے تمہاری بات مان کر اس لڑکی سے مل لیا ہے ہاں مانا مجھے ابھی تک وہ کچھ خاص پسند نہیں آئی

ابھی کل تمہارے سامنے میں نے اس لڑکی کو کہا کہ میرے کمرے میں آنا پر وہ نہیں آئی

مگر میں نے تمہاری بات مان لی ہے”

اس وقت جہانزیب اپنی ماں کے کمرے میں موجود تھا صدف بیگم نے خاص اپنے بیٹے کو کوئی اہم بات کرنے کے لیئے بلایا تھا

“اب تمہیں بھی میری بات ماننی ہو گی”

صدف بیگم نے اپنے بیٹے کے سامنے سمندر رکھ دیا اسکے پیچھے تو کھائی تھی ہی

“تھینکیو امی آپ نے میری بات کا مان رکھا آپ کہیں مجھے کیا بات ماننی ہو گی آپکی”

اسکے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اپنی ماں کی بات ماننے کے کہیں اگر وہ اپنی ماں کی بات ماننے سے انکار کرے اور اسکی ماں سلینہ کو گھر سے چلتا ہی نا کر دیں

“جہانزیب تم نے مجھے کہا تھا کہ کسی کو جانے بغیر کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے تم بھی تو رابیل کو جانے بغیر اسکے بارے میں رائے قائم کر رہے ہو کہ وہ سلینہ سے اچھی نہیں ہے”

صدف بیگم اپنے بیٹے کے تاثرات باریکی سے پڑھ رہی تھیں جو الجھن میں لگتا تھا

” تو آپ کیا چاہتی ہے” ؟

اسنے بات کو واضع کرنا ضروری سمجھا

“یہی کہ تم رابیل کو جان لو پھر تمہیں جو ٹھیک لگے اسی سے شادی کرنا میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ رہوں گی چاہے۔۔۔۔۔۔۔۔”

انہوں نے اپنی بات کو ادھورا چھوڑا

“چاہے” ؟

جہانزیب نے ایک ابرو تھوڑا بلند کرتے ہوئے استفسار کیا

“چاہے تمہیں سلینہ ہی کیوں نا ٹھیک لگے”

صدف بیگم نے مکمل اعتماد سے اپنے بیٹے کو دیکھا جیسے انہیں یقین ہو کہ رابیل کو کوئی نا پسند کر ہی نہیں سکتا

کچھ دیرکے لیئے کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی

“ٹھیک ہے امی میں آپکی بات مان لیتا ہوں”

جہانزیب نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا وہ خود کو آرام دہ کرنا چاہتا تھا کیونکہ اسکے کندھوں سے بوجھ جو ہٹ گیا تھا اب ظاہر ہے اسے رابیل کبھی اچھی نہیں لگ سکتی تھی سلینہ کے مقابلے میں

“مگر آپ اپنی بات پر قائم رہیئے گا”

اسے اپنی ماں کی بات پر شک نہیں تھا بس وہ خود اس بات کا یقین کرنا چاہتا تھا کہ یہ سب واقع سچ ہے

ہممم۔۔۔۔۔!

اسکی ماں نے سر کے اشارے سے اسے تسلی دی

اسکے ہونٹوں پر بھی ہلکی مسکراہٹ نے جگہ بنا لی

“تم چاہو تو اس لڑکی کو اسکے گھر بھیج دو”

صدف بیگم بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے سامنے آ کھڑی ہوئیں کھڑکی کے باہر سورج غروب ہونے کو تیار تھا

“امی کیا سلینہ یہاں پر دو چار دن مزید رک سکتی ہے”؟

جہانزیب بھی چل کر اپنی ماں کے ساتھ کھڑا ہو گیا اسکی نظریں ڈوبتے سورج پر تھیں

“ہممم رہ سکتی ہے”

صدف بیگم نے عام سے انداز میں کہا انکی نظریں بھی ڈوبتے سورج پر ہی تھیں

“مگر جہانزیب ۔۔۔۔”

انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا

جہانزیب نے بھی اپنی ماں کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“مگر اسے جلدی بھیج دینا نورتھ میں ٹھنڈ بہت ہوتی ہے اسکی طبیعت نہ بگھڑ جائے۔۔۔۔۔۔ اسکے گھر والے اسکے لیئے پریشان ہونگے پھر”

کیا ۔۔۔۔ ؟ کیا صدف بیگم جانتی تھیں کہ سلینہ اپنے گھر میں جھوٹ بول کر آئی ہے

جہانزیب جہاں تھا وہاں کا وہیں شل ہو گیا اس سے ہلا تک نہ گیا وہ ٹکٹکی باندھ کر اپنی ماں کو دیکھے گیا

نہیں جب سلینہ نے اسے یہ بتایا تھا تو وہ دروازہ کھول چکا تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا اسنے دیکھا تھا ایسا نہیں تھا کہ اسکی ماں دروازے کے ساتھ کان لگا کر انکی باتیں سن رہی تھیں پھر انہیں کیسے پتہ چلا

” تم جو بھی کہو جہانزیب میں تمہاری ماں ہوں میں نے دنیا تم سے زیادہ دیکھی ہے میرے لیئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ جھوٹ بول کر آئی ہے میں جانتی ہوں”

وہ رکیں

جہانزیب دوبارہ ڈوبتے سورج کو دیکھنے لگا

“میں جانتی ہوں وہ کل میرے کمرے میں کیوں نہیں آئی کیونکہ اسے ڈر تھا میں اسکی فیملی کے بارے میں اس سے سوال نہ کروں

تم جتنا جلدی ہو سکے اسے یہاں سے بھیج دو”

صدف بیگم نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو انہیں نہیں دیکھ رہا تھا

“تمہیں بچپن میں ڈوبتا سورج بہت پسند تھا”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولیں

صدف بیگم اپنے بیٹے کو ہی دیکھ رہی تھیں

“جی امی مجھے ڈوبتا سورج بہت پسند تھا مگر مجھے اب لگ رہا ہے کہ میں اس سورج کے ساتھ خود بھی ڈوب رہا ہوں”

اسکی آنکھوں میں کچھ گلابی سا تیرنے لگا

آخر کیوں اسکی ماں اسکی شادی سلینہ سے نہیں کروا دیتیں آخر کیا برائی ہے اس میں وہ بس یہ سوچ کر رہ گیا

“کبھی کبھی دوبارہ طلوع ہونے کے لیئے ہمیں ڈوبنا پڑتا ہے جہانزیب”

اسنے اپنی ماں کو دیکھا وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھیں

وہ مسکرایا ۔۔۔۔۔۔ اسکی مسکراہٹ میں کچھ عجیب تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ نہیں ماں آپ غلط کہہ رہی ہیں

پھر وہ اپنی ماں کو وہیں کھڑا چھوڑ کر انکے کمرے سے نکل گیا

“میں صحیح کہہ رہی ہوں جہانزیب کبھی کبھی ہمیں ڈوبنا پڑتا ہے تاکہ دوبارہ طلوع ہو سکیں”

انکی آواز بہت آہستہ تھی

وہ وہیں کھڑی ڈوبتے سورج کو دیکھتی رہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی

بابا زہ دي ځای کی نه شم

“بابا مجھے یہاں نہیں رہنا “

چرا؟

“کیوں”

Baba I don’t like this place please baba please send me to the hostel please

وہ نو سال کا بچہ اپنے باپ کے سامنے منتیں کررہا تھا کہ اسے یہ جگہ نہیں پسند اور وہ اسے ہوسٹل بھیج دیں

Baran but why this is your home you should stay here with me and your grandfather

انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے گود میں بٹھا لیا

Baba my school in lahore Offer the facility of hostel also and I don’t want to leave my school and my friend please baba

وہ بچہ شاید واقع اپنا سکول اور اپنے دوست نہیں چھوڑنا چاہتا تھا یا کوئی اور بات تھی

ان دونوں باپ بیٹے کو یہاں آئے ایک مہینہ ہو گیا تھا لیکن اس بچے کو ابھی تک وہ جگہ پسند نہیں آئی تھی وہاں تو وقفے وقفے سے گولی چلنے کی آواز آتی رہتی تھی پہلے پہل تو وہ بچہ گولی کی آواز سے ڈر جاتا تھا مگر پھر اسے اسکی عادت ہو گئی۔ اور بھی بہت چیزیں تھیں جو اسے بلکل پسند نہیں تھیں وہ یہاں نہیں رہنا چاہتا تھا ہرگز نہیں

I think u are right baran you shouldn’t leave your school and friends

زہ تا ته سبا په اسلام اباد ووم

“میں تمہیں کل ہی اسلام آباد لے جاؤں گا”

وہ اپنے جان سے پیارے بیٹے کو اکیلے لاہور بھیجنے پر راضی ہو گئے اتنی جلدی کچھ تھا جو کھٹک رہا تھا ہاں کوئی تو بات تھی شاید وہ پہلے ہی اسے کہیں دور بھیجنے کے بارے میں سوچ رہے تھے مگر وہ بچہ اس سب کو پہچاننے سے قاصر تھا

Thank you baba I am so happy

وہ نو سال کا بچہ واقع بہت زیادہ خوش نظر آنے لگا

مگر اسکے باپ کے ماتھے پر کچھ چمکنے لگا وہ ننھی ننھی پانی کی بوندیں مگر کیوں ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“رابیل نے جو کیا ہم اسے چھپا لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ لڑکے تم بس اپنی زبان بند رکھنا”

حسین صاحب نے جہانزیب کو وارن کیا

“بھائی صاحب کیا آپ بھی گھر کی بچی پر شک کر رہے ہیں”

حسن صاحب نے افسوس سے اپنے بھائی کو دیکھا جو جہانزیب کو وارن کرنے کے بعد اب نظریں جھکائے کھڑے تھے

“اگر رابیل کی جگہ آپکی دانین ہوتی تو کیا آپ پھر بھی اس پر شک کرتے”

حسن زبان سنبھال کر بات کرو

حسین صاحب اپنی بیٹی کا نام سن کر بھڑک اٹھے تھے

“کیوں بھائی صاحب میری بیٹی کے بارے میں آپ نے فوراً یقین کر لیا اور اپنی بیٹی کا محض اس بات میں نام بھی آیا تو آپ کو آگ لگ گئی

تو سوچیں میرا کیا حال ہوگا”

حسن صاحب شاید زندگی میں پہلی دفعہ اپنے بڑے بھائی پر چیخے تھے

“دیکھو حسن جو ہوا سچ یا جھوٹ ہمیں اس بارے میں مل کر سوچنا ہوگا آخر ہمارے گھر کی عزت کا معاملہ ہے”

حسین صاحب نے اپنے بھائی کو سنبھالنا چاہا

“رابیل نے جو کیا ہمیں اسے چھپانا ہو گا مل کر”

حسین صاحب کی بات کسی تیر کی طرح حسن صاحب کو لگی تھی

“میری بیٹی نے ایسا کچھ نہیں کیا”

حسن صاحب انتہائی غصے میں اپنے بھائی کی طرف بڑھے ممکن تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی پر ہاتھ اٹھا دیتے

جہانزیب انکے ارادے کو بھانپتے ہوئے ان کے پیچھے لپکا

اسنے انہیں پیچھے سے پکڑ کر روکنا چاہا

“تم ہٹو پیچھے” حسن صاحب نے

جہانزیب کو دھکا دے کر خود سے الگ کر دیا

دانین اور طاہرہ بیگم بلکل سہم چکی تھیں مگر ایک وہ تھی جسے اس سب سے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا وہ تو بس اس شخص کو دیکھ رہی جو بلکل انجان بن کر اسکا تماشہ دیکھ رہا تھا بلکہ یوں کہا جائے کہ اسکا تماشہ بنا چکا تھا

“بھائی صاحب آپ سے مجھے یہ امید نہیں تھی کہ آپ بھی میری بیٹی پر شک کریں گے میں دانین پر کبھی شک نہ کرتا”

انہیں اپنے بھائی پر صرف افسوس ہوا صرف افسوس

“اٹھو رابیل اٹھو ہم یہاں ایک منٹ کے لیئے بھی نہیں رکیں گے ہم یہاں سے چلے جائیں گے بہت دور اتنا کہ تم پر شک کرنے والے وہاں کبھی نہ پہنچ سکیں”

حسن صاحب نے رابیل کو اٹھایا وہ کسی بے جان وجود کی طرح اٹھ گئی

اسے ہوش تب آیا جب اسنے اپنے باپ کے بوڑھے ہاتھوں کی ٹھنڈک محسوس کی وہ ہاتھ بہت ٹھنڈے تھے جیسے کسی مردے کے ہاتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں

پھر اسکی نظریں اپنے باپ کے چہرے پر گئیں انکے چہرے سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے تھے

انکا بوڑھا وجود زلزلوں کی زد میں تھا اسنے یہ تب محسوس کیا جب وہ قدم کہیں اور رکھتے مگر انکا وجود کہیں اور ڈھلک جاتا

کیا وہ صحیح چل رہی تھی؟ اسنے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا وہ یہ اندازہ نہیں لگا سکی کہ وہ کس سمت میں چلنے کی کوشش کر رہی ہے

آخری منظر جو اسنے اس گھر میں دیکھا تھا کہ تایا جان تائی جان اور دانین انہیں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں

جب وہ لاؤنج کا گیٹ پار کرنے لگی تھی تو اسنے اس شخص کی جھلک دیکھی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا رابیل کو لگا جیسے وہ اس پر ہنس رہا ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر سے نکلنے کے بعد اس دن اسنے تین گھنٹے بس اسٹینڈ پر گزارے بنا کچھ بولے وہ بس ایک جگہ بیٹھی رہی حسن صاحب دو تین دفعہ اپنی جگہ سے اٹھے ٹکٹس وغیرہ لینے کے لیئے اور پانی لینے کے لیئے وہ انہیں خالی خالی نظروں سے دیکھ کر پھر نظریں جھکا جاتی

اس وقت اس جگہ حد سے زیادہ شور ہونے کے باوجود اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا

لوگ روبوٹس کی طرح اس کے اردگرد چل پھر رہے تھے اسے جو منظر نظر آرہا تھا وہ بس یہ کہ اسکی ہتھیلی سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا کیونکہ وہ بس نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو ہی دیکھ رہی تھی

اسے یاد نہیں تھا کہ اسے یہ چوٹ کب لگی

شاید تب جب وہ عورت اسے اپنے ساتھ گھسیٹ رہی تھی یا تب جب جہانزیب نے پولیس اسٹیشن میں اسے تھپڑ مارا تھا اور وہ زمین پر جا گری تھی

اسے یاد نہیں تھا وہ تو اس چوٹ کو دیکھ بھی اب رہی تھی اسے پہلے درد کا احساس ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر درد کا احساس تو اسے اب بھی نہیں ہو رہا تھا

پھر اسنے اپنے آپ کو بس میں سوار ہوتے ہوئے پایا اسکے بعد کے منظر وہ یاد نہیں کر سکتی تھی بس کی سیٹ پر بیٹھتے ہی اسے بہت زیادہ گہری نیند آگئی یا شاید وہ بے ہوش ہو گئی تھی اسے نہیں یاد اسے کیا ہوا تھا وہ بس اس منظر سے غائب ہونا چاہتی تھی سو اسنے خود کو جگائے رکھنے کی کوشش بھی نہیں کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا دن

“اسلام علیکم”

“وعلیکم اسلام آپ کون” ؟

اس وقت رابیل اپنے کمرے میں موجود تھی اور موبائل پر سکرولنگ کر رہی تھی جب اسے ایک ان نون نمر سے میسج آیا

دوسری طرف سے ٹائپنگ جاری تھی

“میں جہانزیب ہوں رابیل”

دوسری طرف کا میسج پڑھ کر رابیل کو جھٹکا لگا

کچھ پل کو تو اسکا دماغ سن ہو گیا مگر پھر وہ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گئی

“آپکو میرا نمبر کہاں سے ملا ؟۔۔۔۔۔ خالہ سے لیا ہے۔”

وہ خود ہی سوال کر کے خود ہی جواب دے رہی تھی اب ظاہر ہے جہانزیب نے اسکا نمبر خالہ سے ہی لیا ہوگا اب وہ جہان سکندر تو نہیں تھا جو اسکا نمبر ہیک کر لیتا ۔

“ہاں میں نے امی سے ہی لیا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ چونکہ اب ہمارا رشتہ پکا ہو گیا ہے تو ہمیں ایک دوسرے کو تھوڑا سمجھ لینا چاہیئے۔”

جہانزیب کی بات سن کر تو پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا مگر کچھ دیر تک اس بات پر یقین کرنے کی کوشش کرنے کے بعد وہ تو ہواؤں میں اڑنے لگ گئی تھی

“جی ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ہم دونوں کزنز ہیں مگر ایک دوسرے کے بارے میں جانتے ہی کتنا ہیں ہمیں ایک دوسرے کو شادی سے پہلے کم سے کم تھوڑا بہت جان لینا چاہیئے”

جہانزیب غلط ہو کیسے سکتا ہے اسی لیئے تو رابیل بی بی اسکی ہاں میں ہاں ملائے جا رہی ہیں

“تم ٹھیک ہو رابیل مطلب طبیعت صحت ٹھیک ہے”

“جی میں بلکل ٹھیک ہوں الحمدللہ آپ کیسے ہیں”؟

وہ بلکل موبائل میں غرق ہو کر اسکے میسجز کا جواب دے رہی تھی کیونکہ اب تک سائنس نے کوئی ایسی دوا نہیں بنائی جو رات کو ایک نامحرم سے بات کرنے کے نشے کو کم کر سکے اور جس کو ایک بار یہ لت لگ جاتی ہے وہ پھر بہت پچھتاتے ہیں بہت زیادہ

“ہمم میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔

رابیل ابھی بہت رات ہو گئی ہے ہم کل بات کرتے ہیں ٹھیک ہے”

“جی ٹھیک ہے” رابیل نے اسے خدا حافظ کہہ کر وائے فائے بند کر دیا جس سے دوسری طرف والے کو اسکا آن لائن ہونا ظاہر نہ ہو

پر وہ اتنی جلدی کہاں سونے والی تھی ابھی اسکو ان میسجز کو ہزاروں دفعہ پڑھ کر اس بات کا یقین کرنا تھا کہ اسنے جہانزیب سے بات کی ہے اور اسکی شادی جہانزیب سے ہونے والی ہے اور جہانزیب اس بات سے راضی ہے جہانزیب اس سے شادی کرنے کو راضی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی

دلاور خان باران کو ہوسٹل چھوڑ آئے تھے۔ پہلے پہل مہینے میں ایک بار دلاور خان باران کو بلا لیتے اور وہ خان حویلی جاتا پھر آہستہ آہستہ وہ چھے مہینے میں ایک بار اور پھر سال میں ایک دفعہ حویلی آنے لگا دلاور خان بھی ڈیرہ سنبھالنے میں مصروف رہتے کیونکہ اب دستار انکے سر پر رکھ دی گئی تھی ۔ جب دسویں کے امتحانات کے بعد سولہ سال کا باران حویلی آیا تو پہلی دفعہ اسے اپنے دادا کی بیماری کا پتہ چلا وہ گیا تھا انکے کمرے میں انسے ملنے ایک یا شاید دو دفعہ دلاور خان کے ساتھ

مگر تھوڑے دنوں کے بعد وہ وہاں سے لوٹ آیا کیونکہ اب اسکا کالج شروع ہونے والا تھا۔

پھر دو مہینوں کے بعد وہ اپنے دادا کے انتقال کی خبر سن کر آیا تھا پہلے پہل اسے کسی قسم کی تبدیلی کا اندازہ نہ ہوسکا مگر پھر اسنے ایک عورت کو دیکھا جو مکمل اختیار کے ساتھ اس حویلی میں گھوم رہی تھی جھٹکا تو اسے تب لگا جب اسنے ملازموں سے اسکے لیئے خان بی بی کے الفاظ سنے اسے پتہ تھا خان بی بی کسے کہا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسے جو سردار کی بیوی ہوتی ہو اور سردار تو دلاور خان تھے

دلاور خان نے دوسری شادی کر لی تھی ہاں اسکے باپ نے دوسری شادی کر لی تھی اسکی ماں کی جگہ کسی اور کو دے دی تھی اسکے باپ نے۔

وہ وہاں سے چپ چاپ لوٹ آیا اسنے حویلی آنا مزید کم کر دیا بلکہ یوں کہا جائے کہ وہ اسکے بعد کبھی حویلی گیا ہی نہیں جب تک اسنے اپنی پڑھائی مکمل نا کر لی اور پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بھی وہ کبھی حویلی نہیں گیا ۔ دلاور خان آئے تھے چند دفعہ مگر باران نے انسے کسی بات کا ذکر نہیں کیا تھا کوئی شکایت نہیں کی۔ دلاور خان نے بھی اپنی دوسری شادی کے بارے میں اسے نہیں بتایا

“دیکھو باران اب تو تمہاری پڑھائی کو مکمل ہوئے بھی دو سال ہو گئے ہیں اب تو چلو حویلی”

اس وقت دلاور خان باران کے فلیٹ میں موجود تھے یہ فلیٹ باران نے خود اپنے پیسوں سے لیا تھا مختلف جوبز کر کے یا کچھ اور مگر یہ بلکل اسکا ذاتی فیلٹ تھا

اسنے اپنے باپ کو ایک نظر دیکھا وہ اب بوڑھے ہو گئے تھے انکے سر میں آدھے سے زیادہ بال سفید تھے داڑھی تو وہ رکھتے ہی نہیں تھے شروع سے ہی کیونکہ مریم ( باران کی ماں ) کو داڑھی نہیں پسند تھی اسکے بعد انہوں نے مونچھے بھی نہیں رکھیں باران کو یاد تھا شاید ایک یا دو دفعہ اسنے اپنے باپ کو مونچھوں کے ساتھ دیکھا تھا خوبصورت بڑی بڑی مونچھیں

اسے بہت شوق تھا مونچھیں رکھنے کا وہ اکثر اپنے باپ سے پوچھتا تھا کہ میری مونچھیں کب آئیں گی اسکی بات پر دلاور خان صرف ہنستے ہی رہتے مگر پھر انہوں نے مونچھیں رکھنا بھی چھوڑ دیا

انکے چہرے پر تھوڑی بہت جھریاں پڑ گئی تھیں جو انکے وقار کو مزید بڑھاتی تھیں

“نہیں ڈیڈ میں وہاں نہیں جا سکتا ابھی مجھے کچھ کام ہے یہاں”

اسکی آواز۔۔۔۔۔۔ اسکی آواز اب بچوں جیسی نہیں رہی تھی اسکی آواز بلکل اپنے باپ جیسی تھی رعب دار مزید یہ کہ اسکے چہرے پر بھی داڑھی یا مونچھیں نہیں تھیں وہ بلکل اپنے باپ کی جوانی لگ رہا تھا

“کیا کام ہے یہاں مجھے وہاں تمہاری ضرورت ہے اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں میں چاہتا ہوں کہ دستار تمہارے سر پر رکھ دوں اور اپنی زندگی میں ہی تمہیں سب سیکھا دوں”

انہوں نے اپنے بیٹے کے تاثرات دیکھنے کی کوشش کی کہ دستار والی بات سن کر آیا اسکے تاثرات بدلتے ہیں کہ نہیں کیونکہ دلاور خان کو ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں انکا اکلوتا بیٹا انکی دستار سنبھالنے سے منع ہی نا کردے

مگر باران کا چہرا بلکل سپاٹ رہا

“ڈیڈ مجھے تھوڑا وقت دیں میں خود کچھ وقت تک وہاں آ جاؤں گا”

باران کی بات سن کر دلاور خان کے سارے خدشات دور ہوگئے

“تھینکیو بیٹا “

دلاور خان واقع اپنے بیٹے کے مشکور نظر آ رہے تھے

“تمہارا اپارٹمنٹ بہت خوبصورت ہے ہر چیز اس بات کا ثبوت دے رہی ہےکہ یہ دلاور خان کے بیٹے کا اپارٹمنٹ ہے بلکل ہمارے اس لاہور والے گھر کی۔۔۔۔۔۔۔”

وہ کچھ بولتے بولتے رک گئے

ایک نظر انہوں نے پھر باران کے تاثرات پر ڈالی مگر اسکا چہرا ابھی بھی سپاٹ تھا

انہیں لگا اب انہیں خاموش ہو جانا چاہیئے کیونکہ سامنے والا انکی کسی بات میں دلچسپی نہیں رکھتا شاید

“میں بھی کافی لوں گا”

باران کو کچن کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ بولے

باران بنا کوئی اثر لیئے کچن طرف بڑھتا گیا

وہ ایک اوپن کچن تھا یعنی لاونج سے کچن کے اندراور کچن سے پورا لاونج با آسانی دیکھا جا سکتا تھا کچھ دیر دلاور خان باران کو مہارت سے کچن میں کام کرتے ہوئے دیکھتے رہے اور وہ جو آیا تو کافی بنانے ہی تھا پر صرف اپنے لیئے اب مجبوراً اسے دلاور خان کے لیئے بھی کافی بنانی پڑ رہی تھی

کچھ دیر بعد اسنے گرم کافی سے بھرا ایک کپ دلاور خان کے سامنے رکھا اور دوسرا کپ اپنے ہاتھ میں پکڑے اپنی پہلے والی نشست پر آ بیٹھا ۔ دلاور خان نے بنا کوئی دیر کیئے کافی کا کپ ہونٹوں کو لگا لیا

یہ بلکل ویسی کافی تھی جیسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بنایا کرتی تھی باران کی ماں دلاور خان کی بیوی مریم۔ دلاور خان مریم کو یاد کرتے ہوئے اداس ہو گئے

“بیٹا میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں “

دلاور خان کے لہجے میں تھوڑی جھجھک تھی

“بابا میں وہاں آجاؤں تو۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر کھل کر ساری باتیں کریں گے ابھی رہنے دیں”

باران نے انہیں کچھ بھی کہنے سے روک دیا اسکا لہجہ کچھ الگ سا تھا کچھ جتانے والا جیسے اسنے اپنے باپ کی چوری پکڑ لی ہو اور وہ وقت پڑنے پر انہیں اس بات کی سزا دینے والا ہو

اسکے لہجے پر دلاور خان نے بخوبی غور کیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے ہوش تب آیا جب بس ایک جھٹکے سے رکی وہ سیٹ سے گرتے گرتے سنبھلی

کچھ دیر اسے یہ سب سمجھنے میں لگ گئ کہ وہ یہاں کیسے آئی

“رابیل بیٹا چلو”

حسن صاحب کی آواز پر وہ اپنی جگہ سے اٹھی اس وقت اسکی کمر میں درد کی ایک ٹیس ابھری شاید وہ کرسی ارام دہ نہیں تھی

اسنے اچانک اپنے باپ کو دیکھا

کیا انکی کمر میں بھی درد ہے

نہیں وہ تو آرام سے چل رہے ہیں آرام سے وہ بس سے اتر گئے

اسنے خود کو دیکھا میں بھی آرام سے چل رہی ہوں میں بھی آسانی سے بس سے اتر گئ

کیا میں بھی انکی طرح درد چھپا رہی ہوں

اسکے پیچھے ایک آدمی بس سے اترا وہ تقریباً حسن صاحب کی ہی عمر کا ہوگا

وہ شخص بس سے اترتے ہی ساتھ رکھے بینچ پر ڈھے سا گیا صاف ظاہر تھا کہ وہ تھک گیا ہے اور اسکی کمر میں درد ہے

پھر اسنے اپنے باپ کو دیکھا جو اسکے آگے آگے تیزی سے چل رہے تھے

کیا انہیں درد نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ وہ صرف یہ سوچ کر رہ گئی

یا شاید بیٹیوں کے باپ کو مضبوط ہونا پڑتا ہے جیسے وہ مضبوط تھے

اسے اپنے باپ پر ترس آیا

اور اسے لگا وہاں موجود ہر شخص اس پر ترس کھا رہا ہے

اسنے جو غلطی کی تھی شاید اس کی سزا یہی ہے کہ وہ ہر پل یہ شرمندگی محسوس کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرا دن

“رابیل تمہیں چچا بلا رہے ہیں”

دانین کمرے میں داخل ہوئی تو رابیل کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا رابیل نے شکر کا سانس لیا اور ایک گھوری سے دانین کو نوازا

“یہ کیا تم ہر وقت موبائل میں گھسی رہتی ہو”

دانین نے اسکے ہاتھ میں موبائل کو دیکھتے ہوئے کہا

“تو تمہیں کیا پرابلم ہے”

رابیل چڑی

“اچھا اچھا بنو مت اب جلدی چلو چچا بلا رہے ہیں” دانین کو اسکے تیور دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اسکے منہ نہیں لگنا چاہیئے سو وہ بات ختم کرتی کمرے سے نکل گئی

“جہانزیب مجھے بابا بلا رہے ہم بعد میں بات کریں” ؟

رابیل نے میسج ٹائپ کر کے سینڈ کیا

جہانزیب اور رابیل کو دو گھنٹے ہو گئے تھے ایک دوسرے سے بات کرتے ابھی بھی اگر حسن صاحب اسے نہ بلاتے تو رابیل میڈم نے وہیں بیٹھے رہنا تھا

” ٹھیک ہے”

دوسری طرف کا میسج پڑھ کو وہ باہر جانے کے لیئے بیڈ پر رکھا دوپٹہ سر پر جمانے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مجھے لگتا ہے جہاںزیب مجھے اب یہاں سے چلے جانا چاہیئے”

اس وقت جہانزیب اور سلینہ ایک ریسٹورنٹ کی اوپری منزل پر بیٹھے تھے جہاں سے بادشاہی مسجد کا نظارہ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا

“تم ٹھیک کہہ رہی ہو سلینہ تم میرے لیے یہاں آئی میرا مان رکھا مجھے نہیں معلوم میں تمہارا احسان کس طرح چکاؤں گا”

وہ واقعی سلینہ کا مشکور نظر آتا تھا ایک ٹھنڈی ہوا کی جھونکے نے ان دونوں کو چھوا اور اگے بڑھ گئی

“جہاںزیب ایسی کوئی بات نہیں ہے تم جانتے نہیں ہو میں تمہارے لیے کیا کر سکتی ہوں یہ تو بہت چھوٹا سا کام تھا”

اس نے کندھے اچکاتے

“ہاں ہاں سلینہ مجھے پتا ہے تم تو ہر کام بہت آسانی سے کر لیتی ہو” جہانزیب نے مینیو کارڈ اٹھایا

“کیا کھاؤ گی سلینہ۔۔۔۔ اووو رکو مجھے پتا ہے تم کیا کھاؤ گی وہی پاستہ ہے نا” ؟

جہانزیب نے کیا خوب اندازہ لگایا تھا اسے پتا تھا سلینہ کی پسند ناپسند یہاں تک کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ سلینہ کو اس سے بھی زیادہ جانتا تھا

“یس میں پاستہ ہی کھاؤں گی جلدی کرو مجھے بہت زیادہ بھوک لگ رہی ہے”

سلینہ نے ڈرامائی انداز میں اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

” اوکے اوکے منگوا رہا ہوں”

جہاںزیب نے ایک ہاتھ اٹھا کر ویٹر کو اپنی طرف بلایا

“جہانزیب مجھے نہیں پتا میں تمہاری امی کو منا پائی ہوں کہ نہیں مگر میں اتنا ہی کر سکتی تھی جو میں نے کیا اس کے علاوہ اور میں کچھ نہیں کر سکتی اور کچھ بھی میرے بس میں نہیں ہے”

سلینہ ایکدم سیریس ہو گئی تھی

“سلینہ تم نے جو بھی کیا وہ بہت زیادہ ہے اب جو بھی کرنا ہے مجھے کرنا ہے اب میں مزید تمہیں تکلیف نہیں دوں گا تم نے جو کیا۔۔۔۔۔۔۔وہ سانس لینے کے لیئے رکا

جو بھی کیا میں زندگی بھر اس کا احسان نہیں چکا پاؤں گا ” جہانزیب نے میز پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینی چاہیے

“اگر تمہاری امی نہ مانی تو۔۔۔۔۔”

وہ کچھ دیر کو رکی جہاںزیب نے اس سے نظریں چرا لیں وہ اب بادشاہی مسجد کو دیکھ رہا تھا سلینہ کو شاید اس کا جواب مل چکا تھا مگر پھر بھی وہ اپنی بات پر قائم رہی

تو جہاںزیب کیا تم مجھ سے شادی نہیں کرو گے سلینہ نے اپنے دل کے سارے خدشات جہاںزیب کے سامنے بیان کر دیے مگر وہ یوں ہی بادشاہی مسجد کو دیکھتا رہا

“سلینہ میں نے امی سے یہی کہا ہے کہ اگر انہیں تم پسند نہ آئی تو میں تم سے شادی نہیں کروں گا مگر سلینہ تم خود سوچو تم نے میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے میں کیسے تم سے شادی نہ کروں۔ سلینہ تم اپنے دل کے سارے خدشات نکال دو میں تم سے ہی شادی کروں گا اور صرف تم سے ہی شادی کروں گا خواہ مجھے اس کے لیے اپنی ماں کے خلاف ہی کیوں نہ جانا پڑے”

جہاںزیب اپنی کرسی سے اٹھ کر دو قدم آگے بڑھتا گرل تھام چکا تھا وہ گرل بہت مظبوط تھی بہت زیادہ مضبوط یہاں سے بادشاہی مسجد کا نظارہ اور بھی خوبصورت نظر آ رہا تھا سلینہ بھی اٹھ کر اس کے ساتھ آ کھڑی ہوئی

” مجھے یقین ہے تمہاری بات پر جہانزیب مگر نہ جانے کیوں مجھے ڈر لگ رہا ہے مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ برا ہو جائے گا “

سلینہ نے ہوا کی وجہ سے اڑنے والے بالوں کو اپنے کان کے پیچھے کر دیا مگر وہ بال پھر ہوا کی وجہ سے اڑنے لگے

“تمہیں کیوں ڈر لگ رہا ہے تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے کیا ؟ اگر تم نے اب ایک بار بھی یہ کہا کہ تمہیں ڈر لگ رہا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دھمکی یاد کرنے کے لیے رکا تو میں تم سے واقعی شادی نہیں کروں گا “

جہاںزیب کا انداز اسے چھیڑنے والا تھا

“ہاں جیسے تمہاری اتنی مجال ہے کہ تم مجھ سے شادی نہ کرو اور ویسے بھی تم سے اور کون شادی کرے گا ایک میں ہی ہوں جو تمہارے آگے پیچھے پھرتی ہوں”

سلینہ نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو جھٹکا

“اچھا اچھا مس سلینہ پلیز مجھے چھوڑیئے گا مت مجھے تو کوئی اور ملے گی ہی نہیں پہلے ہم کھانا کھا لیتے ہیں پھر بعد میں یہ شوخیاں مار لیں گے ہمم”

جہاں زیب نے ایک بلند قہقہے کے درمیان کہا

“ہاں چلو مجھے ویسے بھی بھوک لگی ہے”

اس نے ایک بار پھر اپنے بالوں کو جھٹکا اور اپنی کرسی کی طرف بڑھ گئی جہاںزیب بھی اس کے پیچھے نفی میں سر ہلاتا ہوا بڑھا جیسے کہہ رہا ہو کہ اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“خان تم کہاں جا رہے ہو اتنی جلدی میں “

خان نے بدر کو اسکے فلیٹ کے باہر بلوایا تھا تاکہ وہ آرام سے اس سے بات کر سکے اب منظر یہ تھا کہ خان ایک سیاہ گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے ہوئے تھا اور بدر سخت تپتی دھوپ میں سڑک کے کنارے اس سیاہ گاڑی چلانے والے سے بات کر رہا تھا بدر ایک ہاتھ گاڑی کی چھت پر رکھ کر تھوڑا جھکا ہوا تھا

“بابا کی طبیعت نہیں ٹھیک مجھے وہاں جانا ہوگا ۔ مجھے نہیں پتا وہاں کیا حالات ہیں ممکن ہے وہ ۔۔۔”

وہ رک گیا ، اس سے آگے والا جملہ کہا نہیں گیا شاید

“ہمم ٹھیک ہے تم جاؤ وہاں پہنچ کر کال کرنا۔ یہاں کی فکر مت کرنا میں سنبھال لوں گا ۔”

بدر نے سر کے اشارے سے اسے تسلی دی یا کچھ اور کیونکہ وہ جانتا تھا خان کو اسکی تسلیوں کی ضرورت نہیں ہے

“ہو سکتا ہے مجھے وہاں کچھ مہینے لگ جائیں ۔ میرے سارے بچے ہوئے کام میں خود آ کر کر لوں گا اور جس کو زیادہ جلدی ہو کام کروانے کی تو تم اسے دیکھ لینا ہمم”

خان نے آخری بات کہتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کردی اور سن گلاسز بھی لگا لیئے

“ہممم اپنا خیال رکھنا”

بدر گاڑی سے ایک قدم دور ہو کر سیدھا کھڑا ہو گیا جبکہ خان اسے ایک نظر دیکھتا گاڑی زن سے بھگا تا ہوا آگے لے گیا ۔اس تپتی دھوپ میں بدر کچھ لمحوں کے لیئے وہیں کھڑا رہا اور پھر اپنے فلیٹ کے اندر بڑھ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے باپ کے پیچھے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ایک گھر میں داخل ہوئی لوہے کا چھوٹا گیٹ پار کر کے وہ کچھ لمحات کو ٹھہر گئی وہ گھر بہت پرانا معلوم ہوتا تھا جیسے یہاں کئی برسوں سے کوئی نہ رہا ہو

اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے باپ سے یہ پوچھ سکے کہ یہ کس کا گھر ہے بس وہ چپ چاپ اپنے باپ کے پیچھے آگے بڑھتی گئی گھر میں جگہ جگہ مکڑی کے جالے لگے ہوئے تھے اور دھول مٹی تو اتنی کہ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا البتہ فرنیچر کو سفید کپڑوں سے ڈھانپا ہوا تھا یہ توقع تھی کہ فرنیچر بہتر حالت میں موجود ہوگا

“بیٹا تم فکر مت کرنا ہم دونوں مل کر اس گھر کو بہت اچھے سے صاف کر دیں گے یہ گھر اتنا بھی پرانا نہیں ہے جتنا لگ رہا ہے بس صفائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے”

حسن صاحب نے صوفے پر سے وہ سفید کپڑا ایک جھٹکے سے کھینچا

دھول مٹی کا مانو ایک طوفان ہوا میں اڑ چکا تھا حسن صاحب کو تو نہ ختم ہونے والی کھانسی نے آن گھیرا وہ بنا رکے کھانستے ہی گئے

“بابا۔۔۔۔۔۔ بابا آپ نہ کریں میں کر لوں گی آپ ادھر آئیں بیٹھیں یہاں پر ” اسنے آرام سے ایک صوفے سے کپڑا ہٹایا تاکہ کوئی دھول مٹی اڑ نہ سکے اور اپنے باپ کو اس صوفے پر بٹھایا “پانی بھی نہیں ہے یہاں پر”

اس نے آس پاس پانی کی تلاش میں نظریں گھمائیں مگر وہاں پانی موجود نہیں تھا

“بیٹا یہ گھر بہت زیادہ گندا ہے تم اکیلے کیسے کرو گی” حسن صاحب نے گھر کو ایک نظر دیکھتے ہوئے کہا

“بابا آپ فکر نہ کریں میں کر لوں گی پہلے میں آپ کا کمرہ صاف کرتی ہوں آپ وہاں جا کر آرام کریں مجھے پتہ ہے آپ کی کمر میں درد ہو رہا ہے شدید درد”

وہ اپنے باپ کو وہیں بیٹھا چھوڑ کر اندر کی جانب بڑھ گئی

کچھ لمحوں کے لیے حسن صاحب اپنی کمر کے درد کو بھول چکے تھے مگر جیسے ہی رابیل نے انہیں یاد دلایا تو ایک بار پھر جیسے ان کی کمر میں درد شروع ہو چکا تھا آخر ان کی بیٹی کو پتہ چل ہی گیا کہ ان کی کمر میں کتنا درد ہے حالانکہ انہوں نے بہت چھپانے کی کوشش کی مگر بیٹی کو پتہ چل جاتا ہے کہ باپ تکلیف میں ہے یا نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا آپ کو پتہ ہے میں کتنی پریشانی میں یہاں آیا تھا

مجھے لگا آپ کی طبیعت واقعی خراب ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ یہاں مزے سے بیٹھے میرا تماشہ دیکھ رہے ہیں”

اسے اپنے باپ پر شدید غصہ آ رہا تھا مگر وہ کیا کرتا آخر وہ ان کا بیٹا تھا ان پر اپنے غصے کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا اس لیے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہوئے شکایت کر رہا تھا

“اب میں کیا کرتا باران تم نے یہاں انے سے منع کر دیا تھا تو میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا” وہ بلکل کسی معصوم بچے کی طرح ایکٹنگ کر رہے تھے جس نے جھوٹ بولا ہو اور اب صفائی دے رہا ہو کہ اسے سزا نہ دی جائے

” توآپ کو لگا میں جھوٹ بول کر اسے بلوا لیتا ہوں ہے نا ؟ لیکن بابا میں یہاں نہیں رہوں گا میں ابھی واپس جا رہا ہوں اس نے اپنا سامان اٹھایا اور واپس مڑ گیا”

“اگر آج یہاں تمہاری ماں موجود ہوتی تو کیا تم پھر بھی مجھے ایسے یہاں پر چھوڑ کے چلے جاتے”

اس کے بڑھتے قدموں کو ان کے الفاظ نے روک دیا وہ کچھ پل کو سکتے میں رہا اس نے ضبط سے اپنی انکھوں کو بند کر کے کھولا

“بابا آپ جانتے ہیں مجھے اس بات سے کتنی تکلیف ہوتی ہے پھر بھی آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں کیوں ؟”

وہ بنا مڑے اپنے باپ سے شکایت کر رہا تھا

“بیٹا میں تو صرف پوچھ رہا ہوں تم سے کیا اگر تمہاری ماں یہاں موجود ہوتی تو تم اپنے باپ کو چھوڑ کے چلے جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں تم یہیں رکتے ہمارے پاس تمہیں تو اندازہ ہی نہیں ہے کہ اگر تم اپنی ماں کے جانے کے بعد اکیلے ہو گئے ہو تو میں بھی اکیلا ہو گیا ہوں تم کیوں نہیں سمجھتے باران کیوں نہیں سمجھتے تمہارا باپ اکیلا ہے اسے اپنے بیٹے کی ضرورت ہے اور تم ہو کے اتنے سالوں سے یہاں ایک بار بھی نہیں آئے تم نے نہیں دیکھا تمہارا باپ یہاں زندہ ہے کہ مر گیا ایک بار بھی نہیں”

اسے لگا اس کا باپ رو رہا ہے مگر وہ پلٹا نہیں ویسے ہی کھڑا رہا “بابا آپ اکیلے نہیں ہیں آپ کے پاس آپ کی دوسری بیوی موجود ہے اکیلا تو میں ہو گیا ہوں۔”

اگر اس کا باپ اس کو تکلیف دینے والے الفاظ کہہ سکتا تھا تو کیا وہ نہیں کہہ سکتا تھا وہ اپنے باپ سے رخ موڑے کھڑا رہا

“باران تم نہیں جانتے میں نے یہ شادی مجبوری میں کی تھی”

دلاور خان اپنے بیٹے کی طرف بڑھے انہیں اب اپنے بیٹے کو سب بتانا تھا کہ ان کی کیا مجبوری تھی انہوں نے یہ شادی کی

“بابا کیا مجبوری تھی آپ کی”

وہ یکدم اپنے باپ کی طرف پلٹا دلاور خان وہیں رک گئے

“بابا کوئی بھی مجبوری اتنی بڑی نہیں ہو سکتی کہ آپ میری ماں کی جگہ کسی اور کو دے دیں آپ یہاں اس عورت کو چلتے پھرتے میری ماں کی جگہ دیکھ سکتے ہیں لیکن میں نہیں دیکھ سکتا” باران نے وہاں موجود اس عورت کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا

“میں یہاں نہیں رہ سکتا اور آپ مجھے نہیں روکیں گے اگر آپ نے مجھے روکنے کی کوشش کی بابا تو میں آپ کو اپنی شکل زندگی بھر نہیں دکھاؤں گا”

دلاور خان نے پہلی بار باران کو اتنے غصے میں دیکھا تھا وہ کہیں نہ کہیں اپنے دادا جیسا تھا بالکل ان کے جیسا غصہ آخر خون جو ان کا تھا

“باران تمہیں کم از کم اپنے باپ کو ایک موقع تو دینا چاہیئے یہ بتانے کا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا”

کیا دلاور خان کو واقعی یہ لگا تھا کہ باران ان کو کچھ کہنے کا موقع دے گا مگر نہیں باران نے انہیں موقع نہیں دیا

“بابا میں کچھ بھی نہیں سننا چاہتا پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں اگر میں یہاں رہا تو کچھ بہت غلط ہو جائے گا” وہ دوبارہ واپس مڑ گیا

“تمہیں تمہاری ماں کی قسم ہے باران مجھے اکیلے چھوڑ کر مت جاؤ مجھے تمہاری ضرورت ہے”

باران کو لگا وہ اب کبھی سانس نہیں لے سکے گا وہ بالکل سن ہو گیا زندگی میں پہلی بار کسی نے اسے اس کی ماں کی قسم دی تھی وہ اپنی ماں کے نام پر اپنی جان بھی قربان کر سکتا تھا پھر اسے تو یہاں بس رہنا تھا کیا وہ اپنی ماں کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتا

دلاور خان اچھے سے جانتے تھے کہ انہیں اپنے بیٹے سے کس طرح بات منوانی ہے ہاں انہیں پتا تھا کہ ان کی باتوں سے ان کے بیٹے کو تکلیف ہوگی لیکن انہیں اپنے بیٹے کو یہاں روکنا ہی تھا انہیں اپنی دستار اسے سونپنی تھی آخر وہ انکا اکلوتا وارث تھا اسے اب یہ سب سیکھ لینا چاہیئے جس کے لیے اس کا یہاں ہونا ضروری تھا

وہ پلٹا اسکی انکھوں میں شدید غصہ تھا صرف اور صرف اس عورت کے لیے وہ اس عورت کو جیسے دیکھ رہا تھا ایسا لگتا تھا کہ وہ اس عورت کی روح کھینچ لے گا

دلاور خان نے اگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے اپنے باپ کو دیکھا افسوس اور غصے کی ملی جلی نظروں سے

وہ بنا کچھ کہے وہاں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اس کے قدم مانو منوں کے ہو گئے ہوں مگر وہ اپنے قدموں کو گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے تک لے گیا اور دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ بند کیا جس سے پوری خان حویلی لرز کر رہ گئی۔

دروازے کی آواز سن کر دلاور خان نے ایک بار کو اپنی آنکھیں بند کیں مگر وہ خوش تھے کہ ان کا بیٹا یہاں آگیا وہ آنکھوں سے بختاور ( دلاور خان کی دوسری بیوی ) کو تسلی دیتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“رابیل بیٹا دھیان سے ابھی تمہارا ہاتھ جل جاتا”

حسن صاحب کچن میں داخل ہوئے جہاں رابیل چائے بنا رہی تھی مگر وہ نہ جانے کن خیالات میں کھوئی ہوئی تھی کہ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ چائے ابل کر اس کے ہاتھوں پر گرنے والی تھی اسے اپنے باپ کی آواز پر ہوش آیا

حسن صاحب گیس بند کر چکے تھے “سوری بابا آپ جائیں میں۔۔۔۔۔ میں چائے لاتی ہوں”

وہ جلدی سے چائے کب میں ڈالنے لگی حسن صاحب اسے ایک نظر دیکھتے باہر کی طرف بڑھ گئے انہیں پتہ تھا رابیل کو ابھی کچھ دن لگیں گے اس صدمے سے باہر نکلنے کے لیے وہ چپ چاپ صوفے پر آ بیٹھے تھوڑی دیر بعد رابیل چائے لے آئی انہیں یہاں آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا گھر کی حالت اب قدرے بہتر تھی رابیل نے دن رات اس گھر کو صاف کرنے میں لگا دیا تھا وہ گھر اب اتنا برا نہیں لگ رہا تھا بس گھر میں اگر ایک بار پینٹ کروا دیا جاتا تو وہ گھر بہت خوبصورت لگتا

“بیٹا رابیل تم اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لو سارا دن گھر میں فارغ رہتی ہو تھوڑی مصروف ہو جاؤ گی”

حسن صاحب نے چائے کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا

“مگر بابا میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں”

رابیل کو صرف اور صرف اپنے باپ کا خیال تھا کاش کاش کاش وہ پہلے ہی اپنے باپ کا خیال کر لیتی تو اسے آج یہ سب نہ دیکھنا پڑتا اس نے شدت سے چاہا تھا کہ وہ وقت کو بدل دے وقت کو واپس لے جائے اور اس رابیل کو قتل کر دے جس نے وہ گناہ کیا مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا

“تم بالکل میری فکر مت کرو میں بھی کوئی مصروفیت ڈھونڈ ہی لوں گا مجھے کل رات بھائی صاحب کی کال آئی تھی میں نے ان سے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے ہمیشہ سے بزنس صرف اور صرف آپ کو دیا ہوا تھا مگر اب مجھے میرا حصہ چاہیئے بس کچھ دنوں میں وہ مجھے میرا حصہ دے دیں گے تو میں بھی مصروف ہو جاؤں گا کوئی چھوٹا موٹا بزنس شروع کر لوں گا اور ہم دونوں باپ بیٹی کا گزارا اچھے سے ہو جائے گا تم میری فکر مت کرو بس اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لو”

حسن صاحب نے چائے کا کپ میز پر رکھ دیا

“تم چائے بہت اچھی بناتی ہو رابیل بہت اچھی دیکھو میں نے کتنی جلدی گرم چائے پی لی”

حسن صاحب نے خالی کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا رابیل بس مسکرا ہی سکی

وہ چاہتی تھی کہ اس کا باپ اس سے پوچھے کہ کیا رابیل تم نے واقع وہ گناہ کیا تھا یا نہیں مگر حسن صاحب تو بالکل چپ تھے جیسے انہیں اپنی بیٹی پر بہت زیادہ یقین ہو کہ ان کی بیٹی کوئی ایسا کام کر ہی نہیں سکتی مگر رابیل چاہتی تھی کہ وہ اس سے پوچھیں اور وہ انہیں بتائے کہ بابا اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی بہت بڑی غلطی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باران، د دروازہ خلاص کړه زه دي خپاره يو خواړ غوښتي يم

“باران دروازہ کھولو میں تمہارے لیے کھانا لائی ہوں”

بختاور نے باران کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا مگر اندر سے کوئی جواب نہیں ایا

باران !

بختاور نے ایک بار پھر دستک دی

باران ، خدا د لپارہ خواړ وختي

“باران خدا کے لیئے کھانا کھا لو “

بختاور نے ایک بار پھر دستک دی

کچھ دیر بعد دروازہ کھل گیا اور وہ انتہائی غصے میں باہر آیا

ته دي مور شان نه وختي

“تم زیادہ میری ماں بننے کی کوشش نہ کرو”

باران کو انتہائی غصے میں دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہٹی

خان بی بی شوہ ، دا کافی دی ، ته ځای ووښټے

“خان بی بی بن گئی ہو یہ کافی ہے ، جاؤ یہاں سے”

باران کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بختاور کے ساتھ کیا کر دے

راتلوني زما په وړاندی راتګ ونه لري

“آئندہ میرے سامنے آنے کی ہمت نہ کرنا”

باران ، زما وینا اور وغورئ

“باران میری بات تو سنو”

بختاور نے کچھ کہنے کی کوشش ہی کی تھی کہ

باران نے اسکے منہ پر دروازہ بند کر دیا اور بختاور مایوس ہو کر وہاں سے واپس آگئی اس رات باران نے کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی وہ سویا وہ ساری رات اپنی ماں کو یاد کرتا رہا اسے لگا یہ وہی رات ہے جس رات اسکی ماں مری تھی اسے بلکل ویسا ہی درد اپنے سینے میں محسوس ہو رہا تھا اسکے پاس اسکی ماں کا بے جان وجود تو نہ تھا مگر انکی تصویر تھی وہ تصویر جو وہ نو سال کا بچہ اپنے گھر سے نکلتے وقت چھپا لایا تھا اسکے بعد وہ کبھی اپنے گھر نہیں گیا اسے لگتا تھا اگر وہ دوبارہ اس گھر میں جائے گا تو اسکی روح نکل جائے گی اس گھر کے کونے کونے میں اسکی ماں کی یادیں تھیں اسے لگتا تھا وہ وہاں جا کر پاگل ہو جائے گا اسی لیئے وہ وہاں نہیں گیا

ایک دفعہ اس نے ہمت کی تھی کہ وہ اس گھر میں چلا جائے سکول سے چھٹی کے بعد وہ وہاں گیا تھا مگر گھر کے اندر قدم تک نہ رکھ سکا اور وہاں سے چلا آیا تب سے آج تک وہ وہاں نہیں گیا

“موم آپ کیوں چلی گئیں ۔۔۔۔ مجھے چھوڑ کر کیوں چلیں گئیں آپ” وہ اپنی ماں کی تصویر سے سوال کر رہا تھا مگر اس تصویر نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ ساری رات روتا ہی رہا اسنے اس رات سونے کی کوشش کی کہ کیا پتا اسکی ماں اسکے خواب میں آ جائے اور وہ انہیں دیکھ لے مگر اسے نیند نہیں آئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“باران تم جاننا چاہتے ہو نا کہ میں نے دوسری شادی کیوں کی تو جان لو جس دن ہم یہاں آئے تھے تو تمہارے دادا نے ایک شرط رکھی تھی”

هغي مړه شو

“وہ مر گئی”

دلاور خان اپنے باپ مراد خان کے سامنے کھڑے تھے نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں ان کے ساتھ ایک نو سال کا بچہ کھڑا تھا جو مسلسل اپنے باپ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا تھا اس وقت دلاور خان اپنے باپ اور بیٹے کے ساتھ خان حویلی میں موجود تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خان حویلی میں صرف وہی تین لوگ موجود ہیں اور کوئی انسان تو کیا چرند پرند بھی وہاں نہیں تھا شاید وہاں رہنے والے نوکروں کو خاص منظر سے غائب رہنے کی ہدایت دی گئی تھی مراد خان لاونج کے وسط میں نہایت خوبصورت صوفے پر موجود تھے جو سب سے منفرد تھا خاص طور پر سردار کے لیئے تیار کردہ تھا شاید وہ

دا ستا زوی دی؟

“یہ تمہارا بیٹا ہے “

دلاور خان نے اس بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ بچہ مزید اپنے باپ کے پیچھے چھپ گیا

دہ نوم څه دی ؟

“کیا نام ہے اسکا “

وہ بلکل عام انداز میں پوچھ رہے تھے

باران

دلاور خان نے اپنے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھ کر اسکا نام بتایا

ښه نوم دی ، باران راشه

“اچھا نام ہے باران ادھر آ ؤ!”

انہوں نے باران کو اپنی طرف بلایا

مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا

Baran go to him

“باران انکے پاس جاؤ “

دلاور خان نے اسے آ گے کرتے ہوئے کہا جو شاید تھوڑا ڈرا ہوا تھا

دا ستا پښتو نه راشي

“کیا اسے پشتو نہیں آتی”

مراد خان نے استفسار کیا

نه زه پښتو سمجهم

“نہیں مجھے پشتو آتی ہے “

وہ اپنے باپ کے پیچھے سے نکل کر

مراد خان کی طرف بڑھا

ښه دی

اچھا ہے

ایښوږه

بیٹھو

انہوں نے اسے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا لیا

Dilawar I am ready to accept you and your son but

دلاور خان نے یہ چیز شاید اپنے باپ سے ہی سیکھی تھی کہ وہ بھی اہم بات کسی دوسری زبان میں کرتے تھے کیونکہ انکے گھر کے ملازم پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے انکی بات نہ سمجھ سکتے تھے جبکہ سردار کو خاص طور پر پڑھایا جاتا تھا کیونکہ اسے دنیا میں نکلنا ہے اور ویسے بھی سردار کو سب سے الگ ہونا چاہیئے سردار کو پڑھانے کا رواج ابھی ایک دو پوشتوں سے ہی شروع ہوا تھا ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا

Whatever you will say baba I will do anything plz forgive us

دلاور خان دوڑ کر اپنے باپ کے قدموں میں جا بیٹھے تھے اور انکی ہر شرط ماننے کو تیار بھی ہوگئے تھے بغیر یہ جانے کہ اسکی انکو کتنی بڑی سزا بھگتنی ہوگی

Baran go outside there are horses outside waiting for you go

مراد خان نے باران کو باہر جانے کے لیئے کہا تو وہ گھوڑے دیکھنے کے لیئے باہر چلا گیا

You have to get married again with your cousin bakhtawar who is sitting just on your name for ten years

مراد خان نے اپنے بیٹے کے سامنے شرط رکھ دی

ایک لمحے کو دلاور خان کے چہرے پر سایہ سا لہرا مگر وہ پھر خود کو سنبھال گئے

انہوں نے نا چاہتے ہوئے بھی ہامی بھر لی۔

اس وقت دلاور خان باران کے کمرے میں موجود تھے یہ وہی جانتے تھے کہ کس طرح انہوں نے باران سے کمرے کا دروازہ کھلوایا تھا

انہیں لگا کہ اب انہیں باران کو سب بتا دینا چاہیئے

“کیا ضرورت تھی بابا انکی شرط ماننے کی”

باران کو ابھی بھی وہی گنہگار لگ رہے تھے

“باران میں تمہیں اکیلے کہاں لے جاتا

پہلے میں تمہیں تمہاری ماں کے بھروسے چھوڑ جاتا تھا مگر اسکے بعد تمہیں اکیلے کہاں چھوڑتا”

انکا انداز سمجھانے والا تھا

“کیوں بابا کیا میں ساری زندگی ہوسٹل میں نہیں رہا میں تو چلا گیا تھا یہاں سے پھر آپ نے کیوں کی دوسری شادی

اس دن جب مراد خان نے مجھے باہر بھیجا میں نہیں گیا تھا میں وہیں تھا میں نے انکی ساری باتیں سن لی تھیں مجھے لگا کہ اگر میں یہاں سے چلا جاؤں گا تو آپ دوسری شادی نہیں کریں گے مگر آپ نے دوسری شادی کر لی کیوں بابا ۔۔۔ آخر کیوں”

دلاور خان اسکی بات پر حیران ہوئے تھے کہ وہ سب جانتا تھا مگر انکے پاس باران کے سوال کا جواب نہیں تھا

“باران بہت جلد تمہیں پتا چل جائے گا کہ میں نے ایسا کیوں کیا”

دلاور خان اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے وہاں سے آگئے

باران بس اپنے باپ کو غصے سے دیکھتا ہی رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرا دن

“بابا دانین نے کہا کہ آپ نے مجھے بلایا”

رابیل اپنے باپ کے قریب کھڑی ہوئی

“رابیل بیٹا کیا ہو گیا ہے تمہیں تم آج کل کمرے سے باہر ہی نہیں آتی” حسن صاحب نے رابیل کو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا

“نہیں بابا آپ کو تو پتا ہے اب کالج کے بعد میں بالکل فارغ ہوں تو میں اپنے اس ٹائم کو بہت انجوائے کرنا چاہتی ہوں سارے ٹی وی شوز میں دیکھ کر ہی رہوں گی”

رابیل نے میز پر رکھے ہوئے ڈرائے فروٹس کے ڈبے پر حملہ کر دیا

“اتنی کیا جلدی ہے سارے ٹی وی شوز دیکھنے کی گھر والوں کے ساتھ بھی بیٹھ جایا کرو” حسن صاحب کو اس کی عقل پر افسوس ہوا

بابا پلیز پلیز مجھے دیکھنے دیں پھر یونیورسٹی جب جاؤں گی تو اتنی مصروف ہو جاؤں گی کہ اس ٹائم کو ترسوں گی کہ کاش میں نے اپنے فارغ وقت میں سب جو میں کرنا چاہتی ہوں وہ کر لیا ہوتا”

اب رابیل کو کون سمجھائے کہ زندگی ٹی وی شوز سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتی ہے

“اچھا بھائی اچھا جو جی میں آئے کرو میں نے تو تمہیں اسی لیے بلایا تھا کہ ہم باپ بیٹی مل کر کچھ دیر باتیں کر لیں گے ثوابیہ کے جانے کے بعد تو میں بالکل ہی اکیلا ہو گیا ہوں” حسن صاحب نے اسے ایموشنل بلیک میل کرنا چاہا

“ہاں تو میں آ تو گئی ہوں” رابیل کو تھوڑی شرمندگی ہوئی

“ہاں تو اب کریں باتیں” رابیل نے ڈرائے فروٹس کی بھری ہوئی مٹھی اپنے منہ میں انڈیلی

“تم کرو باتیں بتاؤ ٹی وی شوز میں کیا دیکھتی ہو کون کون سے ٹی وی شوز آج کل نئے لگے ہیں”

حسن صاحب دلچسپی سے پوچھ رہے تھے

“بابا میں ٹرکش سیریز دیکھتی ہوں اتنی مزے کی ہوتی ہیں آپ بھی دیکھیں آپکو بہت مزا آئے گا”

رابیل تو یک دم ایکسائٹڈ ہو گئی تھی

“اچھا وہ ارتغرل غازی اور عثمان والی سیریز”

حسن صاحب نے اندازہ لگانا چاہا

‘ارے نہیں بابا وہ تو دیکھ بھی لی ہیں آپ وہ دیکھیں الپ ارسلان اج کل میں وہی دیکھ رہی ہوں بہت مزے کی سیریز ہے اس کے بعد کچھ کورین سیریز بھی ہیں مجھے وہ بھی دیکھنی ہے میں بہت مصروف ہوں آج کل”

رابیل تو ایسے کہہ رہی تھی جیسے ساری دنیا کو رابیل نے ہی سر پر اٹھایا ہوا ہے

“اچھا بھائی بہت مصروف ہو تم پر اپنے باپ کے لیے تھوڑا ٹائم نکال لیا کرو”

حسن صاحب نے اس سے ڈرائے فروٹس کا ڈبہ چھینتے ہوئے کہا جو اب آدھے سے بھی کم رہ چکا تھا

رابیل نے انہیں ڈبہ چھینتے ہوئے دیکھ کر منت بھری نگاہوں سے التجا کی

“ایسے کون کھاتا ہے “

حسن صاحب نے ڈبہ بند کر کے میز پر رکھا پر وہ اس میں سے چند ڈرائے فروٹس نکالنا نہ بھولے تھے جو انہوں نے اپنی جیب میں ڈال لیئے

“ڈرائے فروٹس کو مزے سے ایک ایک کر کے چبا چبا کر کھانا چاہیئے ہر ڈرائے فروٹس کا ذائقہ محسوس کر کے کھانا چاہیے یہ کیا کہ مٹھی بھر کر منہ میں ڈالے جا رہی ہو”

حسن صاحب اسے سمجھا رہے تھے مگر وہ ان کی ہر بات پر الگ الگ منہ کا زاویہ بنا رہی تھی

“حسن میری بات سننا ذرا “

حسین صاحب نے حسن صاحب کو لاؤنج سے گزرتے ہوئے بلایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے حسن صاحب بھی رابیل کو ان کا انتظار کرنے کا کہہ کر حسین صاحب کے پیچھے ان کے کمرے میں چلے گئے

رابیل نے دوبارہ ڈرائے فروٹس کا ڈبہ اٹھا لیا اور مٹھی بھر بھر کے کھانے لگی پھر نہ جانے کس خیال کے تحت اس نے صوفے پر رکھا حسن صاحب کا موبائل اٹھا لیا اور اس میں کچھ سرچ کرنے لگی نہ جانے اسے کیا سوجھی وہ جہاںزیب کا نمبر سرچ کرنے لگی جو اسے جلد ہی مل گیا اس کے موبائل میں جو جہانزیب کا نمبر تھا جس سے وہ جہانزیب سے بات کرتی تھی وہ تو اسے یاد ہی تھا اب رابیل جہاںزیب کا نمبر یاد نہیں کرے گی تو کون کرے گا

شکر خدا کا یہ وہی نمبر تھا جو اس کے باپ کے موبائل میں سیو تھا جس پر وہ جہانزیب سے بات کرتی تھی اسکے کاندھوں سے منوں کا وزن دور ہو گیا پھر اسنے موبائل رکھ دیا اور مزے سے ڈرائے فروٹس کھانے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“رابیل تم نے سب کو سچ کیوں نہیں بتایا میں جانتی ہوں تم ایسا نہیں کر سکتی اور ایسا نہیں ہے کہ بابا اور امی کو تم پر شک ہے مگر تم اپنی صفائی میں کچھ تو کہتی”

دانین رابیل کو پچھلے دو دنوں سے کال کر رہی تھی مگر رابیل کال اگنور کر رہی تھی پہلے تو رابیل نے فون ہی بند کر دیا مگر آج جب اس نے دانین کا منتوں بھرا میسج پڑھا تو اس نے دانین کی کال اٹھا لی

“دانین میں کیا بتاتی جو بھی ہوا جس طرح بھی ہوا جہاں سے بھی مجھے لایا گیا میں وہاں تھی تو

اور مجھے وہاں کوئی زبردستی نہیں لے گیا تھا میں وہاں خود اپنی مرضی سے گئی تھی اس کے بعد میری کسی دلیل کا کیا جواز بنتا تھا”

وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی جہاں سے باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا وہاں چٹیل میدان تھا صرف اور صرف چٹیل میدان

“مگر پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری زندگی کا سوال تھا تمہیں کچھ تو کہنا چاہیئے تھا”

دانین کو اس پر افسوس ہوا

“چھوڑو دانین کوئی اور بات کرو میں اور بابا یہاں پر ٹھیک ہیں ہم دونوں اس بارے میں اور کوئی بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس واقعے کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے تم کوئی اور بات کرو”

رابیل نے کھڑکی بند کرنی چاہی پر وہ شاید اٹک چکی تھی

“کیا رابیل تمہیں پتہ ہے کہ “۔۔۔۔

دانین بولتے بولتے رک گئی

“کیا پتہ ہے بتاؤ” رابیل مسلسل کھڑکی بند کرنے کی کوشش کرتی رہی مگر وہ کھڑکی شاید پرانی ہونے کی وجہ سے اٹک چکی تھی

“رابیل۔۔۔۔۔۔رابیل جہاںزیب بھائی شادی کر رہے ہیں”

ربیل رک گئی اس کی سانس بند ہو گئی آس پاس کا منظر تھم گیا

“ان کی کوئی یونیورسٹی فرینڈ ہے شاید سلینہ نام ہے اس کا اس سے شادی کر رہے ہیں وہ پندرہ تاریخ کو نکاح ہے ان کا”

دانین بتا رہی تھی مگر وہ تو کچھ سن ہی نہیں پائی اسے تو بس اتنا سنائی دیا کہ جہانزیب کسی اور سے شادی کر رہا ہے

“بابا وہاں گئے تھے تمہاری خالہ سے بات کرنے کہ وہ ایسا کیسے کرسکتی ہیں پر انہوں نے بابا کو یہ کہہ دیا کہ یہ جہانزیب کی مرضی ہے کل جہانزیب بھائی خود آئے تھے شادی کا کارڈ لے کر بابا نے تو انہیں دھکے مار کر گھر سے نکال دیا اچھا کیا بابا نے ایسا ہی کرنا چاہیئے تھا”

“رابیل تم سن رہی ہو”

کچھ دیر خاموشی چھائی رہی

“رابیل تم سن رہی ہو” دانین کو لگا کے رابیل نہیں سن رہی اس لیے اس نے دوبارہ پوچھنا ضروری سمجھا

رابیل نے اس کی بات نہیں سنی اور فون کاٹ دیا وہ محسوس کر سکتی تھی کہ اس کا دل نہیں دھڑک رہا وہ اپنے سامنے موجود اس چٹیل میدان سے بھی زیادہ بیابان ہو گئی تھی بالکل خالی

کیا اس نے جہاںزیب کو بھی کھو دیا اپنی عزت جسے پانے کے لیئے کھوئی کیا اسنے اسے بھی کھو دیا کیا اس نے سب کچھ کھو دیا اس کا دل دھڑکنے کی بجائے اسے یہ سوال کر رہا تھا اور اس کا جواب وہاں موجود ہر شے وہ چٹھیل میدان وہ تیز دھوپ اور وہ گرم لو اسے بہت اونچی آواز میں سنا رہے تھے کہ ہاں تم نے سب کھو دیا سب کچھ کھو دیا

وہ رونا چاہتی تھی مگر کیا اسے رونا چاہیئے اس شخص کے لیئے جسکی وجہ سے وہ اپنے باپ سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس دن وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی سارا دن وہ بس اپنے بستر پر لیٹی لیٹی خالی نظروں سے چھت کو گھورتی رہی اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ زندہ ہے اسے لگا وہ مر چکی ہے اور مرے ہوئے لوگ ہلا نہیں کرتے وہ بے جان ہوتے ہیں اور وہ بالکل بے جان اس بیڈ پر پڑی رہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہوش کی دنیا میں تب آئی جب حسن صاحب نے دروازہ کھٹکھٹایا

نہیں وہ اپنے باپ کو اور دکھ نہیں دے سکتی تھی اسے اٹھنا تھا اسے ہمت کرنی تھی وہ بالکل نارمل انداز میں اپنے باپ کے سامنے جانا چاہتی تھی

پانی کے دو تین چھینٹے منہ پر مار کر اسے لگا اسکا باپ اسکی حالت کا اندازہ نہیں لگا سکے گا

“بیٹا تمہاری طبیعت ٹھیک تو ہے تم کل سے اپنے کمرے سے باہر نہیں آئی تم ٹھیک تو ہو ” حسن صاحب اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو گئے تھے

” جی بابا میں ٹھیک ہوں بس تھکاوٹ ہو رہی تھی تو نیند آ گئی اور پھر پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کھانا بنا لیتی ہوں آپ بیٹھیں میں لاتی ہوں کھانا”

وہ اپنے باپ سے نظریں چراتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی اسے پتہ تھا اس کے باپ کو اندازہ ہے کہ سوجی ہوئی آنکھیں صرف تھکاوٹ کی وجہ سے نہیں ہے کچھ ہے جو وہ چھپا رہی ہے اور ایسا ہی تھا حسن صاحب کو اندازہ تھا مگر ابھی کیا انہیں اپنی بیٹی سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ کیا ہوا

وہ جن حالات سے گزر رہی تھی یقینی سی بات تھی کہ اس کے رونے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ابھی انہیں اپنی بیٹی کو وقت دینا تھا وہ سنبھل جائے گی یقیناَ ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک مضبوط باپ کی مضبوط بیٹی تھی وہ سنبھل جائے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

← Episode 2

Advertisement

More by Nida e Eman